61

پاکستانی نوجوان: سیاسی ایندھن یا تضحیک کا نشانہ؟ میاں وقارالاسلام

پاکستان کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، جسے اکثر “یوتھ بلج” یا ملک کا اثاثہ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن بدقسمتی سے، پاکستان کی سیاسی تاریخ اور موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسی اثاثے کو سیاسی مفادات، مقتدر حلقوں کے بیانیوں اور نظریاتی جنگوں میں تضحیک کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ نوجوانوں کی آواز کو دبانے یا ان کی سیاسی بیداری کو کم تر دکھانے کے لیے جو الفاظ استعمال کیے گئے، انہوں نے معاشرے میں گہری تقسیم پیدا کر دی ہے۔
سیاسی لیبلنگ اور تضحیک کے نئے پیمانے
موجودہ دور میں سیاسی جماعتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی تلخی نے نوجوانوں کے لیے القابات کی ایک نئی لغت تیار کر دی ہے۔ سب سے نمایاں مثال “برگر” اور “ممی ڈیڈی” جیسی اصطلاحات ہیں، جو ایک خاص طبقے کے نوجوانوں کو زمینی حقائق سے نابلد ثابت کرنے کے لیے استعمال کی گئیں۔ اس کے ردِ عمل میں “یوتھیا” جیسی غیر اخلاقی اور تضحیک آمیز اصطلاح سامنے آئی، جس کا مقصد تحریک انصاف سے وابستہ نوجوانوں کی سیاسی سوچ کو “جنونیت” یا “بے وقوفی” قرار دینا تھا۔
اسی طرح، روایتی جماعتوں سے وابستہ نوجوانوں کو “پٹواری” یا “جیالا” کہہ کر پکارا جاتا ہے، جس کا مقصد اب محض وابستگی ظاہر کرنا نہیں رہا بلکہ یہ طعنہ دینا ہے کہ یہ نوجوان شعور سے عاری اور موروثی سیاست کے غلام ہیں۔
ریاستی بیانیہ اور ‘گمراہ کن’ ہونے کا لیبل
جب نوجوان ریاست کی پالیسیوں یا مقتدر حلقوں کے سیاسی کردار پر سوال اٹھاتے ہیں، تو ان کی حب الوطنی کو مشکوک بنانے کے لیے مخصوص اصطلاحات کا سہارا لیا جاتا ہے۔ انہیں “گمراہ” (Misguided) یا “بیرونی ایجنڈے پر کام کرنے والے” قرار دیا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل دور میں جب نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو اپنی آواز بنایا، تو انہیں “کی بورڈ واریئرز” کہہ کر ان کی رائے کو غیر سنجیدہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ حال ہی میں پیش آنے والے سیاسی واقعات کے تناظر میں نوجوانوں کے لیے “شرپسند” اور “شر پسند عناصر” جیسے الفاظ کا استعمال عام ہوا، جس نے ایک پورے سیاسی طبقے کو مجرمانہ رنگ میں رنگنے کی کوشش کی۔
نفسیاتی اور سماجی اثرات
ان الفاظ کا استعمال محض زبان تک محدود نہیں، بلکہ اس کے گہرے نفسیاتی اثرات مرتب ہو رہے ہیں:
سیاسی بیزاری: جب نوجوانوں کی مخلصانہ سیاسی جدوجہد کو مضحکہ خیز نام دیے جاتے ہیں، تو وہ نظام سے مایوس ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں۔
معاشرتی تقسیم: ان القابات نے نوجوانوں کو گروہوں میں بانٹ دیا ہے، جہاں اب بات دلیل کے بجائے گالی اور طنز سے شروع ہوتی ہے۔
برین ڈرین (Brain Drain): جب پڑھے لکھے نوجوانوں کو اپنے ہی ملک میں “غیر متعلقہ” یا “ایجنٹ” سمجھا جانے لگے، تو وہ بیرون ملک ہجرت کو ہی واحد حل تصور کرتے ہیں۔
پاکستان کے نوجوانوں کو اس وقت تضحیک کی نہیں بلکہ توقیر کی ضرورت ہے۔ سیاسی پارٹیاں ہوں یا ملٹری اسٹیبلشمنٹ، سب کو یہ سمجھنا ہوگا کہ نوجوانوں کے جوش اور ان کی تنقیدی سوچ کو “لیبلز” کے ذریعے دبانا ملک کے مستقبل کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کو تضحیک کے بجائے مکالمے کا حصہ بنایا جائے، تاکہ وہ خود کو اس ملک کا اسٹیک ہولڈر سمجھ سکیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں