20

17000 ملازمین کی برطرفی سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے : معروف سماجی رہنما عبداللہ ملک اور ٹریڈ یونینز کے عہدےداروں کا بھوک ہڑتالی کیمپ کے مظاہرین سے خطاب

لاہور (ٹیوٹرپاکستان): لاہور پریس کلب میں جاری بھوک ہڑتالی کیمپ میں مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے معروف سماجی رہنما عبداللہ ملک اور ٹریڈ یونین کے عہدیداروں نے کہا ہے کہ مختلف محکموں کے 17000 ہزار ملازمین کی برطرفی سے انسانی المیہ جنم لے رہا ہے.
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے 17 اگست کے فیصلے کے بعد سے 12 متاثرہ ملازمین کی ہلاکت کا معاملہ بذات خود انصاف کے نظام پر سوالیہ نشان ہے…
انھوں نے کہا کہ ہیومن رائٹس کی تنظیموں کو متاثرہ ملازمین کی ذہنی اذیت اور دکھ درد کا مکمل طور پر احساس ہے..
انھوں نے کہا کہ پوری قوم 17000 ملازمین سے مکمل طور پر اظہار یک جہتی کرتی ہے-
اپنے خطاب میں انھوں نے مظاہرین کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت ان ملازمین سے ہمدردی رکھتی ہے تو فوری طور پر ان کی داد رسی کرے. انھوں نے کہا کہ نظر ثانی اپیل میں ابھی تک کوئی پیش رفت نہ ہونا باعث تشویش ہے..
سوئی ناردرن گیس کمپنی لاہور ریجن کے سی بی اے رہنماقاری عبدالستار اور شبیر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر اعلی عدلیہ فوری طور پرری ویو پٹیشن پر سماعت شروع کر کے انصاف کے تقاضے پورے کرے تو قوی امید ہے کہ تمام ملازمین جلد بحال ہوجائیں گے..
انھوں نے کہا کہ ملک بھر سے وفاقی اداروں سے نکالے گئے ملازمین اس طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں جو بمشکل اپنے بچوں کے اخراجات اور دال روٹی پوری کرتے ہیں۔ اور
عمر کے اس حصے میں بر طرفی کا مطلب حلق سے نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ دنیا کے کسی آئین یا تاریخ میں ایسی مثال نہیں ملتی کہ 2009 میں بارہ سال بعد پارلیمنٹ کے ایکٹ کی روشنی میں بحال ہونے والوں سے ملک کی اعلی عدلیہ پھر سے یک جنبش قلم دوباہ روز گار چھین لے..
معروف سینئر صحافی اور سابق صدر لاہور اک امک جرنلسٹس ایسوسی ایشن مظہر اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ زندگی کے 25 قیمتی سال اداروں میں ریگولر جاب کرنے والوں کی خدمات کو اتنی بے دردی سے ردی کی ٹوکری میں پھینکنا قابل مذمت ہے انھوں نے کہا کہ ملازمین کی برطرفی کا فیصلہ سرا سر معاشی قتل پے اور انھیں یوں بے یارو مدد گارسڑکوں پر بٹھا دیا جانا انتہائی تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہے. انھوں نے اتنی زیادہ برطرفیوں کو حکومت اور ملک کے خلاف سازش قرار دیا.
ان کا کہنا تھا کہ یہ ملکی تاریخ کا بد ترین معاشی استحصال ہے ۔ملازمین کے بچوں سے روٹی چھیننا اور سکول سے باہر کروانا کونسا معاشی معرکہ ہے؟
انھوں نے حکومت اور عدلیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خدارا برطرف کیے جانے والے 17000 ملازمین کو فوری طور پر بحال کیا جائے..
اس موقع پر مظاہرین نے اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی بھی کی..
بھوک ہڑتالی کیمپ کے چھٹے روز مقامی صحافیوں دیگر سماجی عہدیداروں ‘ سول سوسائٹی اور برطرف ملازمین کی کثیر تعداد نے شرکت کی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں