مادری زبانوں کے عالمی دن کے تناظر میں پنجابی قوم اور زبان کی بات کریں تو استحصال کی ایک لمبی اور بھیانک تصویر دل دُکھاتی ہے۔پنجاب کی گُڑھتی میں صوفیاء کی رواداری ،محبت اور قربانی کا اثر اس قدر شدت سے موجود ہے کہ خدمت خلق کے راستے پر چلنا ان کے لیے سانس لینے کے مترادف بن چکا ہے، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ پنجابیوں کی اسی عادت نے انہیں کئی محاذوں پر نفرت، تعصب اور استحصال کا شکار کیا۔پنجاب ھمیشہ اپنا پیٹ کاٹ کر رفاعی کاموں میں اگے اگے رہا، لیکن ہاتھ پر ہاتھ رکھے منفی ذہن بدلے میں ہر اچھے کام میں کیڑے ڈالتے ، تنقید اور نفرت کے تیر برساتے رہے،آج بھی پنجاب کے کالجوں یونیورسٹیوں میں دیگر صوبوں کے طلبا رعایتوں سے لطف اندوز بھی ہورہے ہیں اور باقی سرگرمیوں میں مصروف و ملوث ہو کر پنجابی طلبا کا استحصال بھی کر رہے ہیں۔کیونکہ پنجاب میں دیگر علاقوں سے آکر آباد ہونے والے بیوروکریسی ، تجارت اور سیاست میں اچھا خاصا اثرورسوخ بنا چکے ہیں اس لئے پنجاب کی وحدت پر حملوں کو اندر سے تقویت پہنچتی رہتی ہے، مردم شماری میں کوئی تحقیق کرنے کی بجائے خود سے زبان کا خانہ پُری کرنے والے بھی مجرم ہیں اور ہدایات دینے والے بھی۔
ریاست کا اکثریتی آبادی والے صوبے پنجاب کی زبان سے سلوک بالکل ویسا ہی ہے جیسے کبھی بنگال کی بنگلہ زبان سے روا رکھا گیا، جس کے خلاف 1952 میں ڈھاکہ یونیورسٹی کے طلبا کو اپنے لہو سے تاریخ لکھنی پڑی اور دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کی مادری زبانوں کے حقوق کے لئے فضا میں بکھری آوازوں کی اقوام متحدہ کے ایوان اور فائلوں تک رسائی ہوئی ۔
جب جب پنجاب کی وحدت اور زبان کے حوالے سے بات ہوئی اسمبلی کے اندر سے ہی اس کی مخالفت کی گئی،جسی سیمینار میں پنجابی کی بات کرنے پر پنجاب کے سیاست دان اور وزرا اسے منافرت پھیلانے سے جوڑ کر دانشوروں اور لکھاریوں کو حیران کر دیتے تھے کہ وہ جس دھرتی کی ترقی کے دعوی دار ہیں اس کی تہذیبی ثقافتی اہمیت سے ہی آگاہ نہیں ، ستم کی حد یہ ہوئی کہ پنجاب کو کمزور کرنے کے لیے زبان و ادب ، ذات پات اور فرقہ پرستی کے ذریعے تقسیم در تقسیم کے مراحل سے گزارا جاتا رہا ، نتیجہ جو پنجاب رواداری کا علمبردار تھا وہاں فرقہ ورانہ شدت پسندی نے ایسا سر ابھارا کہ ہماری شناخت کو ہی مجروح کر دیا۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اج کا پنجاب اور نئی پنجابی نسل یک طرفہ محبت اور قربانی کا راستہ ترک کر چکی ہے، وہ عزت کے بدلے عزت کی قائل ہے اور اپنے اپنے وسائل کے زور پر جدوجہد کرنے کی طرف راغب ہے۔اس لیے دیگر صوبوں سے ا کر پنجاب میں نفرت کا پرچار کرنے والے سیاست دانوں اور علیحدگی کا نعرہ لگانا والوں کے لیے پنجاب کی سٹیج خوش آمدیدی کی تصویر نہیں بنے گی۔اس صورتحال میں ریاست کو اور دیگر لوگوں کو بھی سوچنا چاہیے، پنجاب کا فرد محنت کرنا جانتا ہے، پنجاب کا سیاست دان دھرتی اور ملک کی آن پر نہ سمجھوتہ کرتا ہے نہ ذرا سی بات پر علیحدگی کا نعرہ لگا کر ریاست کو بلیک میل کرتا ہے۔ریاست کو ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے ان کی جڑیں نہیں کاٹنی چاہیے۔بہرحال خوشی اس بات کی ہے کہ 78 برسوں کے بعد پنجابی زبان کو سرکاری سطح پر اپنا کر اسے مان دیا گیا، ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ پنجابیوں کے زبان و ادب کے حوالے سے تمام مطالبات مانے جا چکے ہیں لیکن جو شروعات ہوئی ہے یہ بہت شاندار ہے ،وہ زبان جس کے بولنے پر سکولوں میں بچوں کو تضحیک کا سامنا کرنا پڑتا اود انھیں خارج کر دیا جاتا تھا ،اسمبلی میں ناپسندیدگی کا اظہار کیا جاتا تھا، دفاتر میں بین لگا دیا جاتا تھا، اس زبان کے ہر گلی کوچے اور سڑکوں پر اویزاں بورڈ دیکھ کر دل مسرور ہوئے اور اور روح کی گہرائیوں سے دعا نکلی کہ پنجاب کو اس کی اصل شناخت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ملنا شروع ہو گیا ہے،کوئی بھی قوم اپنی اصل سے ہٹ کر زندہ نہیں رہ سکتی اور مریم نواز شریف نے پنجاب کے صحن میں اس کے تمام روٹھے میلوں اور تہواروں کو دوبارہ سے چہل پہل کی اجازت دے کر پنجابیوں کا شملہ بلند کر دیا ہے ،ان کے مرجھائے دلوں کو متحرک کر دیا ہے۔خوشی کی لے پر بھنگڑا ڈالنے والے اور محبت کے گیت گانے والے تن من دھن سے اس فیصلے پر شکر گزار ہیں،اکیس فروری کو الحمرا میں وزیر اطلاعات و ثقافت عظمیٰ بخاری کی ہدایات پر ای ڈی الحمرا علی نواز گوندل نے عالیشان پنجابی مشاعرے کا انعقاد کیا ، منفرد شاعر راجہ صادق اللہ کی صدارت اور نبیل نجم کی نظامت میں ہونے والے مشاعرے میں شعرا عدل منہاس لاہوری ،ویر سپاہی، جواز جعفری، نیلم احمد بشیر، نصیر احمد، صابر علی صابر، افضل ساحر ، بینا گوئندی، اعظم توقیر الماس شبی، سلطان کھاروی، عدیل برکی ،عتیق انور راجہ، سرفراز صفی، راجہ نئیر، یوسف پنجابی، احد اقبال بزمی، آصف انصاری، اِفی گُجر اور دیگر نے پنجاب حکومت کے پنجابی زبان کو مان دینے کے فیصلے کی
پزیرائی کے ساتھ دھرتی سے محبت کا پرچار کیا ،
82