91

قاتل بسنت اور مقتول زین ملک ؟ تحریر : میاں عصمت رمضان

کہتے ہے کہ اللہ کی رضا کے اگے کسی کی نہیں چلتی اور ہم مسلمان کی حثیت سے دیکھیں تو ہمارا یقین ہے کہ جو رات قبر میں ہے وہ باہر نہین لیکن اللہ نے دو راستے بھی دیے ہیں کی نیکی کا اور دوسرا بدی کا اگر ہم نیکی کا راستہ اپناتے ہیں تو اشھے کام کرے گے اور اگر شیطانی راستہ تو پھر نقصان کے ہم زمہ دار ہونگے،ایسا ہی واقعہ کل رات ہوا جب 25 سال سے بند شیطانی کھیل بند بسنت کے کھیل کو 3 دن کیلیے سرکاری طور پر کھولا گیا جہاں پر عربوں روپے کا مالی نقصان ہوا 3 دن سے لوگون کا کاروبار متاثر ہوا وہی پر بہت زیادی جانی نقصان بھی ہوا- درجنوں بچے مختلف حادثات مین زخمی ہوئے اور ایک دو تو اپنی جان کی بازی بھی ہور گئے انکے گھروں مین قیامت کا سماں تھا

انھی مین جوا سال سیئر صحافی اور سنو ٹی وی کے رپورٹر زین ملک بھی گھر کی چوتھی منزل سے سلپ ہو کر اپنی جان کہ بازی ہار گیا،سنو نیوز کے سپورٹس رپورٹر زین ملک چھت سے گر کر جاں بحق ہوگئے۔لاہور میں بسنت مناتے ہوئے افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں سنو نیوز سے وابستہ سپورٹس رپورٹر زین ملک چھت سے گر کر جاں بحق ہو گئے۔ زین ملک کا تعلق لاہور کے علاقے ساندہ سے تھا۔ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب وہ بسنت کی تقریبات کے دوران ایک مکان کی چوتھی منزل پر موجود تھے۔

اسی دوران وہ اچانک توازن کھو بیٹھے اور نیچے گر گئے کیونکہ پتنگ اڑانا ایک طرف پتنگ اڑا کر پیچاں لگانا جو زیادہ خطرناک ہوتا ہے سامنے والے کی پتنگ کاٹنے کے لیے آپ جذبات میں ہوتے قدموں کا پتا نہیں چلتا کب کنارہ آجائے صحافی زین کے ساتھ بھی کچھ یوں ہی ہوا چونکہ یہ نوجوان پتنگ اڑاتے اڑاتے چھت سے گر گیا نہیں پتا چلا کب کنارہ آ گیا اور چوٹ ایسی گہری لگی کہ زین دنیا سے رخصت ہو گیا -ہسپتال کی جانب سے جاری کیے گئے ڈیتھ سرٹیفکیٹ کے مطابق زین ملک کو اونچی جگہ سے گرنے کے باعث سر پر چوٹ لگی جو کہ جان لیوا ثابت ہوئی- گلشن راوی کا رہائشی صحافی زین ملک مختلف چینلز میں رپورٹنگ بھی کر چکا ہے اور لاہور پریس کلب کا کونسل ممبر بھی ہے۔ 3سال قبل نوجوان صحافی کی شادی ہوئی تھی
بسنت کا تہوار تا ختم ہو گیا لیکن میرا آخر پر جب بسنت ختم ہو گئی ہے سرکار سے سوال کرنا تو بنتا ہے کہ سرکار نے بسنت میلہ تو منا لیا لیکن زین ملک کا گھر مین قیامت چھوڑ گئی،بسنت تو پھر بھی آ جائے گی لیکن ماں کا لاڈلہ زین ملک اب کبھی نہیں ائے گا-حکومت ایسی تقریبات اور کھیل کیوں رکھتی ہیں جو عوام کی خوشی یا مسرت کا زریعہ بننے کی بجائے انکے کیلیے غم تکلیف اور کبھی نہ بھولنے والے لمحات کا زریعہ بنے-
حکومت اس پر پابندی برقرار رکھے حکومت جس پارٹی کی بھی ہو یا اگر بسنت کی اجازت دینی ہے تو ایک الگ جگہ مختص کرے جیسے متحدہ عرب امارات میں لوگ پتنگ بازی کرتے ہیں کھلا میدان جہاں کسی کے چھت سے گر جانے کا خطرہ بھی نہ ہو
ہماری تو دعا ہے کہ اللہ پاک زین ملک کے درجات بلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر و استقامت عطا کرے آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں