کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں اگر اپ نے انصاف لینا ہے تو اپ کا امیر ہونا بہت ضروری ہے اگر اپ غریب ہیں اور اپ کے پاس پیسے نہیں ہیں تو انصاف تو دور اپ کو کوئی پانی کا بھی نہیں پوچھے گا ۔اور اگر اپ غلطی سے انصاف لینے کی کوشش کر بھی لے تو تو الٹا اپ کو جرم دار قرار دے کر اپ کے خلاف کاروائی ہو جائے گی ۔ جی ہاں ایسا ہی واقعہ گزشتہ روز لاہور میں ہوا جب ضلع جھنگ کی تحصیل شوکوٹ سے ائے ہوئے نوجوان غلام مرتضیٰ اور اس کی ایک عدد بیٹی جس کی عمر صرف 10 ماہ تھی اور اس کی بیوی لاہور میں داتا دربار حاضر دینے ائے ۔دربار میں حاضری دینے کے بعد جب وہ باہر نکلے تو شام ہونے کی وجہ سے باہر کافی اندھیرا تھا- غلام مرتضیٰ کی بیوی اپنے چھوٹی سے بیٹی کو لے کر باہر مین روڈ پر جب ائی تو اندھیرے کی وجہ سے گٹر کا ڈھکن نہ ہونے کی وجہ سے وہ گہرے مین ہول میں گر کی اس کے شوہر نے فورا شور مچایا اور قریبی ریسکیو کو انفارم کیا ہے کہ اس کی بیوی اور اس کی 10 ماہ کی بچی گٹر میں گر گئی ہے فوری طور پر اس کی مدد کی جائے-
وہاں پر متعلقہ ایس ایچ او نے اس کا مذاق اڑایا اور اس کو جھوٹ اور فریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ تم نے خود اپنی بیگم اور بچی کو جان بوجھ کر گٹر میں گرایا ہے یا تم نے اس کو قتل کر دیا ہے اور اپنا جھوٹ چھپانے کے لیے ایک ڈرامہ اب رچاہ رہے ہو ۔غلام مرتضیٰ نے کہا میں نے بہت قسمیں کھائی ان کے سامنے کہ میں جھوٹ نہیں بول رہا میری بیوی اور میری بچی اس مین ہول میں گر گئی ہے اس کو مدد کی جائے ۔پولیس انسپیکٹر نے مجھے زدوکوب کیا اور مجھے مارا اور مجھے جیل میں بند کر دیا گیا ۔جب یہ خبر میڈیا میں نشر ہوئی تو حکومتی ذرائع نے اس کی کو جھوٹ اور فیک کہا وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے بھی کہا کہ یہ خبر جھوٹی ہے ایسا کوئی کیس ہمارے پاس رجسٹر نہیں ہوا بہت سارے میڈیا نے اس کو حکومتی موقف کو درست قرار دیا کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا لیکن جب تین گھنٹے کے بعد اس عورت کی لاش برامد ہوئی تو ائی جی پنجاب کی طرف سے ایک اڈرجاری کیا گیا ہے کہ فورا طور پر اس کو اس کی انکوائری کی جائے ۔اور اس کے چند گھنٹوں کے بعد کوئی دو تین کلومیٹر پر اس بچی کی بھی لاش برامد ہو گئی-
ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے اس خبر کو غلط قرار دیتے رہے اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد خاتون اور اس کی بچی کی لاشیں 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔
آئی جی پنجاب کی ہدایت پر ایڈیشنل آئی جی کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس میں ڈی آئی جی احمد ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور بھی شامل تھے۔
مین ہول لاہور حادثے میں جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیوی اور بیٹی میری آنکھوں کے سامنے سیوریج لائن میں گر گئیں۔ پولیس نے مجھے تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس قتل کا اعتراف کرانا چاہتی تھی۔ اعتراف کرانے کیلئے تشدد کیا۔ خاتون کے والد سے سادہ کاغذ پر انگوٹھا لگوایا۔ کہا گیا مین ہول چھوٹا ہے بیوی نہیں گر سکتی، دباؤ ڈالا کہ تسلیم کروں بیوی کو اغوا کیا یا قتل کیا۔ یہ سب ایس پی کی موجودگی میں ہوتا رہا۔
ماں ، بیٹی کی نماز جنازہ ضلع جھنگ کی تحصیل شورکوٹ میں ان کے آبائی گائوں اللہ یار جوتہ میں ادا کردی گئی۔
احکام کی طرف سے انکے وارث کو ایک کروڑ دینے کا وعدہ کیا گیا لیکناسکے شوہر نے کہا کہ مجھے ایک کڑور کی ضرورت نہیں، پیسوں سے میرے بچوں کو ماں تو نہیں مل سکتی۔
اس سارے واقع میں ایس ایچ او بھاٹی گیٹ زین عباس کو معطل کر دیا گیا ہے۔ ڈی ایس پی کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا۔
اسکے بعد وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری نے تسلیم کیا کہ ابتدائی طور پر متعلقہ اداروں کی جانب سے فراہم کردہ غلط معلومات کی بنیاد پر ایک ویڈیو شیئر کی گئی، جس سے ابہام پیدا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی کوتاہی تسلیم کرنے اور معافی مانگنے میں وہ کبھی عار محسوس نہیں کرتیں، اور اگر ان کے استعفے سے متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکتا ہے تو وہ اس کے لیے بھی تیار ہیں۔
یہ کوئی کہانی نہیں بلکہ سچا واقعہ ہے جس طرح کراچی میں گل پلازہ مین غریبوں کے ساتھ ہوا ویسا ہی لاہور میں ایک غریب غلام مرتضیٰ کئ ساتھ ہوا اسکا گھر اجڑ گیا،ایک معصوم بچی اپنی ماں کے ساتھ بے موت ماری گئی کوئی نہیں پوچھنے والا – چند دن تک خبر زندہ رہیں گی پھر ایک نئی خبر ا جائے گی اور غلام مرتضیٰ کی خبر ایک افسانی بن کر رہ جائے گی زندگی کا پہیہ ایسے ہی چلتا رہیں گا نہ کوئی اس ملک مین تبدیلی ائے گی نہ اس ملک کے حالات ٹھیک ہونگے لیکن غلام مرتضیٰ جب تک زندہ ہے اپنی بیوی اور معصوم بچی کو یاد کر کے روتا رہے گا اور سوچتا رہیں گا کہ کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ دو زندہ انسان اسکی آنکھوں کے سامنے ڈوب گئے اور وہ کحچہ نہ کر سکا اور نہ کوئی بھی اسکے کام نہ ایا-
آخر میں غلام مرتضیٰ کے وسیلے یہ سوال تو بنتا ہے کہ کہ ہمارہ معاشرہ اتنا بے حس ہو چکا ہے کہ انسانی موت اسکے لئے کوئی معنی نہیں رکھتی؟
دو چار غریب لوگوں کو معطل کرنے سے کیا معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا ؟
135