27

17000 ملازمین کی برطرفی دراصل سترہ ہزار خاندانوں کا معاشی قتل ہے: صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کا بھوک ہڑتالی کیمپ کے مظاہرین سے خطاب

17000 ملازمین کی برطرفی دراصل سترہ ہزار خاندانوں کا معاشی قتل ہے: صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری کا بھوک ہڑتالی کیمپ کے مظاہرین سے خطاب
لاہور (ٹیوٹرپاکستان): لاہور پریس کلب میں جاری بھوک ہڑتالی کیمپ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا ہے کہ صحافی برادری مختلف محکموں سے برطرف کیے جانے والے 17000 ہزار ملازمین کے ساتھ کھڑی ہے اور ان سے مکمل اظہار یک جہتی کرتی ہے-
اپنے خطاب میں انھوں نے مظاہرین کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ملازمین کے حق میں نظر ثانی اپیل میں گئی ہوئی ہے اورقوی امید ہے کہ تمام ملازمین جلد بحال ہوجائیں گے.انھوں نے کہا کہ پنجاب میں وفاقی اداروں سے نکالے گئے ملازمین اس طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں جو ہینڈ ٹو ماؤتھ ہیں۔ ایک مہینے تنخواہ نہ ملنے کا مطلب روٹی نہ ملنا ہے۔
ارشد انصاری نے کہا کہ یہ ایک مہینے کی بات نہیں، بلکہ یہاں تو ان ملازمین کو سرے سے ہی نکال دیا گیا ہے۔ جو سرا سر معاشی قتل پےانھوں نے کہا کہ جس جذبے سے..انھوں نے کہا کہ ان ملازمین نے اپنی عمر کا سنہری حصہ ان سرکاری اداروں کو دیا اور آج یہی لوگ بے یارو مددگار سڑکوں پر بیٹھے ہیں.
اس موقع پر رہنما آل پاکستان سیکڈ ایمپلایز کے رہنماء خاور سلیم نے بھی شرکاء سے خطاب کیا اور اس جدوجہد کو قومی جدوجہد کا نام دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ استحصال ہے جس کے خلاف یہ ملازمین بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔ ان کا کھانا پینا بند کرواکر کونسا معاشی معرکہ مارنا مقصود ہے؟ خدارا ہمارے منہ سے نوالہ نہ چھینیں اور ملازمین کو فوری بحال کریں،
۔برطرف ملازمین کے نمائندوں نے اور شرکاء نے اس موقع پر عہد کیا کہ یہ احتجاج اب یہاں نہیں رکے گا، بلکہ اسلام آباد تک جائے گا۔ جہاں قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا جائے۔
اس موقع پر مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی بھی کی..
بھوک ہڑتالی کیمپ کے چوتھے روز پی ایف یو جے کے عہدیداروں اور برطرف ملازمین کی کثیر تعداد نے شرکت کی..

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں