183

پرانے دوستوں سے خُوش کن رابطہ – تحریر: ڈاکٹر صغرا صدف

زندگی خون اور اخلاص کے دھاگوں سے گندھی گئی ہے، ہزار تعیشات ہوں مگر رشتوں کی خوشبو کا گزر نہ ہو تو عالیشان گھر حبس زدہ قید محسوس ہونے لگتے ہیں ، باہر کے شور سے گھبرا کر کچھ دیر کے لئے اچھی لگنے والی خاموشی چُبھںے لگتی ہے .
کیونکہ کچھ وقت کے بعد اندر کے سناٹے سے اُکتا کر ھماری سماعت آوازوں کو ترسنے لگتی ہے ، یہ آوازیں اگر مانوس اور مہربان ھوں تو سکوت کے پردے کے پیچھے دبک کر بیٹھی ہوئی چیخ بلند قہقہے کا روپ دھار لیتی ہے،
زندگی کے ہر دور میں مختلف لوگ ہماری توجہ کا حصہ بنتے رہتے ہیں۔ خیالات، مزاج، حالات اور ماحول کی مناسبت سے انسانوں سے قربتیں بڑھتی گھٹتی رہتی ہیں۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں درخت کی نئی شاخوں کی مانند اُگتے ہیں اور ہمیں بہار رُت کے ذائقوں سے متعارف کراتے ہوئے زندگی کو تازگی اور معنویت بخشتے ہیں۔ زیست کے صحن میں آمد و رفت ہی تحرک کا باعث بنتی ہے۔ ، اگر نئے لوگ ہماری زندگی میں داخل نہ ہوں، تو یکسانیت ایک بے نام سی اکتاہٹ میں ڈھل جاتی ہے۔ خواب سکڑنے لگتے ہیں، چیلنجز ماند پڑ جاتے ہیں اور زندگی کے منظرنامے پر رنگ ماند پڑنے لگتے ہیں۔
ہر فرد کے ساتھ کوئی نیا سبق، نیا تجربہ اور نیا زاویۂ نظر جڑا ہوتا ہے۔ بعض ملاقاتیں تلخی چھوڑ جاتی ہیں، مگر وہ بھی تجربے کی مٹھاس میں کہیں نہ کہیں تحلیل ہو جاتی ہیں۔مطلب یہ کہ انسان ہر تعلق سے کچھ نہ کچھ سیکھتا ضرور ہے، چاہے وہ ایک لمحے کا رشتہ ہو یا برسوں پر محیط ایک داستان۔
لیکن اس سب کے باوجود، طالب علمی کے زمانے کے دوست ایک الگ ہی مقام رکھتے ہیں۔ وہ دور ایسی معصومیت، بھولپن اور توانائی سے بھرپور ہوتا ہے۔جہاں دل خالص ہوتے ہیں، مسکراہٹیں بے ساختہ اور رشتے کسی مفاد کے بغیر جُڑتے ہیں۔ اُس زمانے میں وقت کی وسعت زیادہ ہوتی ہے، گفتگوئیں طویل اور ایڈونچرز ان گنت۔ ہم طالبعلمی کے دور کے دوستوں کو زیادہ گہرائی سے جانتے ہیں اور ان کی خامیوں خوبیوں سمیت قبول کرتے ہیں۔۔ شاید اسی لیے اُن دوستیوں میں ایک ایسی خوشبو بسی رہتی ہے جو برسوں بعد بھی دل کے کسی کونے میں سانس لیتی رہتی ہے۔
کئی دنوں سے دل میں یہ خیال پنپ رہا تھا کہ کیوں نہ فلسفے کے پرانے دوستوں کو ایک بار پھر اکٹھا کیا جائے۔ وہ دوست جن کے ساتھ شرارتوں کے علاوہ مکالمے کے در وا ہوتے تھے، جن کے ساتھ بیٹھ کر کائنات، خدا، حسن اور انسان کے اسرار پر بحثیں ہوتی تھیں۔ اپنے کلاس اور سیشن فیلوز سے مل کر عجیب تازگی کا احساس ہوا، ہم نے وقت کے پردے کے پیچھے دھندلے ہو چکے نقوش کا دوبارہ دیدار کر کے اس وقت کو یاد کیا جو یاداشت کی پوٹلی میں بندھا ہمیشہ ساتھ رہا، تنویر جہاں قریشی نے حکم صادر کیا کہ کوئی بیماریوں کا تذکرہ نہ کرے ، پھر ہم یاد کی کشتی پر بیٹھ کر واقعی بیس سال کی عمر کے عہد میں پہنچ کر ہنستے رہے۔ کبھی ہر سال مختلف شیروں بلکہ صوبوں میں بڑے اہتمام کے ساتھ فلسفہ کانفرنس کا اہتمام ہوا کرتا تھا جہاں پرانے اور نئے چہرے ایک ہی فکری فضا میں سانس لیتے، پرانے دوستوں سے ملاقات اور نئی نسل کے طلبہ سے تعارف کا موقع ملتا۔ فلسفہ کانفرنس فکری مباحثوں کی مسلسل روایت تھی، وہ تسلسل ایسا ٹوٹا کہ ڈاکٹر غزالہ عرفان کی ہزار ہا کاوشوں کے باوجود جُڑ نہ پایا،
یہ ایک فکری اور تہذیبی زوال کی علامت ہے۔ ایسے ملک میں جہاں مذہب کو نمائشی چمک اور مصنوعی ٹھیکیداری کے قالب میں ڈھال دیا گیا ہو، وہاں فلسفہ یعنی فکر، سوال اور وجدان کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عملی سطح پر فلسفے کے دروازے بند کیے جا رہے ہیں۔ گورنمنٹ کالج جیسے علمی ادارے سے جب شعبۂ فلسفہ ہی ختم کر دیا جائے تو یہ صرف ایک مضمون کا زیاں نہیں ہوتا، دانش اور سوچ سے انحراف کرنا ہوتا ہے ۔ فلسفہ وہ علم ہے جو انسان کو سوال کرنے کا حوصلہ دیتا ہے، سوچنے کی جرات بخشتا ہے اور یقین کے پسِ پردہ چھپے امکانات کو دریافت کرتا ہے۔
ایسے میں ضرورت ہے کہ جامعات میں دوبارہ فکری زندگی کی روح پھونکی جائے۔ علمی مکالمے کی محفلیں، فکری نشستیں اور کانفرنسز اس مردہ فضا کو پھر سے زندہ کر سکتی ہیں۔
اس وقت پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شاہ ایک نہایت علمی و ادبی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اُن سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ شعبہ فلسفہ کو سالانہ کانفرنس کے انعقاد کے لیے فنڈز فراہم کریں گے، تاکہ طلبہ میں سوال کرنے، سوچنے اور تخلیق کرنے کی روایت پروان چڑھ سکے۔ جب تک ہم فکر اور مکالمے کے در نہیں کھولیں گے، تب تک تہذیب کے زوال کو نہیں روک سکیں گے۔
فلسفہ دراصل زندگی کے انہی تعلقات کی توسیع ہے جو دو انسانوں کے درمیان پل بناتے ہیں۔ دوستوں کی محفلیں، مکالمے، سوالات اور ہنسی یہ سب کسی معاشرے کی فکری صحت کی علامت ہیں۔ جب یہ محفلیں ٹوٹتی ہیں، تو صرف دوست نہیں بچھڑتے، بلکہ ایک نسل کی فکری روایت بھی ٹوٹ جاتی ہے۔
شاید اسی لیے پرانے دوستوں سے ملاقات کی خواہش محض جذباتی نہیں بلکہ تہذیبی بھی ہے،یہ ماضی کے اُن روشن لمحوں کو پھر سے زندہ کرنے کی آرزو ہے جن میں دوستی، علم اور محبت ایک دوسرے کے ہم معنی تھے۔
شعبہ فلسفہ کے دوستوں میں ہر دلعزیز اُستاد اور دوست ڈاکٹر غزالہ عرفان، عماد اللہ شیخ ،خاور محبوب سید، شہباز شیخ ، اسماء اعظمی ، تنویر جہاں قریشی ،شاہد گل ، شگفتہ بُخاری ، ڈاکٹر محمد جواد ،حنا شفقت،نثار چوہدری ، عامرہ کے علاوہ خوبصورت شاعر حماد غزنوی ، جنید صاحب ، منور احمد ، سجاد بری اور ندیم اقبال باہو کی آمد بہت خوش گوار رہی، گپ شپ کے علاوہ شاعری، گائیکی صوفیانہ کلام نے بہت مزہ دیا، پرانے وقت نکال کر دوستوں سے رابطہ کیجئے اور خود کو دوبارہ اسی دور میں محسوس کیجئے ،

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں