153

ضمنی انتخابات میں کامیابی کا تاج ن لیگ کے سر پر سجا – پی ٹی ائی مکمل طور پر ناک اوٹ

ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی واضح برتری، قومی اسمبلی کی 5اور صوبائی کی 6نشستوں پر کامیاب، ہری پور کی قومی اسمبلی کی نشست پر ن لیگی امیدوار اورعمر ایوب کی اہلیہ میں رات گئے تک کانٹے کا مقابلہ جاری تھا، فیصل آباد، ساہیوال، سرگودھا، میانوالی سمیت صوبائی کی 6نشستوں پر ن لیگی امیدوار آگے، گنتی جاری، مظفر گڑھ سے پی پی کامیاب، ٹرن آئوٹ کم رہا ، چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ انتخابات پرامن رہے، کوئی غیر معمولی شکایات موصول نہیں ہوئی،انہوں نے پرامن انتخابات کے انعقاد پر پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومت سے اظہار تشکر کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے لیگی امیدواروں کو کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ضمنی انتخابات میں کامیابی، قائد میاں محمد نواز شریف کے ویژن اور انکی بے مثال قیادت اور پارٹی کارکنان کی محنت کی بدولت حاصل ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور، فیصل آباد، ساہیوال، ڈیرہ غازی خان، سرگودھا، میانوالی اور مظفر گڑھ میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو شام 5 بجے تک جاری رہی۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے129 لاہور کے تمام 334پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم ليگ ن کے حافظ میاں محمد نعمان نے میدان مار لیا۔غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق حافظ میاں محمد نعمان 63441ووٹ لے کر کامیاب ہوئے۔ پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار ارسلان احمد 29099 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 143 ساہیوال 3 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم ليگ ن کے 136223ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے۔ آزاد امیدوار ضرار اکبر چوہدری 13220ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ این اے 185 ڈیرہ غازی خان 2 کے تمام 226 پولنگ اسٹیشنزکے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے محمود قادر خان 82413ووٹ لےکر کامیاب ہو گئے۔ پیپلز پارٹی کے دوست محمد کھوسہ 49262ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔این اے 18 ہری پور میں 602 پولنگ اسٹیشنز میں سے 425کے غیرحتمی غیر سرکاری نتیجے کے مطابق مسلم ليگ ن کے بابر نواز خان 1 لاکھ 17ہزار ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار شہرناز عمر ایوب 77ہزار ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہیں۔حلقہ این اے 96 فیصل آباد 2 کے 345 پولنگ اسٹیشنز میں سے 154 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے محمد بلال بدر 79278 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر ہیں جبکہ آزاد امیدوار نواب شير وسير 26483ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔حلقہ این اے 104فیصل آباد 10کے 375پولنگ اسٹیشنز میں سے177کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے تحت مسلم ليگ(ن) کے دانیال احمد 29338 ووٹ لے کر آگے ہیں۔ آزاد امیدوار رانا عدنان جاوید 8861 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر ہیں۔پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 203 ساہیوال 6 کے تمام 185پولنگ اسٹیشنز کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم ليگ ن کے محمد حنیف 46900 ووٹ لے کر کامیاب ہوگئے جب کہ آزاد امیدوار فلک شیر 10895ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 73 سرگودھا 163 پولنگ اسٹیشنز میں سے 108 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے تحت مسلم ليگ(ن) کے میاں سلطان علی رانجھا 35132 ووٹ لے کر آگے ،آزاد امیدوار محمد حارث 5596 ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 87میانوالی 3 کے 193پولنگ اسٹیشنز میں سے 125 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم ليگ(ن) کے علی حیدر نور خان نیازی 56170 ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جب کہ آزاد امیدوار محمد ایاز خان نیازی 3310ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 98 فیصل آباد 1کے 171 پولنگ اسٹیشنز میں سے 80کے نتائج کے مطابق ن لیگ کے آزاد علی تبسم 32491 ووٹ لے کر پہلے نمبر جبکہ آزاد امیدوار محمد اجمل 21485ووٹ لیکر دوسرے نمبر پر رہے۔ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 115 فیصل آباد 18 کے 159 پولنگ اسٹیشنز میں سے 147 کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق ن لیگ کے محمد طاہر پرویز 35620 ووٹ لے کر آگے جبکہ آزاد امیدوار محمد اصغر 1713ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر رہے۔ پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 116 فیصل آباد 19 کے 190 پولنگ اسٹیشنز میں سے 175کے غیر حتمی غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم ليگ (ن) کے احمد شہریار 45674ووٹ لے کر پہلے نمبر پر رہے۔ آزاد امیدوار ملک اصغر علی قیصر 10294 ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر رہے۔پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 269 مظفر گڑھ 2 کے 156 پولنگ اسٹیشنز میں سے 102 کے غیر حتمی و غیر سرکاری نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کےمیاں علمدار عباس قریشی 42091ووٹ لے کر پہلے نمبر پر جبکہ آزاد امیدوار محمد اقبال خان پتافی 30370ووٹ لےکر دوسرے نمبر پر ہیں۔ علاوہ ازیں چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ ضمنی الیکشن پرامن رہا، ٹرن آؤٹ کم کی کئی وجوہات ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں الیکشن کمیشن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں کا شکرگزار ہوں۔ اُنہوں نے کہا کہ آج کا ضمنی انتخاب بہت پرامن رہا، ضمنی انتخابات میں ہمیشہ ٹرن آؤٹ کم رہتا ہے، کم ٹرن آؤٹ کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اس انتخاب میں نمبر گیم کی تبدیلی نہیں ہونی تھی جسکی وجہ سے عوام کی دلچسپی کم رہی۔ سکندر سلطان راجہ کا کہنا تھا کہ ڈی آراوز نے کچھ رپورٹس بھیجی ہیں،کچھ شکایات کا کمیشن نے خود نوٹس لیا، آج کے ضمنی انتخاب میں کوئی غیر معمولی شکایات موصول نہیں ہوئی، طلال چوہدری کو کل طلب کیا سماعت ہو گی۔اُنہوں نے کہ لوکل گورنمنٹ انتخابات میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک وزیر اور امیدوار کو نااہل کیا تھا، ہر چیز کی ایک لیگل سکیم ہے،دنیا بھر میں انتخابات میں خلاف ورزیاں ہوتیں ہیں۔چیف الیکشن کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ کمیشن وقتاً فوقتاً اپنی تجاویز حکومت کو بھیجتا رہتا ہے، کمیشن کے پاس ٹربیونل کو ہدایات دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ج

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں