95

ہار نہیں مانو گے تو جیت جاؤ گے . . . . . تحریر رخسانہ سحر

زندگی کسی سیدھی لکیر کا نام نہیں۔ یہ موڑ لیتی ہے، ٹھوکر لگاتی ہے کبھی اوپر اٹھاتی ہے تو کبھی زمین پر بٹھا دیتی ہے۔ اکثر لوگ شکست کو آخری سچ مان لیتے ہیں حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ہار اکثر انجام نہیں ہوتی بلکہ ایک مرحلہ ہوتی ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ہم گرے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ہم گرنے کے بعد اٹھے یا نہیں۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں کامیابی کو منزل سمجھ لیا گیا ہے اور ناکامی کو جرم۔ حالانکہ تاریخ کے اوراق پلٹیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر بڑی کامیابی کے پیچھے ناکامیوں کی ایک لمبی قطار کھڑی ہے۔ ایڈیسن ہزاروں تجربات کے بعد بلب تک پہنچا اقبال کو اپنے زمانے میں وہ پذیرائی نہ ملی جس کے وہ حقدار تھے اور عبد الستار ایدھی نے تنہائی اور مخالفت کے باوجود خدمت کا سفر نہیں روکا۔ اگر یہ لوگ ہار مان لیتے تو آج مثالیں بننے کے بجائے محض نامکمل کہانیاں رہ جاتے۔
ہار مان لینا دراصل خود سے دستبردار ہو جانا ہے۔ یہ مان لینا کہ ہم میں مزید کوشش کی سکت نہیں رہی۔ لیکن انسان کی اصل طاقت اسی لمحے جاگتی ہے جب سب کچھ خلاف ہو۔ مشکلات ہمیں توڑنے نہیں آتیں وہ ہمیں نکھارنے آتی ہیں۔ جو شخص ہر ٹھوکر کے بعد خود کو سنبھال لیتا ہے، وہی آگے چل کر مضبوط کردار کا مالک بنتا ہے۔
آج کا نوجوان سب سے زیادہ بے دلی اور مایوسی کا شکار ہے۔ سوشل میڈیا کی چمکتی ہوئی کامیابیاں اسے اپنی ناکامیوں کا احساس دلاتی ہیں۔ وہ یہ بھول جاتا ہے کہ ہر تصویر کے پیچھے ایک جدوجہد چھپی ہوتی ہے۔ کامیابی ایک رات میں نہیں آتی اس کے لیے صبر محنت اور مستقل مزاجی درکار ہوتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ یقین کہ اگر آج نہیں تو کل اگر کل نہیں تو پرسوں مگر میں کوشش نہیں چھوڑوں گا۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہار ماننا ہمیشہ حالات کی وجہ سے نہیں ہوتا اکثر یہ ہمارے اندر کے خوف کی پیداوار ہوتا ہے۔ ناکام ہو جانے کا خوف، لوگوں کی باتوں کا خوف اور خود کو کم تر سمجھنے کا خوف۔ جب ہم ان خوفوں سے آزاد ہو جاتے ہیں تو راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔
زندگی میں جیتنے والے وہ نہیں ہوتے جو کبھی نہیں گرتے بلکہ وہ ہوتے ہیں جو ہر بار گر کر اٹھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اگر آج حالات سخت ہیں اگر منزل دور لگتی ہے اگر خود پر شک ہونے لگا ہے تو بس ایک بات یاد رکھیں ہار مان لینا ہی اصل ہار ہے۔ جب تک سانس ہے، جب تک امید ہے، تب تک امکان باقی ہے۔
ہار نہیں مانو گے تو جیت جاؤ گےیہ محض ایک جملہ نہیں، زندگی کا اصول ہے۔کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دار و مدار صرف افراد کی صلاحیت پر نہیں ہوتا بلکہ اجتماعی سوچ رویّوں اور اقدار پر ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ ناکامی کو ذاتی کمزوری سمجھتا ہے اور ہارنے والے کو تنقید اور تمسخر کا نشانہ بنا دیتا ہے۔ یہی رویہ لوگوں کو کوشش سے پہلے ہی ہار مان لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں “ہار نہیں مانو گے” کہنا محض حوصلہ افزائی نہیں بلکہ ایک سماجی بغاوت بن جاتا ہے۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جہاں پہلی ناکامی پر نوجوان کو “نالائق” قرار دے دیا جاتا ہے۔ اگر امتحان میں نمبر کم آ جائیں تو طعنہ اگر کاروبار نہ چلے تو مذاق، اگر نوکری میں دیر ہو جائے تو سوالیہ نگاہیں۔ نتیجتاً افراد خود کو ثابت کرنے کے بجائے خود کو چھپانے لگتے ہیں۔ یہ اجتماعی رویہ صرف ایک فرد کو نہیں مارتا یہ پورے معاشرے کی تخلیقی صلاحیت کو قتل کر دیتا ہے۔
معاشرتی سطح پر ہار مان لینے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ قومیں درمیانی درجے پر رک جاتی ہیں۔ ہم نئے آئیڈیاز سے گھبراتے ہیں رسک لینے والوں کو پاگل سمجھتے ہیں اور روایت سے ہٹ کر سوچنے والوں کو باغی قرار دے دیتے ہیں۔ حالانکہ ترقی ہمیشہ انہی لوگوں کے ہاتھوں ہوتی ہے جو “ناکام ہونے کے خوف” سے آزاد ہو کر آگے بڑھتے ہیں۔ جب معاشرہ تجربہ کرنے والوں کا ساتھ دیتا ہے تو انفرادی ہمت اجتماعی طاقت میں بدل جاتی ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارا سماجی ڈھانچہ کمزور کو مزید کمزور کر دیتا ہے۔ غریب کے لیے ناکامی مستقل لیبل بن جاتی ہے جبکہ طاقتور کی ناکامی کو “عارضی مرحلہ” کہہ کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مضبوط معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں ہارنے والے کو سہارا دینا ہوگا اس کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے بجائے اس کے ہاتھ میں حوصلے کی چھڑی تھمانی ہوگی۔
معاشرے کی ذمہ داری صرف کامیاب لوگوں کو سراہنا نہیں بلکہ جدوجہد کرنے والوں کو قبول کرنا بھی ہے۔ ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں اور دفاتر میں یہ سوچ پروان چڑھانی ہوگی کہ ناکامی سیکھنے کا ذریعہ ہے، نہ کہ شرمندگی کا باعث۔ جب بچے یہ دیکھیں گے کہ گرنے پر انہیں ڈانٹ نہیں بلکہ رہنمائی ملتی ہے تو وہ زندگی کے میدان میں ڈٹ کر کھڑے ہوں گے۔
قومیں اس دن ہار جاتی ہیں جس دن وہ اجتماعی طور پر ہار مان لیتی ہیں۔ جب ناانصافی کو قسمت کہہ کر قبول کر لیا جائے جب بدعنوانی کو مجبوری سمجھ لیا جائے جب جہالت کو روایت کا نام دے دیا جائےتو پھر زوال یقینی ہو جاتا ہے۔ لیکن اگر ایک معاشرہ یہ طے کر لے کہ وہ حالات سے سمجھوتہ نہیں کرے گا تو اس کی تقدیر بدلنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ “ہار نہیں مانو گے تو جیت جاؤ گے” صرف فرد کے لیے پیغام نہیں، یہ ایک اجتماعی فلسفہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم نے بطور معاشرہ مایوسی کو رد کر دیا، ایک دوسرے کا ساتھ دینا سیکھ لیا اور بار بار گرنے کے باوجود کھڑے ہونے کی روایت ڈال دی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم بحیثیت قوم کامیاب نہ ہوں۔
کیونکہ اصل جیت صرف فرد کی نہیں ہوتی
اصل جیت پورے معاشرے کی ہوتی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں