130

زندہ رہنا ہے تو جینا ہوگا …….رخسانہ سحر

ہم میں سے اکثر لوگ زندہ تو ہیں مگر جی نہیں رہے۔ سانس چل رہی ہے دل دھڑک رہا ہے، دن رات بدل رہے ہیں مگر زندگی کہیں بیچ میں رک سی گئی ہے۔ ہم نے زندہ رہنے کو ہی جینا سمجھ لیا ہے حالانکہ یہ دونوں ایک جیسے نہیں۔
زندہ رہنا مجبوری ہو سکتی ہے مگر جینا ایک انتخاب ہے۔ زندہ رہنے والا شخص وقت کاٹتا ہے دن پورے کرتا ہے، ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔ لیکن جینے والا شخص وقت کو محسوس کرتا ہے، لمحوں کو جیتا ہے، اور زندگی میں معنی تلاش کرتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ حالات خوف معاشی دباؤ اور سماجی توقعات نے ہمیں صرف زندہ رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ہم نے خوشی کو کسی دن، کسی کامیابی، کسی دوسرے مرحلے سے مشروط کر دیا ہے۔ “بس یہ ہو جائے، پھر جیوں گا۔” مگر وہ “پھر” کبھی نہیں آتا۔ زندگی انتظار میں گزر جاتی ہے اور ہم سمجھتے رہتے ہیں کہ ابھی وقت نہیں آیا۔
جینا اس بات کا نام نہیں کہ ہر وقت مسکراتے رہیں یا غم سے آزاد ہوں۔ جینا یہ مان لینے کا نام ہے کہ دکھ بھی زندگی کا حصہ ہے، ناکامی بھی، تھکن بھی۔ مگر ان سب کے باوجود خود کو مکمل طور پر ختم نہ ہونے دینا ہی اصل جینا ہے۔ جینا یہ ہے کہ دل ٹوٹے تو اسے جوڑنے کی کوشش کی جائے، ہار جائیں تو دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھا جائے۔
ہم اکثر کہتے ہیں کہ حالات اجازت نہیں دیتے۔ مگر سچ یہ ہے کہ اکثر ہم خود اجازت نہیں دیتے۔ خود کو خوش ہونے کی خود کو معاف کرنے کی خود کے لیے جینے کی۔ ہم دوسروں کی توقعات پوری کرتے کرتے اپنی آواز بھول جاتے ہیں۔
زندگی بہت چھوٹی ہے کہ اسے صرف “نبھانے” میں گزار دیا جائے۔ اگر زندہ رہنا ہے تو جینا ہوگا دل سے، شعور کے ساتھ، اور اپنی کمزوریوں کو قبول کرتے ہوئے۔ جینا ہوگا کیونکہ وقت رکنے والا نہیں، اور جو لمحہ گزر گیا، وہ واپس نہیں آتا۔انسان کی زندگی ایک عجیب تضاد کا نام ہے۔ وہ سانس لیتا ہے، چلتا ہے، بولتا ہے، ہنستا ہے، مگر اکثر اندر سے خالی ہوتا ہے۔ بظاہر زندگی رواں دواں نظر آتی ہے، لیکن باطن میں ایک ٹھہراؤ ایک ویرانی ایک خاموش چیخ چھپی ہوتی ہے۔ شاید اسی کیفیت کا نام “صرف زندہ رہنا” ہے۔ کیونکہ جینا اس سے کہیں آگے کی شے ہے۔
زندہ رہنا حیاتیاتی عمل ہے؛ یہ جسم کی ضرورت ہے۔ لیکن جینا ایک شعوری تجربہ ہے، جو روح سے وابستہ ہے۔ زندہ رہنے والا شخص وقت کے بہاؤ میں بہتا رہتا ہے جبکہ جینے والا شخص وقت کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے۔ وہ لمحوں کو صرف گزار نہیں دیتا، انہیں محسوس کرتا ہے ان میں سوال ڈھونڈتا ہے، اور ان سے معنی کشید کرتا ہے۔
ہم ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں زندگی کو ہندسوں میں ناپا جاتا ہے آمدن، اسٹیٹس، کامیابی، اور قبولیت۔ ان پیمانوں نے انسان کو اس قدر الجھا دیا ہے کہ وہ خود سے کٹتا چلا گیا ہے۔ ہم نے اپنی خواہشات کو “بعد میں” کے خانے میں ڈال رکھا ہے اور اپنی خوشی کو کسی نامعلوم مستقبل کے ساتھ مشروط کر دیا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ حالات اجازت نہیں دیتے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے حالات کو اپنی داخلی آزادی پر حاوی ہونے دیا ہے۔
جینا آسان نہیں۔ جینا ہمت مانگتا ہے۔ اس میں اپنے زخموں کو دیکھنے کی جرأت درکار ہوتی ہے اپنی ناکامیوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ اور اپنی تنہائی سے آنکھ ملانے کی طاقت۔ جو شخص واقعی جیتا ہے وہ دکھ سے بھاگتا نہیں وہ دکھ کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ٹوٹنا زندگی کا اختتام نہیں، بلکہ اکثر اس کی نئی ابتدا ہوتا ہے۔
ہم میں سے اکثر لوگ دوسروں کے لیے جیتے جیتے خود کو بھول جاتے ہیں۔ معاشرہ ہمیں کردار دیتا ہےبیٹا، بیٹی شوہر، بیوی، ملازم مگر انسان ہونا کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔ ہم اپنی ذات پر اتنا کم وقت صرف کرتے ہیں کہ ایک دن آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بھی خود کو پہچان نہیں پاتے۔
زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ ہم مر جاتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم جیتے جی مر جاتے ہیں۔ خواب. احساس سوال سب آہستہ آہستہ دفن ہو جاتے ہیں، اور ہم اسے “سمجھداری” کا نام دے دیتے ہیں۔ حالانکہ اصل سمجھداری شاید یہ ہے کہ انسان اپنے اندر جلتی ہوئی اس چنگاری کو بجھنے نہ دے۔
زندہ رہنا کافی نہیں۔ اگر سانس کے ساتھ شعور نہ ہو، اگر دل دھڑکنے کے ساتھ احساس نہ ہو اگر دن گزرنے کے ساتھ معنی پیدا نہ ہوں تو ایسی زندگی محض ایک طوالت ہے، تجربہ نہیں۔ اس لیے اگر واقعی زندہ رہنا ہے تو جینا ہوگااپنے سوالوں کے ساتھ، اپنی کمزوریوں کے ساتھ اور اپنی سچائی کے ساتھ۔
کیونکہ زندگی ہمیں یہ نہیں پوچھے گی کہ ہم نے کتنا وقت گزارا وہ یہ پوچھے گی کہ ہم نے اس وقت میں کیا محسوس کیا. کیا سمجھااور کیا جیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں