50

یکساں نصاب تعلیم ۔۔۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم؟ ( تحریر-میاں عصمت رمضان)

پاکستان کے جاگیردارانہ ‘ طبقاتی معاشرہ میں یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنا کسی جہاد سے کم نہیں۔ملک کے امیر‘ دولتمند لوگ یہ نہیں چاہتے کہ انکے بچے وہی تعلیم حاصل کریں جو کم آمدن والے گھرانوں کے بچے حاصل کرتے ہیں۔ انکے بچے بھی وہی زُبان بولیں جس میں غریب غربا گفتگو کرتے ہیں۔ امیر لوگ چاہتے ہیں کہ انکی اولاد شروع دن سے عوام الناس سے منفرد و ممتاز ہو‘ اُن سے برتر نظر آئے۔
دو سوال بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ پہلا سوال یہ ہے کہ یکساں نصاب تعلیم کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی اور دوسرا سوال یہ ہے کہ اس مقصد کے حصول کے لیے حکومت کی پالیسی کیا ہے؟ ان دونوں سوالات کا جواب پریشان کن ہے۔
حکومت کا خیال ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام ملک میں طبقاتی تقسیم پیدا کر رہا ہے اور نصاب یکساں کر دینے سے یہ تقسیم ختم ہو جائے گی۔ یہ انداز فکر نرم سے نرم الفاظ میں سادگی کے سوا کچھ نہیں۔ ملک میں طبقاتی تقسیم کی وجہ نظام تعلیم سے زیادہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ وسائل کی اس تقسیم نے معاشرے کا یہ حال کر دیا ہے کہ دو کروڑ سے زائد بچے تو سکول جا ہی نہیں پا رہے۔ اس خوفناک معاشی پہلو کو مخاطب بنانے کی بجائے یکساں نصاب سے کیا خیر برآمد ہو سکے گی؟ گویا جس اصول سے استنباط کیا جا رہاہے وہ اصول ہی درست نہیں۔
طبقاتی تقسیم کا جزوی طور پر بے شک تعلیم سے بھی تعلق ہے لیکن وہاں بھی اصل چیز ماحول کا تفاوت ہے۔ نئے بندوبست میں آپ مدارس کو چند مزید کتابیں پڑھنے کے لیے پابند بھی کر دیں تب بھی سکول اور مدرسے کے ماحول کا یہ تفاوت برقرار رہے گا۔ ایک عام سکول اور ایچی سن میں بھی ماحول کا جو فرق ہے وہ چار کتابوں کی یکسانیت سے دور نہیں ہو گا۔
نصاب تعلیم بچوں کا کھیل نہیں۔ اس کا تعلق قوم کی نسلوں سے ہوتا ہے۔ اس میں کسی بھی تبدیلی سے پہلے ایک وسیع تر مشاورت اور مسلسل غوروفکر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک سہانی صبح پنجاب کابینہ اٹھے اور فیصلہ کر دے کہ اس سال سے یکساں نصاب تعلیم نافذ کیا جاتا ہے یا ایک شام سینیٹ سے اعلان ہو جائے کہ آج سے عربی زبان لازمی مضمون قرار دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ نصاب میں تبدیلی مقصود ہے تو وہ علمی اور فکری مشق کہاں ہے؟
یہ بھی واضح نہیں کہ نصاب تعلیم کے یکساں ہونے کا مطلب کیا ہے۔ کیا تمام تعلیمی اداروں کو ایک نیا نصاب پکڑایا جائے گا یا مختلف اداروں سے کہا جائے گا کہ اپنا اپنا نصاب جاری رکھیے لیکن ان چند مشترکات کو بھی ساتھ شامل کر لیجیے۔ بعض اداروں میں بین الاقوامی ماہرین کا تیار کردہ نصاب پڑھایا جا رہا ہے۔ یہ نصاب گویا طلبہ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ دنیا کی دانش اجتماعی سے فیض یاب ہو سکیں۔ یکسانیت کے نعرے کی آڑ میں اگر طلبہ کو اس علمی ورثے سے محروم کیا جاتا ہے اور پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ماہرین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے تو یہ ایک المیہ ہو گا۔
کساں نصاب تعلیم کی بجائے حکومت کو ایک ”کم از کم“ معیار کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے کہ اپنے بچوں کو ہم لازمی طور پر اس حد تک تعلیم سے آراستہ کریں گے۔ اس کے بعد کوئی حد نہیں ہوتی۔ اس کے بعد فضائیں آزاد ہوتی ہیں جو پرندہ جتنی استعداد اور ذوق رکھتا ہو اڑتا پھرے۔
یکساں نصاب کو نافذ کرنے میں بعض مشکلات کورونا وبا کے باعث پیدا ہوئی ہیں کیونکہ تعلیمی ادارے جزوی طور پر آن لائن تعلیم دے رہے ہیں۔ سارا نظام تلپٹ ہے۔ ان حالات میں اسکولوں پر یکساں نصاب تعلیم کی تبدیلی کے مطابق خود کو ڈھالنے کا اضافی بوجھ پڑ گیا ہے۔ اس صورتحال میں حکومت اسکولوں کا مہلت دے کہ وہ اس پر اسی سال مکمل عمل کرنے کی بجائے دو تعلیمی برسوں میں یہ عمل مکمل کرلیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں