عالمی معیشت کی کچھ گتھیاں ایسی ہیں جو صرف اعداد و شمار سے نہیں سلجھائی جا سکتیں۔ ان کے پیچھے طاقت کے کھیل، اقتصادی تاریخ کے زاوئیے، اور غیر مرئی سیاسی ہاتھ پنہاں ہوتے ہیں۔ آج سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ڈالر کی عالمی حکمرانی ختم ہونے کے قریب ہے؟ یہ سوال محض معاشی نوعیت کا نہیں بلکہ ہر ملک، ہر کاروبار، اور ہر شہری کے مستقبل کا معاملہ بھی ہے۔ گلوبل ساؤتھ یعنی ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے ممالک اب کھل کر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ڈالر پر ان کا اعتماد کم ہو رہا ہے اور اس کے پیچھے صرف معاشی وجوہات نہیں، سیاسی اور اسٹریٹجک عوامل بھی چھپے ہیں۔
امریکہ نے حال ہی میں اپنے اتحادیوں سے لے کر حریفوں تک سب پر محصولات اور پابندیاں عائد کی ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اپنے ہی مرکزی بینک کو سیاسی دباؤ میں لانے کی کوشش کی اور قرض کی حدیں بڑھا کر عالمی مالیاتی نظام میں غیر یقینی ماحول پیدا کیا۔ اسی دوران چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی معاشی و عسکری مسابقت اور مشرق وسطیٰ کے ساتھ ٹوٹے ہوئے سیکورٹی معاہدے دنیا کے کئی ممالک میں عدم اعتماد کی فضا پیدا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال عالمی سطح پر اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ شاید ایک نئی مالیاتی ترتیب ابھرنے والی ہے، جس میں ڈالر کی حکمرانی پہلے جیسی مضبوط نہیں رہے گی۔
ڈالر کی اصل طاقت صرف نوٹ یا بینک بیلنس کی شکل میں نہیں ہے بلکہ یہ اعتماد کی طاقت ہے۔ امریکہ کی مضبوط معیشت، شفاف مالیاتی نظام، آزاد منڈی اور مستحکم سیاسی ڈھانچہ ہی ڈالر کو عالمی سطح پر وہ مقام دیتا ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔ عالمی ذخائر کے تقریباً ساٹھ فیصد زرمبادلہ ڈالر میں ہیں اور عالمی تجارت کا اسی فیصد حصہ ڈالر میں طے ہوتا ہے۔ تیل، سونا اور دیگر خام مال کی قیمتیں بھی ڈالر میں طے کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر کی حکمرانی ابھی بھی مستحکم ہے اور اس کا تخت گرنا اتنا آسان نہیں جتنا اکثر سننے میں آتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ڈالر کی حکمرانی کو چیلنج ملنا شروع ہو گیا ہے۔ امریکہ نے ڈالر کو ایک ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے۔ روس، ایران اور وینزویلا جیسے ممالک نے محسوس کیا کہ ڈالر کی طاقت صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی بھی ہے۔ چند ہفتوں میں اربوں ڈالر منجمد کرنا، پابندیاں لگانا اور عالمی معیشت کو دباؤ میں لانا اسی ہتھیار کی مثالیں ہیں۔ یہ وہ لمحہ ہے جب دنیا نے سوچنا شروع کیا کہ کیا ایک ہی ملک کی کرنسی، اس کی سیاسی پالیسیوں کے تابع رہ کر عالمی تجارت پر حاوی ہو سکتی ہے۔ یہی سوال آج گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے ذہنوں میں ہے۔
چین عالمی کرنسی کی دوڑ میں سب سے آگے کھڑا ہے، لیکن اس کے لیے رکاوٹیں بھی بہت ہیں۔ یوان ابھی مکمل طور پر convertible نہیں ہے، یعنی ہر جگہ ڈالر کی طرح استعمال نہیں ہو سکتا۔ چین کے سیاسی نظام پر عالمی اعتماد محدود ہے اور تجارتی جنگ اور جغرافیائی سیاسی دباؤ یوان کے عالمی پھیلاؤ کو محدود کر رہے ہیں۔ چین نے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے تحت یوان میں ادائیگی، روس اور خلیجی ممالک کے ساتھ تیل کے سودے، اور برکس ممالک کے ساتھ مشترکہ مالیاتی اقدامات کے ذریعے ڈالر کے مقابلے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ سب ابھی بھی ڈالر کے مقابلے میں چھوٹے اقدامات ہیں اور عالمی سطح پر مکمل خطرہ نہیں۔
نظریا تی طور پر برکس یعنی برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ ایک مضبوط بلاک بن سکتا ہے، مگر عملی طور پر وہ ابھی بھی ڈالر کے عالمی نظام کے مقابلے میں کمزور ہے۔ رکن ممالک کی معاشی اور سیاسی ترجیحات مختلف ہیں، مشترکہ مالیاتی نظام ابھی وجود میں نہیں آیا، باہمی تجارتی انحصار محدود ہے اور سیاسی اتحاد بھی مکمل نہیں۔ یہ تمام وجوہات بتاتی ہیں کہ ڈالر کا تخت ابھی محفوظ ہے، لیکن اس کے کنارے پر دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں اور عالمی سطح پر متعدد ممالک اپنی کرنسیوں میں توازن لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی مالیات کا مرکز آج بھی ڈالر ہی ہے اور دنیا کی بڑی مالیاتی اور تجارتی سرگرمیاں اب بھی اسی کے گرد گھومتی ہیں۔
پاکستان ہمیشہ سے ڈالر پر انحصار کرتا آیا ہے۔ ہماری برآمدات، درآمدات، قرض اور روزمرہ تجارت تقریباً سب ڈالر کے گرد گھومتے ہیں۔ اگر دنیا واقعی multipolar financial order کی طرف جا رہی ہے، تو پاکستان کو بھی اپنی حکمتِ عملی بدلنی ہوگی۔ چین کے ساتھ یوان میں تجارت بڑھانی ہوگی، خلیجی ممالک کے ساتھ مقامی کرنسی میں معاہدے کرنے ہوں گے، برآمدات کو فروغ دینا ہوگا اور مالیاتی خودمختاری کو قومی سلامتی کا حصہ سمجھنا ہوگا۔ ورنہ ڈالر کے کنارے پر پڑنے والی دراڑیں پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہ سب کچھ صرف عالمی طاقتوں کی جنگ نہیں، یہ ہماری روزمرہ کی زندگی کا سوال بھی ہے۔ کراچی تا خیبرتاجر طبقہ ڈالر کے بدلتے حالات سے براہِ راست متاثر ہے۔ قرض کی شرحیں بڑھیں، برآمدات کمزور ہوں، کرنسی کی قیمت گر جائے، سب سے پہلے عام شہری کی جیب پر اثر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈالر کی حکمرانی کی بحث محض ماہرینِ معاشیات کا موضوع نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے لیے اہم ہے۔
ڈالر کی حکمرانی کمزور ہو رہی ہے، مگر اس حکمرانی کا خاتمہ؟ ہرگز نہیں…!! کم از کم آنے والے دس بیس سال میں تو نہیں۔ ابھی حقیقت یہی ہے کہ ڈالر کا تخت محفوظ ہے، مگر کنارے پر دراڑیں واضح ہیں۔ دنیا کی نظر میں تبدیلی آ رہی ہے، لیکن زیادہ تر دنیا ابھی بھی ڈالر کے ارد گرد گھوم رہی ہے۔ یہاں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی اقتصادی حکمتِ عملی اور مالیاتی خودمختاری کو مضبوط کریں، تاکہ کسی عالمی اقتصادی زلزلے میں ہم سب سے زیادہ متاثر نہ ہوں۔
ڈالر کی حکمرانی کے یہ پیچیدہ راز، عالمی سیاست کے دباؤ، اور ہر ملک کے فیصلوں میں اثر انداز ہونے والے عوامل ہمیں بتاتے ہیں کہ عالمی مالیاتی منظرنامہ ایک مسلسل بدلتا ہوا کھیل ہے۔ پاکستان جیسے ممالک کے لیے یہ لمحہ خطرہ بھی ہے اور موقع بھی، کیونکہ جو قوم اپنے نوجوانوں کے وقت اور وسائل کو عالمی مالیاتی تبدیلیوں کے مطابق ڈھالتی ہے، وہ اپنی معیشت اور مستقبل کے فیصلوں میں سب سے آگے رہتی ہے۔
153