162

فیلڈ مارشل: تزویراتی توازن کے ماہر (تحریر: عبدالباسط علوی)

تزویراتی توازن کو ایک فعال خارجہ پالیسی کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جو ریاستوں، خاص طور پر غیر سپر پاور ممالک کو ایک کثیر قطبی دنیا میں خودمختاری اور طویل مدتی استحکام کے تحفظ کی اجازت دیتا ہے۔ بڑی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے اور کسی ایک فریق پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے گریز کرتے ہوئے ممالک جبر، معاشی خلل اور سکیورٹی کے جھٹکوں سے بچ سکتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر متنوع شراکت داریوں کے ذریعے معاشی لچک کو بڑھاتا ہے، پراکسی تنازعات میں الجھنے سے روکتا ہے، سیاسی و نظریاتی آزادی کا تحفظ کرتا ہے اور قیادت و ادارہ جاتی مہارت کی ضرورت کے باوجود کثیر الجہتی فورمز پر سفارتی ساکھ، ملکی استحکام اور اثر و رسوخ کو مضبوط بناتا ہے۔

پاکستان فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں اس حکمت عملی پر مؤثر طریقے سے عمل پیرا ہو رہا ہے، خاص طور پر چین اور امریکہ دونوں کے ساتھ ان کی اعلیٰ سطح کی سفارتی مصروفیات کے ذریعے۔ ان کا جولائی 2025 کا دورہ چین ایک اہم موڑ کے طور پر اجاگر ہوا جس نے تزویراتی اعتماد کو تقویت دی، سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے تعاون کو وسعت دی، عملے کی حفاظت سے متعلق چینی خدشات کو دور کیا اور سی پیک منصوبوں کی رفتار کو دوبارہ بحال کیا۔ اس دورے نے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں چین کے مرکزی مقام کی توثیق کی اور ساتھ ہی عالمی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے، بین الاقوامی ساکھ کو مضبوط کرنے اور قومی استحکام و ترقی کے لیے فوجی، سفارتی اور معاشی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے کی اسلام آباد کی صلاحیت کا اشارہ بھی دیا۔

دونوں ممالک میں اس دورے کی میڈیا کوریج انتہائی مثبت اور پُرجوش رہی جس میں چینی سرکاری میڈیا نے فیلڈ مارشل کو ایک بصیرت افروز تزویراتی ماہر اور چینی عوام کا دوست قرار دے کر سراہا جبکہ پاکستانی میڈیا نے اس مصروفیت کی بے مثال گہرائی اور کامیابی کو نمایاں کیا۔ تجزیہ کاروں نے نوٹ کیا کہ یہ دورہ محض ایک سفارتی معمول نہیں تھا بلکہ ایک مضبوط تزویراتی ترتیبِ نو تھی جس نے پاکستان کے مشرقی تعلقات کی توثیق کی اور دیگر عالمی اداکاروں کے ساتھ اس کی مذاکراتی طاقت اور اثر و رسوخ میں بھی نمایاں اضافہ کیا۔ اس دورے نے فیلڈ مارشل کی اس صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا کہ وہ محض ایک فوجی کمانڈر نہیں بلکہ ایک بہترین مدبر ہیں جو انتہائی پیچیدہ بین الاقوامی تعلقات کو نفاست اور تزویراتی بصیرت کے ساتھ سنبھال سکتے ہیں اور انہوں نے اعتماد اور تزویراتی ہم آہنگی کے اس نیٹ ورک میں پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کیا جو آنے والے برسوں میں اس کی خارجہ پالیسی کی سمت متعین کرے گی۔

اپنے دورہ چین سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کا امریکہ کا سرکاری دورہ بھی اتنا ہی اہم تھا جس نے دونوں سپر پاورز کے ساتھ تعلقات کو منظم کرنے کی ان کی صلاحیت کو ظاہر کیا۔ یہ دورہ، جو ان کے بے مثال عہدے پر ترقی پانے کے بعد پہلا امریکی دورہ تھا، واشنگٹن کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کو دوبارہ ترتیب دینے کے لیے نہایت احتیاط سے وضع کیا گیا تھا جو حالیہ برسوں میں تناؤ کا شکار رہے تھے۔ اگرچہ باضابطہ طور پر یہ دفاعی تعاون پر مرکوز ایک فوجی تبادلہ تھا لیکن اس کا دائرہ کار تیزی سے سیاسی، معاشی اور تزویراتی میدانوں تک پھیل گیا جو فیلڈ مارشل کے کردار کی وسیع اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ پینٹاگون میں فیلڈ مارشل نے دفاعی حکام کے ساتھ انسداد دہشت گردی کے جاری تعاون سے لے کر افغانستان اور بھارت سمیت علاقائی سکیورٹی کی صورتحال جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کا کام امریکی پالیسی سازوں کو بیجنگ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات کے باوجود علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا یقین دلانا تھا جو ان کے متوازن نقطہ نظر کا ثبوت ہے۔

امریکی دورے کا ایک واقعی اہم اور غیر متوقع لمحہ فیلڈ مارشل کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ نجی ملاقات تھی جو دو گھنٹے سے زائد جاری رہی اور ایک گہری گفتگو کی نشاندہی کرتی تھی جو عام سفارتی آداب سے کہیں آگے تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ بات چیت میں علاقائی سکیورٹی، مسلم دنیا میں امن سازی میں پاکستان کا ابھرتا ہوا تعمیری کردار اور آپریشن بنیان مرصوص کی حالیہ فیصلہ کن کامیابی شامل تھی جس کی وجہ سے جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ ٹرمپ نے مبینہ طور پر پاک بھارت حالیہ تنازع کے دوران فیلڈ مارشل کی قیادت کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ایک نادر مدبر سپاہی قرار دیا جو طاقت اور تحمل کی اہمیت کو سمجھتا ہے۔ تعلقات میں ایک نئے باب کے علامتی اشارے کے طور پر فیلڈ مارشل نے ٹرمپ کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جسے گرمجوشی سے قبول کیا گیا۔

امریکی اسٹریٹجک کمیونٹی کے ساتھ فیلڈ مارشل کا تعامل صرف سرکاری حکام تک محدود نہیں تھا بلکہ انہوں نے واشنگٹن میں ممتاز تھنک ٹینکس اور تجزیہ کاروں کے ساتھ تفصیلی سیشنز بھی منعقد کیے جہاں انہوں نے امریکہ کے ساتھ ایک کثیر جہتی شراکت داری کا واضح وژن پیش کیا جو محض سکیورٹی تعاون پر مبنی سرد جنگ کے دور کے لین دین کے ماڈل سے بالاتر تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کو اکثر کم سراہا گیا ہے اور انہوں نے ملک کے جغرافیائی و تزویراتی مقام اور غیر استعمال شدہ معاشی صلاحیت کو مضبوط شراکت داری کی زبردست وجوہات کے طور پر اجاگر کیا۔ دورے کے معاشی پہلو کو بھی مضبوطی سے مربوط کیا گیا تھا جس میں امریکی کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کاروں کے ساتھ نئے مواقع تلاش کرنے کے لیے پسِ پردہ بات چیت کی گئی۔ اس امریکی دورے کا وسیع تزویراتی پیغام واضح تھا کہ پاکستان بین الاقوامی معاملات میں زیادہ متوازن اور پر اعتماد کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے جو چین کے ساتھ اپنے تعلقات کا احترام اور انہیں مضبوط کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ اپنے تاریخی تعاون کو بھی نئی زندگی دے رہا ہے۔
اس دورے کے بعد سفارتی سرگرمیوں کی ایک نئی لہر دیکھی گئی جس میں اسلام آباد میں امریکی سفیروں نے دفاع، تجارت اور تعلیمی تبادلوں پر ہم آہنگی تیز کر دی اور بین الاقوامی مبصرین نے نوٹ کیا کہ اس دورے نے واشنگٹن کے ساتھ رابطے کے ٹوٹے ہوئے ذرائع کو کامیابی سے بحال کیا اور ثابت کیا کہ پاکستان کسی ایک طاقت کے زیر اثر نہیں آئے گا۔ فیلڈ مارشل کے لیے اس دورے نے عالمی سطح پر ایک عملی اور قابلِ اعتماد شخصیت کے طور پر ان کی شہرت کو مستحکم کیا جو اعتماد اور جیو پولیٹیکل بصیرت کی گہری سمجھ کے ساتھ اعلیٰ درجے کی سفارت کاری کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ دورہ واقعی تبدیلی کا حامل تھا جس نے پاکستان کے سفارتی ارتقاء میں ایک اہم موڑ کی نشاندہی کی اور دنیا کے لیے پاکستان کی عالمی شناخت کی تشکیل میں مسلح افواج کے کردار کو نئے سرے سے متعین کیا۔

ان سفارتی کوششوں کا نتیجہ ایک تاریخی ترقی کی صورت میں نکلا جب امریکہ نے جولائی 2025 کے آخر میں پاکستان کے ساتھ ایک نئے تجارتی معاہدے کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ، جو پاکستان کو کلیدی برآمدات پر محصولات میں نمایاں کمی فراہم کرتا ہے، اسے بھارت کے مقابلے میں زیادہ ترجیحی تجارتی حیثیت دیتا ہے جس نے بہت سے علاقائی مبصرین کو حیران کر دیا۔ اس فیصلے کو بڑے پیمانے پر اسلام آباد کی سفارتی مہارت اور آپریشن بنیان مرصوص میں اس کی فوجی کامیابی کے ثمرات کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ فیلڈ مارشل، جو اس آپریشن کے مرکزی معمار تھے، ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرے جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ جب فوجی طاقت کو ہوشمندانہ سفارت کاری اور تزویراتی رسائی کے ساتھ جوڑا جائے تو وہ ٹھوس معاشی اور سیاسی نتائج میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

تجارت کا یہ معاہدہ فیلڈ مارشل کی بین الاقوامی برادری، بالخصوص امریکہ کے ساتھ تزویراتی مصروفیت کا براہ راست نتیجہ ہے کیونکہ ان کے واشنگٹن دورے نے باہمی احترام اور ہم آہنگ سکیورٹی مفادات پر مبنی شراکت داری کا وژن پیش کر کے اہم بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی کو نہ صرف ایک فوجی فتح بلکہ پاکستان کی پختگی، تحمل اور علاقائی امن کے عزم کے ایک طاقتور مظاہرے کے طور پر مہارت سے پیش کیا۔ ان کی پراعتماد سفارت کاری نے امریکی فیصلہ سازوں، بالخصوص صدر ٹرمپ کو بہت متاثر کیا جنہوں نے فوجی طاقت کے دانشمندانہ استعمال کے ذریعے جنوبی ایشیا میں علاقائی توازن بحال کرنے کا سہرا فیلڈ مارشل کے سر باندھا۔

جو چیز فیلڈ مارشل عاصم منیر کو واقعی دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ توازن پر ان کی مہارت ہے جسے انہوں نے ایک تزویراتی فن کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے اور ترجیحی تجارتی معاہدہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے بیک وقت چین کے ساتھ تزویراتی تعلقات کو محفوظ رکھا اور آگے بڑھایا جس سے یہ ظاہر ہوا کہ وہ دوہری سطح پر اعلیٰ سفارت کاری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس نفیس دوطرفہ نقطہ نظر نے پاکستان کو دونوں تعلقات سے معاشی، فوجی اور سفارتی فوائد حاصل کرنے کی اجازت دی ہے جس سے بڑی طاقتوں کی دشمنی میں مہرہ بنے بغیر اس کے عالمی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ فیلڈ مارشل کا یہ نقطہ نظر مصروفیت کا ایک ایسا تزویراتی نظریہ ہے جس میں پاکستان ایک ماتحت اتحادی کے بجائے ایک ذمہ دار علاقائی طاقت اور مسابقتی مفادات کے درمیان ایک اہم پل کے طور پر کام کرتا ہے۔

نئے تجارتی ڈھانچے میں امریکہ کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی ترجیح نے جنوبی ایشیا کے بدلتے ہوئے حالات میں نئی دہلی میں بے چینی کی ایک واضح لہر پیدا کر دی ہے اور بھارتی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ واشنگٹن کی یہ تبدیلی پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی علامت ہے۔ دریں اثنا، پاکستانی معاشی رہنماؤں نے اس پیش رفت کو پاکستان کی عالمی اہمیت کے اعتراف اور اس کی معاشی صلاحیت کے ثبوت کے طور پر سراہا ہے۔ دنیا بھر کے تجزیہ کار اب اس بات پر توجہ دے رہے ہیں کہ کس طرح ایک فوجی فتح کو سمارٹ سفارت کاری کے ذریعے معاشی نتائج میں بدلا جا سکتا ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس تبدیلی کے مرکز میں رہے ہیں جنہوں نے ثابت کیا کہ جدید فوجی قیادت میدان جنگ سے کہیں آگے سفارت کاری، تجارت اور عالمی اثر و رسوخ کے راہداریوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے بھی چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی متاثر کن شخصیت کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں بدلتے ہوئے عالمی نظام میں ایک موثر اسٹریٹجک لیڈر قرار دیا ہے۔ فنانشل ٹائمز نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو کثیر الجہتی خارجہ پالیسی کا ماہر قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی سیاست نے مڈل پاورز کے لیے ایک نیا لیکن مشکل دور کھول دیا ہے اور یہ پیش رفت خاص طور پر ان ممالک کے لیے پیچیدہ ثابت ہو رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر مڈل پاورز کے کامیاب ترین کثیر الجہتی شراکت داروں میں شامل ہیں اور ٹرمپ کے ساتھ بہترین ہم آہنگی کا اعزاز بھی پاکستان کے ملٹری چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کو حاصل ہے۔ برطانوی جریدے نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو مڈل پاور ڈپلومیسی کی ایک کامیاب مثال قرار دیتے ہوئے لکھا کہ پاکستان کی قیادت واشنگٹن، بیجنگ، ریاض اور تہران کے درمیان بیک وقت رابطوں میں متحرک رہی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں پاکستان کی سفارت کاری کو مؤثر طریقے سے آگے بڑھایا۔ جریدے کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ بروقت خوش اخلاقی اور نرم سفارتی رویہ مؤثر ثابت ہوا جس کی وجہ سے پاکستان کی سفارتی کامیابی نے بھارت کو مایوس کر دیا۔ مڈل پاور گیم بھارت کے لیے توقع سے زیادہ مشکل ثابت ہوئی کیونکہ وہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال اور ٹرمپ کے انداز کے مطابق خود کو نہ ڈھال سکا اور اسی سفارتی ناکامی کی وجہ سے بھارت کو اپنی مڈل پاور حکمت عملی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

واشنگٹن ٹائمز کے ایک مضمون کے مطابق 2025 پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں ایک انقلابی موڑ ثابت ہوا جس نے واشنگٹن کی دیرینہ “انڈیا فرسٹ” پالیسی کا خاتمہ کر دیا اور صدر ٹرمپ کی جنوبی ایشیا کی حکمت عملی میں پاکستان کو مرکزی مقام عطا کیا۔ یہ تبدیلی بنیادی طور پر مئی کی پاک بھارت جنگ کے نتیجے میں آئی جس کے دوران پاکستان کی فوجی کارکردگی مبینہ طور پر امریکی توقعات سے بڑھ کر رہی اور اس نے ٹرمپ کو حیران کر دیا۔ واشنگٹن ٹائمز نے نوٹ کیا کہ پاکستان اب ایک ناپسندیدہ ریاست کے بجائے ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جانے لگا ہے جبکہ بھارت کے سیاسی چیلنجز، ذاتی آزادیوں پر پابندیوں، غیر مساوی فوجی کارکردگی اور سفارتی سختی نے ایک قابل اعتماد علاقائی استحکام کار کے طور پر اس کے تشخص کو کمزور کر دیا ہے۔ بہتری کی ابتدائی علامات میں انسداد دہشت گردی کا خفیہ تعاون اور مارچ میں پاکستان کے لیے ٹرمپ کی غیر متوقع عوامی تعریف شامل تھی جسے اسلام آباد نے روابط کو مزید گہرا کرنے کے لیے تیزی سے استعمال کیا۔ واشنگٹن ٹائمز نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور انہیں پالیسی کی تبدیلی اور واشنگٹن میں پاکستان کے اسٹریٹجک تشخص کی نئی تشکیل میں ایک کلیدی شخصیت کے طور پر پیش کیا۔ پاکستان کی فوجی جدت کاری، کمانڈ کی تنظیم نو اور چیف آف ڈیفنس فورسز کے عہدے کی فعالیت کو نئی عالمی اہمیت حاصل کرنے کے طور پر بیان کیا گیا ہے جس میں فیلڈ مارشل کی قیادت کو بھرپور پہچان ملی ہے۔ صدر ٹرمپ اور اعلیٰ امریکی فوجی رہنماؤں کے ساتھ ان کے روابط، بشمول وائٹ ہاؤس اور سینٹ کام میں ہونے والی ملاقاتوں، کو بے مثال اور پاکستان کی تجدید شدہ اہمیت کی علامت قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ پاکستان کو 2026 تک امریکی حکمت عملی کے ایک ابھرتے ہوئے ستون کے طور پر پیش کیا گیا ہے تاہم مضمون میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اس نئی صف بندی کا پائیدار ہونا پاکستان اور بھارت دونوں کے مستقبل کے طرز عمل پر منحصر ہوگا جہاں 2025 کو ایک ایسے سال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس نے امریکی پالیسی اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو نئے سرے سے ترتیب دے دیا ہے۔

قوم واقعی خوش قسمت ہے کہ اسے ایک ایسا عسکری لیڈر میسر آیا ہے جس نے ملک کی موجودہ مضبوط عالمی پوزیشن میں کلیدی کردار ادا کیا اور اسے بھارت جیسے دشمن ملک پر ایک نمایاں اور بے مثال برتری دلائی جو کہ حقیقت میں ایک انتہائی اطمینان بخش نتیجہ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں