25

PDM کا تیسرا پاور شو کوئٹہ میں جاری

اپوزیشن جماعتوں کے حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کا تیسرا پاور شو کوئٹہ میں جاری ہے۔

کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں پارٹی پرچموں کی بہار میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن، مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز دیگر رہنماؤں کے ہمراہ جلسہ گاہ میں موجود ہیں۔

جلسہ گاہ میں سردار اختر مینگل، محمود خان اچکزئی، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف، انس نورانی، آفتاب شیر پاؤ، امیر حیدر خان ہوتی سمیت دیگر رہنما بھی موجود ہیں۔

کوئٹہ میں ہونے والے جلسے کو شہدائے جمہوریت پاکستان سے منسوب کیا گیا ہے۔

دو سال میں جھوٹی حکومت کا پردہ فاش ہوگیا، راجہ پرویز اشرف
پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما راجہ پرویزا شرف نے کہا ہے کہ دو سال میں جھوٹی حکومت کا پردہ فاش ہوچکا ہے۔
راجہ پرویزا شرف نے حکومت سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ نے عوام سے جھوٹ بولا، الیکشن میں جھوٹے وعدے کیے۔

انہوں نے کہا کہ عوام نے انہیں مسترد کردیا ہے، وقت آگیا ہے کہ حکمرانی وہ کرے جسے عوام منتخب کریں، اب یہ نہیں ہو گا کہ کوئی کرکٹ کھیلتے کھیلتے وزیرِ اعظم بن جائے۔

راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ حکومت کے وزیر کہتے ہیں کہ جلسوں سے حکومت نہیں جاتی، تو پھر آپ کی ٹانگیں کیوں کانپ رہی ہیں؟

سابق وزیرِ اعظم نے یہ بھی کہا کہ یہ لوگ جس طریقےسے آئے تھے وہ طریقہ ہی غلط تھا، اب پاکستان کی ساری جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئی ہیں۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے رہنما امیر حیدر ہوتی نے کہا ہے کہ گوادر پر سب سے پہلا حق بلوچستان کے مقامی لوگوں کا ہونا چاہیے۔

امیر حیدر ہوتی کا کہنا ہےکہ گوادر کے ذریعے ملک ترقی کرے تو ہمیں خوشی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں کبھی آٹا، کبھی گندم اور کبھی چینی غائب ہوجاتی ہے، اٹھارہویں ترمیم کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، سلیکٹڈ کو گھر جانا ہوگا اور کوئی حل نہیں۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ علامہ ساجد میر کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 سال میں اس حکومت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ان میں اہلیت ہی نہیں ہے، ہمیں یہ نیا پاکستان نہیں چاہیئے، اپوزیشن کو مافیا کے طعنے دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت میں آٹا مافیا، چینی مافیا اور پٹرول مافیا بیٹھا ہے، جس چیز کا عمران خان نوٹس لیتے ہیں اُس کی قیمتیں چھلانگیں مارانا شروع کر دیتی ہیں۔

علامہ ساجد میر نے مزید کہا کہ آج غریب آدمی دوائیاں خرید ہی نہیں سکتا، احتساب صرف اپوزیشن کا کیوں، حکومت میں بیٹھے لوگوں کا کیوں نہیں ہوتا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ احتساب نہیں کررہے انتقام لے رہے ہیں، آٹے اور چینی کی قیمتیں بڑھانے والا ہمیں نیا پاکستان ملا ہے، ہمیں یہ نیا پاکستان نہیں چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں