قیامِ پاکستان کے بعد ملک کے تقریباً ہر ادارے نے مختلف شہروں میں اپنے افراد کے لیے گیسٹ ہاؤسز، کلبز اور رہائشی مراکز قائم کیے، مگر ادب کے شعبے کو ہمیشہ مسلسل نظرانداز کیا گیا۔ اسلام آباد میں اکادمیِ ادبیات کے ’’رائٹرز ہاؤس‘‘ کے سوا کسی شہر میں اہلِ قلم کے لیے کوئی باقاعدہ، باوقار اور مستقل مہمان خانہ کبھی میسر نہ ہوا۔
اگر اکادمیِ ادبیات کے صوبائی دفاتر کی عمارتیں بروقت تعمیر ہو جاتیں جس کے لئے ہر مجلس نشین نے بھرپور کوشش کی،تو لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، مظفرآباد اور گلگت جیسے شہروں میں بھی ادیبوں کے لیے ادبی مہمان خانے اور ادبی بیٹھکیں قائم ہو چکی ہوتیں۔ ایسے مراکز نہ صرف تخلیق کاروں کے لیے آرام و رہائش کا باعث بنتے بلکہ صوبوں کے درمیان فکری ہم آہنگی، مکالمے اور ادبی روابط کی مضبوطی کا بھی ذریعہ بنتے۔
بدقسمتی سے ادب و ثقافت کو غیر ضروری اور غیر منافع بخش سمجھنے والی ذہنیت آج بھی ایسے اداروں کو پیسے کا ضیاع قرار دیتی ہے اور ادبی عمارتوں کو ہتھیا کر وزیروں مشیروں کے دفاتر میں تبدیل کرنے کے منصوبے بناتی رہتی ہے۔
لاہور جیسے تاریخی اور ثقافتی شہر میں ادبی مہمان خانے کا قیام اب محض خواہش نہیں، ایک شدید ضرورت بن چکا ہے۔ یہاں پورے ملک سے آنے والے ادب و فن کے متوالوں ،شاعروں ،ادیبوں ، محققین اور تخلیق کاروں کو رہائش کی مشکلات نہ صرف ان کی تخلیقی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہیں بلکہ شہر کی ادبی میزبانی پر بھی سوال اٹھاتی ہیں۔
اسی محرومی کو محسوس کرتے ہوئے حسین مجروح نے لاہور میں ادبی مہمان خانہ قائم کرنے کا خواب دیکھا۔ انہوں نے اداروں، محکموں اور افسران کے دروازوں پر بارہا دستک دی، تجاویز اور یاد دہانیاں بھجوائیں، مگر کہیں سے مثبت جواب نہ ملا۔ تاہم
حسین مجروح اُن لوگوں میں سے نہیں جو ناکامی کو اپنی راہ کی دیوار بننے دیں۔ انہوں نے اتنے برسوں کی کاوشوں کے بعد سرکار دربار کی بے حسی سے مایوس ہو کر بیٹھ رہنے کی بجائے تنِ تنہا یہ بیڑہ اٹھایا کہ اگر ادارے اپنا فرض نہیں نبھاتے تو وہ اپنی قوتِ ارادی اور خلوص سے یہ کام ضرور کریں گے، تاکہ آنے والا ہر ادیب عزت، وقار اور سکون کے ساتھ لاہور میں قیام کر سکے۔
یہ قدم صرف اُن کی عملی بصیرت کا نتیجہ نہیں بلکہ پوری ادبی برادری کے لیے ایک پکار ہے کہ وہ اس خواب کی تکمیل میں ان کا ساتھ دے۔ ان کا ریکارڈ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ صرف خواب دیکھنے والے نہیں، خوابوں کو حقیقت میں ڈھالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ حلقۂ اربابِ ذوق کی فعالیت ہو، پاک ٹی ہاؤس کی بحالی کی جدوجہد یا ادبِ لطیف جیسے معتبر مجلے کی حیاتِ نو، انہوں نے ہمیشہ ادب کے لیے وہ کام کیے ہیں جو اداروں کے ذمے تھے۔
گزشتہ چند برسوں سے وہ سائبان، کے نام سے ایک بھرپور ادبی تحریک چلا رہے ہیں۔ اس کے تحت انہوں نے ملک بھر کے ادیبوں سے ملاقاتیں کیں، مسائل کا جائزہ لیا اور عملی اقدامات کیے۔
جس کے نتیجے میں مستحق ادیبوں کی کتابوں کی اشاعت ممکن بنی،اداروں کو ادبی جرائد کی خریداری پر آمادہ کیا گیا، چالیس برس بعد پنجاب بھر میں بزمِ ادب اور لائبریری پیریڈ کا دوبارہ آغاز ہوا اور سائبان کے نام سے ایک اعلیٰ ادبی مجلہ تسلسل کے ساتھ شائع ہو رہا ہے۔
یہ سب اس امر کی شہادت ہے کہ حسین مجروح تحریر کے نہیں، عمل کے آدمی ہیں اور لاہور میں ادبی مہمان خانے کا قیام بھی اسی جذبۂ خدمت کا تسلسل ہے۔
لاہور کی ویسٹ ووڈ سوسائٹی (ٹھوکر نیاز بیگ) میں ادیبوں کے لیے ایک باوقار مہمان خانہ اور ایک گرمجوش ادبی بیٹھک کے افتتاح میں شریک ھو کر احساس ہوا کہ لاھور جیسے بڑے ادبی مرکز میں اس کمی کو دیگر لوگوں اور ہالیسی سازوں نے کیوں محسوس نہ کیا، اس ادارے کا قیام پورے شہرِ ادب کے لیے خوش خبری ہے۔ یہ مہمان خانہ صرف ادیبوں کے لیے مخصوص ہوگا، جہاں معیاری رہائش نہایت رعایتی نرخ پر فراہم کی جائے گی اور سائبان تحریک کی جانب سے ناشتہ اعزازی طور پر پیش کیا جائے گا۔ ادبی بیٹھک میں تازہ اور معیاری چائے نصف قیمت پر دستیاب ہوگی اور مستقبل میں اسے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا فعال مرکز بنایا جائے گا۔
یہ سب کچھ ایک فرد نےکسی سرکاری سرپرستی کے بغیراپنے ذاتی وسائل اور دوستوں کی مدد سے کیا ہے۔افتتاحی تقریر میں بتایا گیا کہ ابتدائی اخراجات (پیشگی کرایہ، سیکیورٹی ڈیپازٹ، کمیشن، فرنیچر، بستر، کچن اور ضروری سامان) پر 12–13 لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ماہانہ اخراجات (کرایہ، یوٹیلٹی بلز، سوسائٹی چارجز اور عملہ) تقریباً 3 لاکھ روپے ہیں، جب کہ آمدن 70–80 ہزار تک محدود ہوگی۔ یوں ہر ماہ تقریباً 2 لاکھ 20 ہزار روپے کا خسارہ رہے گا۔جو لوگ اکادمی کے مہمان خانے سے اس کا مقابلہ کر رہے ہیں انھیں سوچنا چاہیے کی
اکادمی ادبیات میں جہاں عملہ، عمارت، بلز اور دیگر سہولتیں پہلے سے موجود ہیں، وہاں ایک دن کا کرایہ دو ہزار روپے ہے، جب کہ سائبان مہمان خانے میں تمام اخراجات خود برداشت کرنے کے باوجود کرایہ پہلے تین اور پھر دو ہزار روپے رکھا گیا ہے۔ یہ اس منصوبے کی نیت، خلوص اور خدمت کا کھلا ثبوت ہے۔ایک تنہا شخص کے لئے یہ مہمان خانہ چلانا ممکن نہیں ہے ،
ضروری ہے کہ ادیبوں پر مشتمل ایک مشاورتی بورڈ تشکیل دیا جائے تاکہ یہ ادارہ مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ کامیابی سے آگے بڑھ سکے۔
لاہور کے اہلِ قلم، ادبی حلقوں اور باشعور شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بے لوث، بلند اور خالص ادبی خدمت میں بھرپور کردار ادا کریں ، تاکہ یہ مرکز قائم بھی رہے اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک روشن مثال بھی بن سکے۔دیگر بڑے شہروں کے ادیبوں کو بھی ازخود ایسی کاوشیں کرنی چاہئیں کیونکہ پاکستان جیسے معاشرے میں ادبی روایات کی ترویج کی ذمہ داری حکومت کے نہیں ادیبوں کے سرہے۔
204