سینیٹ سے منظوری کے بعد آج قومی اسمبلی میں بھی 27ویں آئینی ترمیم منظور کرلی گئی، آئینی ترمیم کی حمایت میں 234 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 4 نے مخالفت میں ووٹ کیا۔
اس سے قبل 27ویں آئینی ترمیم کی تمام 59 شقیں دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئیں، جس کے بعد حتمی منظوری دی گئی۔
ووٹنگ کا عمل ڈویژن سے ہوا، ترمیم کے حق اور مخالفت میں ووٹ کرنے والے اراکین کو الگ الگ لابی میں جانے کی ہدایت کی گئی۔
آرٹیکل 255 شق دو میں ترمیم کی گئی کہ موجودہ ٹرم کے بعد چیف جسٹس پاکستان کی تعیناتی سے متعلق ہے، چیف جسٹس سپریم کورٹ اور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت میں سے سینئر ترین چیف جسٹس پاکستان ہو گا۔