118

2025 کے آخری لمحے ایک عہد، ایک سوال۔۔۔۔۔تحریر ۔ رخسانہ سحر

سال کے آخری لمحے ہمیشہ محض کیلنڈر کی تبدیلی نہیں ہوتے، یہ دراصل خود احتسابی کے لمحے ہوتے ہیں۔ 2025 بھی رخصت ہو رہا ہے مگر اپنے ساتھ بہت سے سوال، بہت سی تھکنیں اور کچھ انجانی سی امیدیں چھوڑے جا رہا ہے۔ عروج و زوال کے اس سفر میں ایک عجیب سی سچائی ابھر کر سامنے آتی ہے کہ شاید عروج سے زیادہ معنی خیز زوال ہوتا ہے، کیونکہ زوال انسان کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔
سیاسی منظرنامہ ہو یا سماجی بےچینی، معاشی دباؤ ہو یا اخلاقی انحطاط—ہر سمت ایک کشمکش جاری ہے۔ طاقت کے ایوانوں میں بیٹھے چہرے بدل گئے، مگر رویے وہی رہے۔ وعدے کیے گئے، نعروں کی گونج سنائی دی، مگر عام آدمی کے حصے میں پھر بھی سوال ہی آئے۔ یہ ڈھلتا سورج، یہ بکھرتا سونا ہم نے اس سال بہت قریب سے زوال کو دیکھا، اور شاید پہلی بار اُسے سمجھنے کی کوشش بھی کی۔
سماج کے آئینوں میں جھانکیں تو محبتیں بھی عکس بن کر رہ گئی ہیں۔ جو سامنے ہے، وہ دل میں کم ہی اُترتا ہے۔ تعلقات میں وصال بھی ایک عجیب سا بوجھ بن چکا ہے جیسے قریب آ کر بھی فاصلہ کم نہیں ہوتا۔ یہ زمانہ شاید قربت سے زیادہ تماشے کا عادی ہو گیا ہے۔
ان سب کے بیچ اگر کسی چیز نے حیران کیا ہے تو وہ روحانی بیداری کی ہلکی سی لہر ہے۔ ماہِ کامل کی راتوں میں، خاموش سجدوں میں، تنہا آنکھوں کے آنسوؤں میں—ایک جلال سا اُترا ہے۔ شاید یہ وہ لمحہ ہے جہاں انسان نے شور سے تھک کر خاموشی کی طرف دیکھنا شروع کیا ہے۔ سمندروں میں جلال آ گیا ہے، اور دلوں میں ایک بےنام سا سوال جاگ اٹھا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ نہ مکمل غم باقی رہا، نہ پوری خوشی۔ بس ایک حیرت ہے جو دن رات دل پر چھائی ہوئی ہے۔ جیسے ہم سب کسی عبوری کیفیت میں معلق ہیں نہ پیچھے لوٹ سکتے ہیں، نہ آگے کا راستہ پوری طرح واضح ہے۔
اور پھر کچھ ایسے لمحے بھی ہیں جو امید بن کر سامنے آتے ہیں۔ وہ چیزیں جو بانٹنے سے کم نہیں ہوتیں محبت، سخاوت، عنایت، ہدایت۔ جو چھیننے سے نہیں ملتیں، مگر عطا کرنے سے بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ شاید یہی اس سال کا اصل حاصل ہے، یہی وہ مال ہے جو معاشی زوال کے باوجود دلوں کو امیر رکھ سکتا ہے۔
اب جب نیا سال دستک دینے والا ہے تو سوال یہ نہیں کہ وہ کیسا ہوگا، سوال یہ ہے کہ ہم خود کیسے ہوں گے؟ کیا ہم صرف تاریخ بدلیں گے، یا رویے بھی؟ کیا یہ نیا سال ہمارے آنگن میں محض ایک اور ہندسہ بن کر اترے گا، یا واقعی کچھ نیا لے کر آئے گا؟
2025 رخصت ہو رہا ہےعجیب سا سال تھا۔
شاید اس لیے کہ اس نے ہمیں خود سے آمنے سامنے کھڑا کر دیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں