وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا ہے کہ “ستھرا پنجاب” کے بعد اب “ستھرا پاکستان” کی مہم کا عملی آغاز ہو چکا ہے، جس کے تحت احتساب کے عمل کو مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر یہ دعویٰ کرتے تھے کہ اداروں میں احتساب نہیں ہوتا، ان کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ ایک ادارے نے اپنے ملازم کو سزا دے کر مثال قائم کی ہے، اور اب دیگر اداروں کو بھی اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔ عظمٰی بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی عوامی خدمت پر مبنی پالیسیوں اور عملی اقدامات کی آواز آج عالمی سطح پر سنی جا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں ہمیں یورپ اور برطانیہ کی مثالیں دی جاتی تھیں، مگر آج دنیا پنجاب کے ترقیاتی ماڈل اور شفاف گورننس کی مثالیں دے رہی ہے، جو پنجاب اور پاکستان دونوں کے لیے باعثِ فخر ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈی جی پی آر میں وزیر زراعت سید عاشق حسین کرمانی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش دہشت گردی کی نئی لہر کے خلاف پاک فوج اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور عزم کے ساتھ برسرِپیکار ہیں اور دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے آرمی پبلک اسکول کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ وزیر اطلاعات نے پنجاب کابینہ کے حالیہ اجلاس میں کیے گئے اہم فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی حکومت نے گورننس، شفافیت اور میرٹ کا ایک نیا ماڈل متعارف کرایا ہے جسے اب بین الاقوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ “ستھرا پنجاب” ماڈل میں عالمی ادارے دلچسپی لے رہے ہیں اور اسے دیگر ممالک میں نافذ کرنے کی خواہش ظاہر کی جا رہی ہے، جو نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کے لیے بھی اعزاز ہے۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے افسران کے خلاف انکوائری کے نظام میں بڑی اصلاحات کی منظوری دی ہے۔ اب کسی بھی افسر کے خلاف انکوائری تین ماہ میں مکمل کرنا لازم ہوگا تاکہ بے گناہ افراد کو طویل اذیت سے بچایا جا سکے اور قصورواروں کو بروقت سزا ملے۔عظمٰی بخاری نے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے راولپنڈی میں دوسرے آئی ٹی سٹی کے قیام کی منظوری دی ہے، جبکہ جدید ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کے تحت بین الاقوامی معیار کی اسمارٹ ٹریفک لائٹس نصب کی جائیں گی جن میں پیدل چلنے والوں کے لیے خصوصی بٹن سسٹم بھی شامل ہوگا۔امتحانی نظام کی شفافیت مزید بہتر بنانے کے لیے ایک خودمختار اور آزاد ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو اسکول انتظامیہ سے الگ ہو کر امتحانات کا انعقاد کرے گا، تاکہ مکمل میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں امتحانی نظام باقی تمام صوبوں سے بہت بہتر ہے۔ پنجاب میں کبھی ایسی خبر سننے کو نہیں ملی کہ پورے کا پورا امتحانی مرکز ہی بک گیا ہو۔ انکا کہنا تھا کہ صحت کے شعبے میں فیصل آباد کے ہولی فیملی اسپتال میں درکار آلات کی فوری فراہمی، مری کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کو جنرل اسپتال کا درجہ دینے، اور گوجرانوالہ میں نئے کارڈیالوجی اسپتال کے قیام کی منظوری دی گئی ہے، جو عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ وزیراعلیٰ نے 720 محنت کشوں کے فلیٹس کی قرعہ اندازی مکمل کر کے سات دن میں حوالگی کی ہدایت دی ہے، جبکہ مزید 1872 فلیٹس 18 ماہ میں مکمل ہوں گے۔ 36 لاکھ روپے مالیت کے یہ فلیٹس محنت کشوں کو بالکل مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واضح ہدایات دیں ہیں کہ تمام بیواؤں اور معذور محنت کشوں کو بغیر قرعہ اندازی کے فلیٹس دیئے جائیں۔ یہ یقینا ان کا لوگوں کو اپنی چھت دینے کا جو منصوبہ اور خواہش ہے یہ اسی کا ایک تسلسل ہے ۔انکا کہنا تھا کہ زراعت کے شعبے میں گندم کی ریکارڈ پیداوار پر وزیر زراعت اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے عظمٰی بخاری نے کہا کہ پنجاب نے ایک بار پھر اپنا ہدف کامیابی سے حاصل کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کا کسانوں کے ساتھ کھڑے رہنے کا عزم غیر متزلزل ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ہونے والے یہ اقدامات محض پروگرامز نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں “معجزات” ہیں جو عوامی خدمت اور ترقی کے نئے باب رقم کر رہے ہیں۔سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمٰی بخاری نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہے کہ ایک ادارے نے اپنے ملازم کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے سزا سنائی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ادارے بھی اسی سمت میں عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو عناصر اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت کرتے ہیں، یا کسی ایک سیاسی جماعت کے مفادات کے لیے معاملات کو موڑنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسی روایت کا اب مکمل طور پر خاتمہ ہونا چاہیے۔عظمٰی بخاری نے کہا کہ “ستھرا پاکستان” کی اصلاح کی مہم کو وہ آگے بڑھتا ہوا دیکھ رہی ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بوئے گئے ایک غلط بیج سے جو زہریلی فصل تیار ہوئی، اس کے منفی نتائج پاکستان آج تک بھگت رہا ہے، اور یہ کہنا مشکل ہے کہ ان اثرات کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ تاہم اب ایک واضح فیصلہ ہو چکا ہے کہ اس طرزِ عمل کو “ون فار آل” ختم کیا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کی جڑیں گہری ہیں، اور صرف ایک ادارے میں ایک فرد کے خلاف کارروائی کافی نہیں۔ دیگر اداروں کو بھی اپنے احتساب کا آغاز کرنا ہوگا اور خود احتسابی کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہر ادارہ اپنے کردار اور ذمہ داری کا سنجیدگی سے جائزہ لے تاکہ نظام کو درست سمت میں لایا جا سکے۔
146