219

ICAP کے زیراہتمام لاہور میں CFOکانفرنس 2025کا انعقاد

2025 انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کی کمیٹی پروفیشنل اکاؤنٹنٹس ان بزنس (PAIB) کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں ’کوانٹم لیپ: مستعدی اور مسابقتی برتری‘ کے عنوان سے CFO کانفرنس 2025 منعقد ہوئی ۔

کانفرنس کا اہم پہلو پیکیجز گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اور منیجنگ ڈائریکٹر، سید حیدر علی کا کلیدی خطاب تھا۔”قیادت میں تبدیلی: متحرک CFOs کے لیے نئی جہت“ کے عنوان سے اپنے خطاب میں سید حیدر علی نے CFO کے کردار میں ہونے والی ہمہ جہت تبدیلیوں پر روشنی ڈالی جو روایتی مالی نگہبانی سے بڑھ کر حکمت عملی پر مبنی کاروباری قیادت کی جانب گامزن ہیں ۔ سید حیدر علی نے آج کے غیر مستحکم معاشی ماحول میں جدت طرازی، کارکردگی اور لچک پیدا کرنے میں CFO کی صلاحیت پر بھی زور دیا۔

آئی کیپ کے صدر، جناب سیف اللہ نے اپنے کلیدی خطاب میں اس سال کے موضوع کی اہمیت اور بروقت ہونے کو مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔انہوں نے عالمی مالیاتی اور کاروباری منظرنامے میں غیرمعمولی رفتار سے ہونے والی تبدیلیوں پر غور کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دور کے فنانس لیڈرز کو نہ صرف مستعدی پیدا کرنا چاہیے بلکہ جدید اورانقلابی تبدیلیاں لانے والی ٹیکنالوجیز کو بھی اپنانا چاہیے، تاکہ وہ اپنے اداروں کے لیے حکمت عملی رکھنے والے سہولت کار کا کردار ادا کر سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایسے دور میں جب پیچیدگی اور غیر یقینی صورتحال غالب ہے، تبدیلی کو بروقت بھانپ لینا اور فعال انداز میں قدر کی تخلیق کو آگے بڑھانا اب کوئی انتخاب نہیں بلکہ ادارہ جاتی کامیابی کے لیے ایک لازمی تقاضا بن چکا ہے۔

آئی کیپ کے نائب صدر، جناب سمیع اللہ صدیقی نے معزز مہمانوں، منتظمین،آئی کیپ کونسل کے اراکین، اسپانسرز اوردیگر تمام شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا، جن کی قابل قدر کاوشوں سے یہ کانفرنس کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔انہوں نے CFOs کے اہم اوربدلتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا، جو اب صرف مالی شفافیت کے نگران نہیں رہے بلکہ ادارتی تبدیلی کے محرک بھی بن چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ CFOs بصیر رکھنے والے رہنما بن کر ڈیجیٹل انضمام کو فروغ دے رہے ہیں، اخلاقی حکمرانی کےماحول کو فروغ دے رہے ہیں، اور ایک پیچیدہ کاروباری ماحول میں اپنے اداروں کو طویل مدتی اور پائیدار ترقی کی جانب گامزن کر رہے ہیں۔

کانفرنس نے مزید پیش رفت ’بااختیارترقی: ڈیجیٹل ایکو سسٹم سے استفادہ‘ کے عنوان سے ایک فکر انگیز پینل مباحثے کی صورت میں کی۔اس مباحثہ کی ماڈریٹر سوئفٹ لاجسٹکس کی نائب صدر اسٹریٹیجی ،محترمہ ثنامیلہ تھیں جب کہ دیگر مقررین میں ہیوگو بینک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، عَتیب طاہر، نشاط کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، جناب سلمان حفیظ، اور آئی جی آئی انشورنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جناب فیصل خان شامل تھے۔اس مباحثے نے اس موضوع پر گہری انسائٹس فراہم کیں کہ کاروباری ادارے کس طرح ڈیجیٹل تبدیلی، فی الفور اینالیٹس، اور بہتر مالی مستعدی کے ذریعے قابل توسیع ترقی کے دروازے کھول سکتے

بعدازاں ،”مصنوعی ذہانت میں اخلاقیات: مالیات میں اعتماد اور شفافیت کا تحفظ“ کے عنوان سے ایک بصیرت افروز پریزنٹیشن دی گئی۔ یہ پریزنٹیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ فکری رہنمااورایونسیون کے چیف انٹریپرینیور اور ہیڈ آف آکٹوپس ڈیجیٹل ،جناب اثمار عاطف نے پیش کی۔انہوں نے مصنوعی ذہانت اور مالیاتی اخلاقیات کے باہمی تعلق کا تفصیلی جائزہ پیش کیا اور اس بات پر زور دیا کہ جب مالیاتی فیصلے الگورتھم کی بنیاد پر کیے جا رہے ہوں تو شفافیت، اعتماد اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے مضبوط گورننس ڈھانچوں کا قیام ناگزیرہے۔

”سرعت کے دور میں مالیات : پیچیدہ صورت حال میں مستعدی کے ساتھ راستہ تلاش کرنا“ کے عنوان سے دوسرا کلیدی خطاب انٹرنیشنل فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (IFAC) کے چیف ایگزیکٹو آفیسرجناب لی وائٹ نے کیا۔ اپنے خطاب میں جناب لی وائٹ نے مالیاتی پیشہ وروں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت کو فعال اندازمیں اپنائیں، پائیداری کے عالمی تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں، اور جامع قیادت کے ماڈلز کو اپنائیں تاکہ وہ ایک تیزی سے پیچیدہ ہوتے ہوئے عالمی معیشت میں اپنی افادیت اور مسابقت کو برقرار رکھ سکیں۔

پروگرام کو مزید با معنی بناتے ہوئے، ساؤتھ ایشین فیڈریشن آف اکاؤنٹنٹس (SAFA) کے صدر، جناب اشفاق یوسف ٹولا نےبھی”فنانس کی نئی تعریف: مستعدی کے دور کے لیے کوانٹم سوچ“ کے عنوان سے ایک اہم پریزنٹیشن دی۔اس پریزیٹیشن میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ غیر یقینی اور تیزی سے بدلتے ہوئے حالات میں مستقبل بینی اور موافق مالیاتی حکمتِ عملی کو اختیار کرنا نہایت اہم ہو چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے دور میں کامیابی اُن ہی اداروں کا مقدر بنتی ہے جو روایتی سوچ سے ہٹ کر کوانٹم طرزِ فکر کو اپناتے ہیں اور لچکدار مالی پالیسیوں کے ذریعے تبدیلی کا مؤثر جواب دیتے ہیں۔
ایک نئے زاوئیے پر مبنی پُرجوش گفتگو کا آغاز اس وقت ہوا جب آئی کیپ کے نوجوان رکن، فیضان حنیف نے دی انٹرنیشنل گرامر اسکول، لاہور کے چیف فنانشل آفیسر، جناب ُزنیر ظفر کے ساتھ ایک دلچسپ مکالمے میں حصہ لیا۔ اس مکالمے کا عنوان تھا: ”اپنی طاقت سے کام لیجیے۔“یہ مکالمہ اُبھرتے ہوئے پیشہ ور افراد کے لیے نہایت متاثر کن ثابت ہوا، جس میں انہیں اپنی اندرونی صلاحیتوں کو پہچاننے، اعتماد کے ساتھ قیادت کرنے، اور فنانس کے شعبے میں مقصد کے ساتھ آگے بڑھنے کی ترغیب دی گئی تھی۔

سرمایہ کاری اور اقتصادی مواقع کے موضوع پر مرتکز ایک سیشن میں، نٹ شیل گروپ کے چیئرمین اظفر احسن نے”پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع: بدلتا ہوا کاروباری ماحول“ کے عنوان سے ایک دلچسپ خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کی موجودہ صورتحال، مختلف شعبوں میں دستیاب مواقع، اور اقتصادی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ عوامل کس طرح ملک میں سرمایہ کاری کے منظرنامے کو تشکیل دے رہے ہیں۔

”ہیومن بیلنس شیٹ: مستقبل کے لیے صلاحیت اور قیادت کو محفوظ کرنا“ کے عنوان سے انسانی وسائل کے بارے میں بھی ایک پینل مباحثہ منعقد ہوا ۔ اس مباحثے کی نظامت اسپیل لمٹیڈ کے چیف فنانشل آفیسر،جناب خلیل احمد ہاشمی نے کی۔مباحثے کے دیگر متاثر کن شرکاء میں لکی موٹرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جناب محمد فیصل؛ اسٹائل ٹیکسٹائل کے چیف اسٹریٹیجی اینڈ ٹرانسفارمیشن آفیسر،جناب جاوید اختر ؛ اور سسٹمز پرائیویٹ لمٹیڈ کی چیف ہیومن ریسورس آفیسر، محترمہ طویما اصغرشامل تھے۔ پینل نے متنوع ٹیلنٹ پائپ لائنز کی تشکیل، مستقبل کے لیے تیار صلاحیتوں کو فروغ دینے، اور ہمدردی، موافقت اور جدت پر مبنی قیادت کو پروان چڑھانے کی فوری ضرورت پر زور دیا۔

”کمپلائینس سے آگے: پائیدار کامیابی کے لیے ای ایس جی“کے عنوان سے پائیداری اور نگرانی کے موضوعات کو اجاگر کرنے والی ایک فائر سائیڈ گفتگوبھی منعقد ہوئی ۔اس گفتگو کی قیادت ڈبلیو ڈبلیو ایف پاکستان کی ڈائریکٹر، محترمہ نازیفہ بٹ نے کی جب کہ گفتگو کے دیگر شرکاء میں نیسلے کے آپریشنل کنٹرولر،جناب فواد الحسن؛ اورپاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن میں کلائمٹ چینج اور فوڈ سیکیوریٹی کی رکن محترمہ نادیہ رحمن شامل تھے۔اس گفتگو کے لیے ماڈریٹر کے فرائض اے ایف فرگوسن اینڈ کو کے پارٹنر ، جناب علیم زبیرنے انجام دئیے ۔اس گفتگو میں ESG فریم ورکس کو طویل مدتی کاروباری کامیابی کے لیے اسٹریٹجک محرک کے طور پر استعمال کرنے کے طریقے زیرِ بحث آئے۔

معروف لیڈرشپ کوچ اور مصنف جناب قیصر عباس نے ”کمانڈنگ دی لیپ“ کے عنوان سے ایک اثر انگیز اورحوصلہ افزا خطاب کیا۔اُن کے خطاب نے حاضرین کو توانائی بخشی اورمالیات ے شعبے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افرادکی حوصلہ افزائی کی کہ وہ تبدیلی اور خلل کے دور میں وژن، اعتماد، اور حوصلے کے ساتھ قیادت کریں۔

کانفرنس کا اختتام”معاشی لہر کا سفر“ کے عنوان سے اعلیٰ سطح کے ایک پینل مباحثے پر ہوا ۔ اس مباحثے کی میزبانی اے کے ڈی سیکیوریٹز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر، جناب فرید عالم نے کی جبکہ پینل کے دیگر شرکا میں مشیر خزانہ پاکستان، جناب خرم شہزاد، معروف ماہر معاشیات اوراسٹیٹ بینک کے سابق گورنر، ڈاکٹر شاہد کاردارسمیت ممتاز اقتصادی اور مالیاتی ماہرین شامل تھے۔اس پینل نے پاکستان کے مجموعی معاشی منظرنامے، اہم مالیاتی پالیسیوں کی سمت، اور وسیع تر کاروباری ماحول کا گہرائی سے جائزہ پیش کیا۔

اختتامی کلمات میں، آئی کیپ کےنائب صدر،جناب محمد اویس نے تمام شرکاء، مقررین، اور تنظیمی ٹیموں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے آئی کیپ کے اس عزم کو بھی دہرایا کہ ان کا ادارہ پاکستان کے مالیاتی پیشے کو مضبوط بنانے کے لیے قیادت، جدت، اور اخلاقی برتری کو فروغ دیتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں