عظیم روایات کی نئی پرواز—- ایک نئے دور کا آغاز
تحریر: میاں عصمت رمضان
پاکستان سٹیل ملز، پی ٹی ایل،واپڈا اور اب پی آئی اے بھی سیل ہوگئی مطلب پو سہولیات پاکستانی عوام کے سستے داموں ملتی تھی اب وہی سہولیاب اب مہنگے داموں ملے گی سفر اب مہنگا تو ہو لہکین امید ہے بہتر ہو جائے گا ہوائی جہاز اب اچھی حالے مین آ جائے گے مسافر اب ائیرپورت پر گھنٹون انتظار نہیں کرے گے کیونکہ جو کام سرکار سالہا سال سے کرنے کی کوشش کر رہی تھے اور جس کی نیلامی کیلیے کڑوڑوں روپے صرگ اشتہار کی میں لگائے جا رہئے تھے بالاخر اسکی بھی نیلامی ہو گئی پاکسان بزنس انڈسڑی کی جانی پہچان شخصیت اور بزنس ٹایکون عارف حبیب گروپ اور عارف حبیب کنسورشیم نے اب پی آئی اے کو مجموعی طور پر تقریباً 135 ارب روپے میں 75 % شئیر میں اپنے نام کر لیے-
پی آئی اے کی نیلامی کی تقریب میں لکی کنسورشیم اور عارف حبیب کنسورشیم کے درمیان پی آئی اے کی نیلامی میں بولی لگانے کے 3 راؤنڈ ہوئے۔ ابتدائی راؤنڈ میں عارف حبیب کنسورشیم نے 115 ارب جبکہ لکی کنسورشیم نے 101 ارب 50 کروڑ کی بولی لگائی تھی۔ دوسرے مرحلے میں پی آئی اے کی نیلامی کی بولی 121 ارب روپے پر روکی گئی تھی،
تیسرے مرحلے میں لکی کنسورشیم اور عارف حبیب کنسورشیم نے پی آئی اے خریدنے میں بڑی بڑی بولیاں لگائیں، رقم 135 ارب پر پہنچی تو لکی کنسورشیم نے عارف حبیب کنسورشیم کو پی آئی اے خریدنے کی مبارک باد دی۔
مگر جو بات سب سے اہم ہے کہ اس میں سے حکومت کو صرف 10 ارب روپے ملیں گے۔ حاصل رقم کا 92 اعشاریہ 5 فیصد حصہ قومی ایئر لائن کی بہتری پر خرچ ہو گا اور باقی رقم ایئرلائن کی بہتری، اور مستقبل کی گروتھ پر لگائی جائے گی۔ بڈنگ کھلے عام ہوئی، مختلف گروپس شریک ہوئے، اور عارف حبیب گروپ نے سب سے زیادہ بولی دی۔واضح رہے کہ نجکاری کے بعد پی آئی اے کے ملازمین کو ایک سال تک تحفظ حاصل ہوگا، 6500 ملازمین کی مراعات اور تنخواہیں بھی برقرار رکھی جائیں گی۔
گروپ چیرمیں اورعارف حبیب گروپ کے سربراہ عارف حبیب نے کہا ہےکہ ہمارا اصرار تھا کہ ہم 100 فیصد شیئرز خریدنا چاہتے ہیں، ہمارا اندازہ تھا کہ بولی 130 ارب روپے تک جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اگلے مرحلے میں ہم کسی بین الاقوامی ایئر لائن کو بھی شامل کر سکتے ہیں، ابتدائی طور پر ہماری کچھ ایئر لائنز سے بات چیت بھی ہو چکی ہے۔اُن کا کہنا ہے کہ 12 فیصد پریمیئم پر سوا سال میں پوری ادائیگی کرنی ہے، حج و عمرے سمیت مذہبی سفر ہمارےپاس بڑی صلاحیت ہے، بیرونِ ملک پاکستانی بھی ایئر لائن کے لیے بہت اہم ہوں گے۔م تو چاہتے ہیں کہ مل کر پاکستان کے لیے بڑے پروجیکٹس کریں، ہمارا مؤقف ہے کہ ایک دوسرے کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ پی آئی اے کو عظیم بنانے سے پاکستانی معیشت کو بھی فائدہ ہو گا۔
بولی سے پہلے سابق نگراں وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے نجکاری کے عمل کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی ایئر لائن کی نجکاری کے لیے بولی جو بھی جیتے، جیت پاکستان کی ہی ہوگی
اور پھروزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ آج قومی ایئر لائن کی نجکاری کا دن ہے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار نجکاری ہوگی۔
شرائط کے مطابق 125ارب پی آئی اے پر خرچ، 10ارب قومی خزانے میں جمع ہونگے ، باقی 25 فیصد حصص بھی خریدنے کا اختیار،کل قیمت 180ارب ،1سال تک کوئی ملازم فارغ نہیں ہوگا،15سال کیلئے ٹیکس چھوٹ طیارے بڑھا کر 38 پھر 65 تک لے کر جائینگے :عارف حبیب،پی آئی اے کا نام تبدیل نہیں ہوگا،کون سا جہاز خریدنا ہے کون سا نہیں ،یہ انکا ذاتی فیصلہ ہو گا
اب دیکھنا یہ ہے کی کیا حکومت وقت پرانے تمام اداروں کو پرائیویٹ کرنے کے فیصلون کی طرھ پی ائی کو فروخت کرنے کا فیصلی بھی درست ثابت ہوگا یا نہین یہ کو وقت بتائے گا یا عارف حبیب گروپ کی حکمت عملی؟
وقت کے ساتھ دھول بیٹھ جائے گی۔ فی الحال عارف حبیب گروپ پُرعزم نظر آتا ہے کہ پی آئی اے کو واقعی ایک بین الاقوامی معیار کی ایئرلائن بنایا جائے۔باقی آگے کیا ہوتا ہے، یہ تو وقت بتائے گا۔اور تب تک، ہم سوال کرتے رہیں گے۔
154