30

سی ڈی ایف کا تاریخی دورہ میونخ- تحریر (عبدالباسط علوی)

جدید ریاستی حکمت عملی اور فوجی سفارت کاری کی تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے جہاں عالمی سطح پر اسٹریٹجک روابط نے اتحادوں کو نئی شکل دی، باہمی مفاہمت کو فروغ دیا اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے ڈھانچے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس پیچیدہ اور مسلسل بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی منظر نامے میں دفاع کی روایتی حدود سے نکل کر اعلیٰ سطح کے سفارتی مذاکرات میں سینئر فوجی قیادت کا کردار محض فائدہ مند ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا 12 سے 14 فروری 2025 تک جرمنی کا دورہ ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو عالمی سیکورٹی مذاکرات کے مرکز میں ایک نہایت منظم اور انتہائی اہم قدم ہے۔ میونخ سیکورٹی کانفرنس کے باوقار پلیٹ فارم پر ان کی شرکت پاکستان کی جانب سے ایک پختہ ارادے کا اظہار ہے اور یہ امن، سلامتی اور اسٹریٹجک استحکام سے متعلق معاملات پر عالمی برادری کے ساتھ تعمیری اور فعال طور پر منسلک ہونے کے ملک کے غیر متزلزل عزم کا اعلان ہے۔ میونخ سیکورٹی کانفرنس محض ایک اجتماع نہیں بلکہ ایک ایسا پلیٹ فارم تھا جہاں دنیا بھر کے سربراہان مملکت، وزرائے خارجہ، وزرائے دفاع، ممتاز فوجی رہنماؤں اور ماہرین نے بین الاقوامی سیکورٹی پالیسی پر بحث کی اور فیلڈ مارشل منیر کی وہاں موجودگی اس بات کا ثبوت تھی کہ پاکستان اس عالمی مکالمے میں ایک معتبر اور بااثر آواز بننا چاہتا ہے۔

میونخ کے اپنے اس بااثر قیام کے دوران چیف آف ڈیفنس اسٹاف نے متعدد بین الاقوامی شخصیات اور دفاعی حکام کے ساتھ بامقصد اور دور رس نتائج کی حامل ملاقاتیں کیں۔ یہ ملاقاتیں محض رسمی فوٹو سیشن یا سفارتی تبادلے نہیں تھے بلکہ یہ پاکستان کے اس پختہ ارادے کو اجاگر کرنے کے لیے اسٹریٹجک روابط تھے کہ وہ عالمی سیکورٹی میں ایک ذمہ دار اور ناگزیر شریک کے طور پر موجود رہے اور باہمی احترام و مشترکہ مفادات کی بنیاد پر اپنے شراکت داروں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرے۔ آج کے دور میں جہاں اتحاد تیزی سے بدل رہے ہیں اور جنگوں کی نوعیت میں تکنیکی تبدیلیاں آ رہی ہیں، ایسی اعلیٰ سطح کی ملاقاتیں قوموں کے درمیان اعتماد سازی اور تعاون کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ میونخ میں ہونے والی گفتگو محض خلا میں نہیں تھی بلکہ ان حقیقتوں پر مبنی تھی جہاں دنیا غیر معمولی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے اور یہ تسلیم کیا گیا کہ کوئی بھی ملک تنہا ان مسائل سے نہیں نمٹ سکتا۔ فیلڈ مارشل منیر کا یہ دورہ تعلقات کی آبیاری اور دوسروں کے نقطہ نظر کو سننے اور سیکھنے کے اسی انداز کی ایک بہترین مثال تھا۔

ان ملاقاتوں میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ہونے والی گفتگو خاص طور پر قابل ذکر اور توجہ کا مرکز رہی جس میں عالمی و علاقائی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف تعاون جیسے اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس گفتگو میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان پائیدار اور کثیر الجہتی روابط کی اہمیت پر زور دیا گیا تاکہ سرحد پار دہشت گردی اور انتہا پسند نظریات جیسے پیچیدہ خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے مربوط کوششوں کی ضرورت پر اتفاق کیا تاکہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری عالمی برادری کو محفوظ بنایا جا سکے۔ یہ ملاقات ایک واضح پیغام تھا کہ پیچیدہ تاریخ کے باوجود دونوں ممالک مشترکہ تحفظات پر مل کر کام کرنے اور مواصلات کے راستے کھلے رکھنے میں اہمیت محسوس کرتے ہیں۔

امریکی قیادت کے علاوہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جرمن حکام کے ساتھ بھی اہم بات چیت کی جو پاکستان اور جرمنی کے دفاعی و سیکورٹی تعلقات کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔ جرمنی کے وفاقی وزیر داخلہ الیگزینڈر ڈوبرنڈٹ کے ساتھ ملاقات میں داخلی سلامتی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر توجہ مرکوز کی گئی جس میں انتہا پسندی کے خلاف حکمت عملی، جدید خطرات سے نمٹنے کے لیے بہترین طریقوں کے تبادلے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جدت کاری جیسے امور زیر بحث آئے۔ اس کے ساتھ ساتھ جرمن چانسلر کے خارجہ اور سیکورٹی پالیسی کے مشیر گنٹر ساؤٹر کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں عالمی سیکورٹی کے رجحانات اور جنوبی ایشیا میں استحکام کے لیے سفارت کاری کے کردار پر زور دیا گیا۔ ان ملاقاتوں نے ثابت کیا کہ جرمنی علاقائی استحکام میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کرتا ہے اور اسٹریٹجک مواصلاتی ذرائع کو برقرار رکھنے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔

اس دورے کا ایک اہم ستون جرمن مسلح افواج کے چیف آف ڈیفنس کارسٹن بریور کے ساتھ ملاقات تھی جس میں باہمی دفاعی تعاون کو بڑھانے کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ اس دوران تربیتی تبادلوں، پیشہ ورانہ فوجی تعلیم، مشترکہ مشقوں اور سائبر دفاع جیسے جدید شعبوں میں تعاون کے امکانات پر بات کی گئی۔ دونوں فوجی سربراہان نے اس بات کو تسلیم کیا کہ مسلح افواج کے درمیان مسلسل پیشہ ورانہ رابطہ نہ صرف فوجی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ باہمی اعتماد کی فضا بھی قائم کرتا ہے جو کسی بھی بحران کے وقت انتہائی قیمتی ثابت ہو سکتی ہے۔ فیلڈ مارشل منیر کی اسٹریٹجک بصیرت صرف مغربی ممالک تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے برازیلین مسلح افواج کے چیف آف جوائنٹ اسٹاف ریناٹو روڈریگز ڈی اگیار فریئیر سے بھی ملاقات کی جس کا مقصد جنوبی امریکہ کی ایک بڑی طاقت کے ساتھ فوجی تعاون کو گہرا کرنا تھا۔ یہ ملاقات پاکستان کے اس ارادے کا اظہار تھی کہ وہ ابھرتی ہوئی طاقتوں کے ساتھ نئے تعلقات استوار کر کے اپنی شراکت داری کے دائرہ کار کو وسیع کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کی فوجی سفارت کاری کے عالمی اثرات کو مزید اجاگر کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے لبنانی فوج کے کمانڈر روڈولف ہیکل سے بھی ملاقات کی جس میں مشرق وسطیٰ کی بدلتی ہوئی صورتحال اور باہمی دفاعی تعاون پر گفتگو ہوئی۔ یہ ملاقات مشکل سیکورٹی حالات کا سامنا کرنے والے ممالک کے درمیان یکجہتی اور تجربات کے تبادلے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ مجموعی طور پر ان تمام اعلیٰ سطح کی ملاقاتوں کا اثر پاکستان کی فوجی قیادت کے اسٹریٹجک انداز فکر کی عکاسی کرتا ہے جہاں میونخ سیکورٹی کانفرنس نے نہ صرف رسمی بلکہ غیر رسمی رابطوں کا موقع بھی فراہم کیا جو غلط فہمیوں کو دور کرنے اور بحرانوں کے انتظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

پاکستان جیسے ملک کے لیے جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دیں اور اقوام متحدہ کے امن مشنز میں ہمیشہ فعال کردار ادا کیا، میونخ جیسی عالمی کانفرنس میں ایسی اعلیٰ سطح کی نمائندگی پاکستان کے امیج کو ایک ذمہ دار اور ناگزیر شراکت دار کے طور پر مضبوط کرتی ہے۔ یہ فورم پاکستان کو اپنے مستند نقطہ نظر کو پیش کرنے اور دہشت گردی کے خلاف اپنی کامیابیوں اور قربانیوں کو دنیا کے سامنے لانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ میونخ کا یہ دورہ پاکستان کے اس سفارتی موقف کو واضح کرتا ہے کہ جدید سیکورٹی چیلنجز جیسے سائبر خطرات، ماحولیاتی تبدیلیاں اور دہشت گردی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی تعاون کے متقاضی ہیں۔

پاکستان کی عوام کے لیے اپنی فوجی قیادت کی ایسی باوقار پلیٹ فارمز پر شرکت قومی فخر کا باعث ہے جو اس تاثر کو زائل کرتی ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہے۔ یہ دورہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان باہمی احترام کی بنیاد پر عالمی طاقتوں کے ساتھ تعامل کر رہا ہے اور ملک کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے انتھک کوششیں کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے یہ کامیاب روابط جدید دور کی اس سفارت کاری کی بہترین مثال ہیں جو پاکستان کے طویل مدتی قومی مقاصد یعنی پائیدار سلامتی، خوشحالی اور بین الاقوامی احترام کے حصول میں معاون ثابت ہوں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں