75

نمونیا۔۔۔ علاج سے احتیاط بہتر- رخسانہ اسد لاہور

نمونیا۔۔۔ علاج سے احتیاط بہتر
جولوگ نمونیاکوخطرناک بیماری نہیں سمجھتے انہیں بتاناچاہتی ہوں کہ دنیا میں ہر سال تقریباً 20 لاکھ سے زائد بچے نمونیا کی وجہ سے موت کے منہ چلے جاتے ہیں


کافی دن سے میں سوچ رہی تھی کہ نمونیا پرلکھوں مگرٹائم نہ ہونے کی وجہ سے کچھ بھی لکھ نہ پاتی مگرگزشتہ ہفتہ میر چھوٹی بیٹی ایمان علی کی اچانک طبیعت بگڑگئی فلوفیورزیادہ ہوگیاتواپنے خاوندسے کہا کہ کسی ڈاکٹرکے پاس لے کرچلتے ہیں توان کاجواب ایسا تھا جس کی میں توقع کرسکتی تھی انہوں نے کہاکہ آپ بھی توڈاکٹرہولکھ کے دومیں میڈیسن لے آتاہوں تومیں نے کہا کہ جیسے آپ پرنٹنگ کاکام کرتے ہیں آپ کوکوئی کہے کہ اخبارپرنٹ کردیں توکیاکروگے توان کے سوال میں ہی جواب تھا کہ میں فلیکس پرنٹنگ والااخبارکیسے پرنٹ کرسکتاہوں تومیں نے کہا جس کا کام گائنی کاہووہ ضروری نہیں چائلڈسپیشلسٹ ہو ڈیوٹی کے دوران پریکٹس ہوتی تھی اس لیے میں بیٹی کو نوبلائزیشن کے ذریعے سانس دلوارہی تھی تاکہ چیسٹ انفیکشن بڑھ ناجائے۔ڈاکٹرکے پاس لے گئے تومیرااندازہ سہی تھاکہ نمونیاہوگیاہے میر ی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے تومیرے خاوندکہتے ہیں کوئی ہماری بیٹی نہیں جسے نمونیاہواہو ایسی روز کئی بچے ہوتے ہیں۔میرے خاونداس فیلڈکونہیں جانتے اس لیے وہ اس بیماری کے خطرناک ہونے کااندازہ بھی نہیں لگاسکتے۔اس لیے جیسے ہی مجھے وقت ملابچوں کے متعلق نمونیاپرلکھنے لگی کچھ تومجھے یادتھیں مگرکچھ کیلئے انٹرنیٹ اورکچھ چائلڈسپیشلسٹ دوستوں کاسہارالیناپڑا توپیارووالدین آپ کوسب سے پہلے اس بات کاپتاہوناچاہے کہ نمونیا پھیپھڑوں کی خطرناک بیماری ہے۔عام طور پر بچے اور عمر رسیدہ افراداس بیماری کاشکار ہوتے ہیں نمونیا فنگس بیکٹریا اور وائرس کے سبب پھیلتا ہے۔جس کے باعث انسان کو سانس لینے میں تکلیف اور دشواری ہوتی ہے۔نمونیا کی حالت میں بچوں میں خشک کھانسی، ہلکا بخار، سر درد اور تھکاوٹ جیسی علامات نظر آتی ہیں۔ ان کا علاج معیاری اینٹی بائیوٹک تھراپی سے کیا جاتا ہے۔ لیکن جوں جوں مسئلہ بڑھتا ہے، تیز بخار، سردی لگنا، بدہضمی، پتلا پیشاب، نیلے ناخن، چکر آنا، سانس لینے میں دشواری جیسے علامات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ نمونیا سے بچاؤ کے لیے ویکسین دستیاب ہیں۔بیکٹیریل نمونیا کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے کیا جاتا ہے۔ اگر مریض کی حالت زیادہ خراب ہونے لگے تو اسے ہسپتال لے جانے میں ایک لمحہ کی دیر نہیں کرنی چاہیے۔ اگر آکسیجن کی سطح کم ہو تو آکسیجن تھراپی دی جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں، بچوں کو پی سی وی کے خلاف ویکسین دی جاتی ہے، جو 2، 4، 6، 12 اور 15 ماہ کی عمر کے نوزائیدہ اور چھوٹے بچوں کو دی جاتی ہے۔بسا اوقات جب بچوں کو نمونیا ہوتا ہے تو والدین کا خیال ہوتا ہے کہ بچے کو یہ مسئلہ آئس کریم کھانے کے سبب ہوا ہے، وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے گرم لبادہ تو پہنایا تھا، مگر مسئلہ یہ ہے کہ انسان کے چہرے میں پانچ سوراخ ہوتے ہیں، جن میں سے تین سوراخ (دو نتھنوں کے اور ایک منہ کا سوراخ) کھلے رہتے ہیں جن میں سردی داخل ہونے کا امکان رہتا ہے، ہم انہیں بند بھی نہیں کرسکتے۔ تاہم والدین کو کوشش کرنی چاہیے کہ ان سوراخوں کے ذریعے سردی کو داخل ہونے سے روکیں، جس قدر ہوسکے۔بچہ اگر شیرخوار ہے تواس بچے کو نمونیا کے دوران دودھ پینے اور نگلنے میں دشواری ہوگی۔ماں کادودھ نہ لینے کی وجہ سے یعنی غذائی قلت کی وجہ سے نمونیا کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ورلڈہیلتھ آرگنائزشن کے مطابق دنیا میں ہر سال تقریباً 20 لاکھ سے زائد بچے نمونیا کی وجہ سے موت کے منہ چلے جاتے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر بچے 5 سال کی عمر سے کم تھے۔اس بیماری کا زیادہ شکار جنوبی ایشیا اور افریقہ کے بچے ہوتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال نمونیا 90 ہزار سے زائدبچوں کواپناشکاربناتاہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان میں اعدادوشمار کے مطابق دنیا بھر میں تین میں سے ایک بچہ نمونیا سے مرتا ہے۔’سیو دی چائلڈ‘ کی ایک تحقیق میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر کے 1100 ملین بچے اور ملک میں 17 لاکھ سے زائد بچے 2030 تک نمونیا کے شکار ہو سکتے ہیں۔ مائیکوپلازما نمونیا اور کلیمائڈوفیلا نمونیا بچوں میں نمونیا کا باعث بنتے ہیں۔۔نمونیاکواینٹی بائیوٹک ادویات کے ذریعے کنٹرول کیا جاتاہے۔ اینٹی بائیوٹک ادویات کے ساتھ کھانسی اور بخار کم کرنے کی دوائیاں بھی دی جاتی ہیں۔والدین کویہ یاد رکھناچاہے کہ ادویات کے ساتھبچے کی غذا جاری رکھیں اوماں کویہ ذہن میں بٹھالیناچاہیے کہ ماں کا دودھ بچے کو بیماریوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے ر اگر بچہ شیر خوار ہے تو ماں وقفے وقفے سے دودھ دے۔بچہ اگر چھ ماہ سے اوپر ہو تو اس کو سوپ یا یخنی،شہد یا کم پتی والی چائے دی جائے یہ بھی بچے کے گلے کو سکون پہنچاتی ہے۔والدین کویہاں یہ بات ذہن نشین کراتی چلوں کہ بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اگر اس کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس شروع کروالیا جائے تو یہ بچے کو نمونیا اور اس طرح کی دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں مددگارثابت ہوگا۔نمونیااگربچے کوہوجائے تووالدین کوگھبرانے کے بجائے اس سے نمٹناچاہیے اور غذا میں سرد موسم میں عرقیات (پھلوں کے) سے پرہیز کرنا چاہیے، اگر زیادہ طبیعت چاہے تو کالی مرچ کے ہمراہ استعمال کرسکتی ہیں۔ اسکول کے بچوں کو رات سوتے وقت پرندوں کے گوشت کی یخنی استعمال کرانی چاہیے۔ دودھ کا استعمال موسم سرما میں ہلکی سیاہ پتی کے ہمراہ کرنا چاہیے۔ڈسپرین (ہرگز نہ دیں۔اپنے بچے کے جسم میں پانی کی مقدارکو برقرار رکھیں جسم میں پانی کی مقدار کو برقرار رکھنے کے لئے اپنے بچے کو وافر مقدار میں مائعات پلائیں۔نمونیا کے دوران میں بچے کی بھوک کم ہونے کا بھی امکان ہوتا ہے، اس کیفیت میں بہتری تب آئے گی جب انفیکشن ٹھیک ہونا شروع ہوگا اور بچے بہتر محسوس کرنے لگیں گے۔ شروع میں بچے کو زیادہ کھانے کی حاجت نہیں ہوگی لیکن جونہی انفیکشن میں افاقہ ہونا شروع ہوگا تو وہ اپنے آپ کو بہتر محسوس کرنے لگے گا، یوں بتدریج اس کی بھوک بڑھ جا ئے گی۔یقیناًًمیری تحریروالدین کیلئے فائدہ مند ثابت ہوگی اورہم مل کراس بیماری سے لڑیں گے اوراپنے مستقبل یعنی اپنے بچوں کی حفاظت کریں گے اللہ پاک ہمارے بچوں کے چہروں پرمسکان سجائے رکھناآمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں