دنیا کی سب سے منافع بخش مگر تباہ کن تجارت…. وہ جو صنعتی ترقی کے نام پر زمین کو زہر، پانی کو فضلہ، اور انسان کو بیماری میں بدل رہی ہے۔ قدرت خبردار کر رہی ہے، مگر دنیا اب بھی منافع کے خمار میں سو رہی ہے۔
یہ وہ تجارت ہے جو سونا نہیں، زہر پیدا کرتی ہے، جو معیشت کو چمکاتی مگر زمین کو جھلسا دیتی ہے۔ دنیا کی سب سے خطرناک تجارت، جس میں ترقی یافتہ ممالک اپنے زہریلے کیمیکلز، پلاسٹک اور صنعتی فضلے کو غریب ملکوں کے ساحلوں پر اتارتے ہیں، جہاں انسان محنت کے بدلے آلودگی سانس میں بھرنے پر مجبور ہے۔ ماحول چیخ رہا ہے کہ زمین مر رہی ہے، مگر سیاست کے ایوانوں میں اب بھی منافع، طاقت اور مفاد کا خمار طاری ہے، اور یہ غفلت آنے والی نسلوں کے لیے زہر سے زیادہ مہلک ہے۔
دنیا میں کچھ تجارتیں بظاہر ترقی، سہولت اور خوشحالی کی علامت نظر آتی ہیں، مگر ان کے پردے کے پیچھے ایک ایسا زہر چھپا ہے جو آہستہ آہستہ انسانیت کی سانسوں میں سرایت کر چکا ہے۔ یہ زہر کسی بندوق سے نہیں، کسی بم سے نہیں، بلکہ کیمیکل، پلاسٹک، اور صنعتی فضلے کی صورت میں پھیل رہا ہے۔ آج کے دور میں سب سے منافع بخش مگر سب سے خطرناک تجارت یہی ہے۔ وہ تجارت جو زمین کے رنگ، فضاؤں کی خوشبو، اور انسان کی سانس سب کو آلودہ کر رہی ہے۔
یہ ایک خاموش جنگ ہے۔ اس میں کوئی فوج نہیں، کوئی محاذ نہیں، مگر ہلاکت ہر جگہ ہے۔ مغربی دنیا کی چمکتی صنعتوں کے پیچھے جو کچرا بچتا ہے، وہ ترقی پذیر ملکوں کی بندرگاہوں پر جا پہنچتا ہے۔ افریقہ، جنوبی ایشیا اور مشرقِ بعید کے ممالک ان زہریلے ڈبوں کے قبرستان بن چکے ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں ماحولیات کے سخت قوانین کے باعث اب فضلہ وہیں ٹھکانے نہیں لگایا جا سکتا، لہٰذا اسے ”ری سائیکلنگ“ کے نام پر ایشیا کی بندرگاہوں کو بیچ دیا جاتا ہے۔ یہ تجارت اربوں ڈالر کی ہے۔ مگر قیمت زمین ادا کر رہی ہے، ہواکی بلی چڑھائی جا رہی ہے، اور انسان اپنے لیے موت کا گڑھا کھود رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں ہر سال گیارہ ملین ٹن پلاسٹک سمندروں میں پھینکا جا رہا ہے۔ ذرا تصور کریں کہ وہ پلاسٹک جو ایک بوتل کے گرد لپٹا ہے، اگلے پانچ سو سال تک ختم نہیں ہوگا۔ بارش کے پانی میں اب مائیکرو پلاسٹک کے ذرات پائے گئے ہیں۔ یہ ذرات ہوا کے ساتھ ہمارے پھیپھڑوں میں، پانی کے ساتھ ہمارے جسموں میں، اور خوراک کے ذریعے ہماری خون کی نالیوں تک پہنچ چکے ہیں۔ سائنسدانوں نے نوزائیدہ بچوں کے خون میں پلاسٹک کے ذرات دریافت کیے ہیں۔ یعنی آلودگی اب زندگی کے آغاز میں ہی شامل ہو چکی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کی سیاست و تجارت اس چیخ کو سننے کے لیے تیار نہیں۔ سائنسدان کہہ رہے ہیں کہ زمین بیمار ہے، مگر عالمی ایوانوں میں بحث صرف معیشت کی ہے۔ ہر ملک اپنے صنعتی مفاد کے تحفظ میں مصروف ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سائنس خاموش، اور سیاست بہری نظر آتی ہے۔ پالیسی ساز اجلاسوں میں ماحولیات پر قراردادیں تو منظور کرتے ہیں، مگر ان پر عمل درآمد کی باری آتی ہے تو تجارتی دباؤ انہیں مصلحت میں بدل دیتا ہے۔
دوسری جانب، ترقی یافتہ ممالک کے لیے یہ ایک نیا تجارتی موقع بن چکا ہے۔ ”فضلے کی معیشت“ اب دنیا کی تیز رفتار ترین بڑھتی ہوئی صنعتوں میں شامل ہے۔ پلاسٹک، کیمیکلز، الیکٹرانک کچرا، اور صنعتی دھاتیں، یہ سب اب عالمی منڈی میں قیمتوں کے ساتھ خریدا اور بیچا جا رہا ہے۔ ظاہری جواز یہ ہے کہ اس فضلے کو ری سائیکل کر کے دوبارہ استعمال کیا جائے گا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اس کا صرف پانچ فیصد حصہ ہی قابلِ استعمال بنتا ہے، باقی زمین، دریا اور فضا میں شامل کر دیا جاتا ہے۔
یہ وہ تجارت ہے جس میں خریدار غریب ہے، اور بیچنے والا امیر۔ غریب ملکوں کو بتایا جاتا ہے کہ اس سے ان کی معیشت کو فائدہ ہوگا، ان کے پاس ری سائیکلنگ انڈسٹریز آئیں گی، روزگار بڑھے گا۔ مگر ان معاہدوں کی حقیقت کچھ اور ہے۔ ان ممالک کے ساحلوں پر زہریلے مادے دفن کیے جاتے ہیں، ان کے مزدور بغیر حفاظتی لباس کے زہریلے ڈبے کھولتے ہیں، اور ان کے دریاؤں میں ایسی کیمیکل نالیاں بہا دی جاتی ہیں جو نسلوں کی صحت تباہ کر دیتی ہیں۔ یہ ترقی نہیں بلکہ ایک زہریلی غلامی ہے جسے خوشنما الفاظ میں لپیٹ دیا گیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ نے حال ہی میں ایک نیا عالمی ادارہ قائم کیا ہے، ”بین الحکومتی سائنسی و پالیسی پینل برائے کیمیکلز، فضلہ اور آلودگی“۔ مقصد یہ ہے کہ سائنس اور پالیسی کے درمیان رابطہ مضبوط کیا جائے تاکہ دنیا کو ان زہریلی سرگرمیوں سے بچایا جا سکے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ادارے کی سفارشات بھی دیگر ماحولیاتی معاہدوں کی طرح صرف رپورٹوں اور تقاریر تک محدود رہ جائیں گی؟ یا واقعی کوئی طاقتور قدم اٹھایا جائے گا؟
دنیا میں ہر ملک اپنے مفاد کی بنیاد پر فیصلے کر رہا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان ٹیکنالوجی کی جنگ اب ماحولیات کے محاذ تک پہنچ چکی ہے۔ دونوں ممالک گرین انرجی، ری سائیکلنگ ٹیکنالوجی، اور کاربن کنٹرول کی دوڑ میں ہیں کیونکہ مستقبل کی معیشت کا انحصار انہی پر ہے۔ یورپ اپنی گرین ڈیل کے ذریعے ماحولیات کو ایک معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے تاکہ باقی دنیا اس کے معیار کے مطابق پیداوار کرے۔ یہ ”ماحول دوست پالیسی“دراصل ایک نیا سیاسی ہتھیار ہے جس کے ذریعے کمزور ملکوں کو صنعتی جال میں پھنسایا جا رہا ہے۔
جنوبی ایشیا کی صورتحال مزید خطرناک ہے۔ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، نیپال….سب تیزی سے صنعتی ترقی کے نام پر اپنی زمین، ہوا اور پانی قربان کر رہے ہیں۔ بھارت کی کیمیکل انڈسٹری دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں ہر سال لاکھوں ٹن صنعتی فضلہ بغیر کسی صفائی کے دریا اور زمین میں پھینک دیا جاتا ہے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد اور سیالکوٹ جیسے صنعتی شہروں میں درجنوں نالے ایسے ہیں جو زہریلے پانی کو براہِ راست دریاؤں میں بہاتے ہیں۔ راوی اور ستلج کا پانی اب زراعت کے لیے نہیں بلکہ خطرے کی علامت بن چکا ہے۔
یہ وہ خاموش تباہی ہے جس پر شاید ابھی کسی نے آواز نہیں اٹھائی۔ ہمارے ماحولیات کے ادارے فائلوں میں سرگرم ہیں، زمینی سطح پر نہیں۔ ملک کے بجٹ میں دفاع، توانائی، اور انفراسٹرکچر کے لیے اربوں روپے رکھے جاتے ہیں مگر ماحولیات کے لیے صرف چند کروڑ۔ یہ وہ بے حسی ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے زہر بن کر لوٹے گی۔
دنیا کی یہ خطرناک ترین تجارت صرف ماحول نہیں کھا رہی، انسانیت کی بنیادوں کو بھی گلا رہی ہے۔ زمین پر ہر سانس اب ایک حساب مانگ رہی ہے۔ مگر انسان اب بھی یہی سمجھتا ہے کہ وہ ترقی کر رہا ہے۔ ترقی اگر انسان کی قیمت پر ہو تو وہ تباہی کہلاتی ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ دنیا اس زہریلی معیشت سے بغاوت کرے۔ سائنس کو تجارتی سیاست سے آزاد کرنا ہوگا۔ حکومتوں کو ان کمپنیوں کے سامنے جھکنے کے بجائے ان کے احتساب کی ہمت کرنی ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک کو صرف کچرے کا ڈھیر بننے کے بجائے عالمی ضوابط میں اپنی جگہ منوانی ہوگی۔ جنوبی ایشیا کو اگر اپنی نسلوں کی بقا عزیز ہے تو اسے صنعتی ترقی کے ساتھ ماحولیات کا توازن قائم کرنا ہوگا۔
یہ کچرے اور کیمیکلز کی نہیں، زندگی اور موت کی تجارت ہے۔ اگر ہم نے ابھی اس کے خلاف قدم نہ اٹھایا تو آنے والی صدی میں زمین پر سانس لینا سب سے مہنگا سودا ہوگا۔ انسان نے دنیا کو سونا بنانے کے شوق میں زہر میں بدل دیا ہے، مگر شاید ابھی وقت ہے کہ ہم اپنی زمین سے معافی مانگ لیں….. ورنہ ایک دن زمین ہم سے اپنا حساب خود لے گی۔
189