72

وقت سے پہلے ہونے والے چار کمال تحریر: رخسانہ سحر

ایک زمانہ تھا جب زندگی واقعی زندگی ہوا کرتی تھی۔
رشتوں میں خلوص، وقت میں ٹھہراؤ اور انسانوں میں صبر ہوا کرتا تھا۔ آج کی نسل کو شاید یقین نہ آئے مگر ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کو بدلتے ہوئے صرف دیکھا ہی نہیں بلکہ جیا بھی ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی دل خوش ہو کر کہتا ہے کہ اس دنیا میں ہمارے چار کام بہت اچھے ہو گئے۔
پہلا یہ کہ میگی آنے سے پہلے ہم بڑے ہو گئے۔
ہماری مائیں دو منٹ میں نہیں، محبت سے کھانا پکاتی تھیں۔ سالن کی خوشبو پورے گھر میں پھیلتی تھی اور دسترخوان صرف کھانے کی جگہ نہیں، خاندان کے اکٹھ کا نام تھا۔ آج کے بچوں کو شاید معلوم ہی نہ ہو کہ دال پکنے کا انتظار بھی ایک تہذیب تھی۔ ہم نے صبر والی نسل دیکھی ہے، فوری بھوک مٹانے والی نہیں۔ آج ہر چیز “انسٹنٹ” ہو چکی ہے؛ دو منٹ کی نوڈلز سے لے کر دو لمحوں کے رشتوں تک۔ مگر ہماری تربیت آہستگی میں ہوئی، اسی لیے شاید ہم آج بھی جذبات کو ابالنے کے بجائے پکانا جانتے ہیں۔
دوسرا بڑا کام یہ ہوا کہ موبائل آنے سے پہلے ہماری پڑھائی ہو گئی۔
ہم نے کتابوں سے دوستی کی، نوٹس ہاتھ سے لکھے، لائبریریوں میں وقت گزارا اور استاد کی آنکھوں سے علم حاصل کیا۔ ہمارے زمانے میں “گوگل” نہیں تھا، اس لیے سوال ذہن میں رہتے تھے اور تلاش کا شوق پیدا کرتے تھے۔ آج بچے انگلی سے اسکرین بدلتے ہیں مگر توجہ نہیں بدل پاتے۔ موبائل نے معلومات تو بہت دے دی ہیں مگر یکسوئی چھین لی ہے۔ ہم خوش قسمت تھے کہ ہماری تعلیم “نوٹیفکیشن” کی آوازوں میں تقسیم نہیں ہوئی۔
تیسرا سکون یہ ملا کہ واٹس ایپ آنے سے پہلے ہماری شادی ہو گئی۔
ہم نے محبت میں انتظار دیکھا، خطوں کی خوشبو محسوس کی، ملاقاتوں کی قدر جانی۔ غلط فہمیاں اتنی تیز نہیں تھیں جتنی آج “لاسٹ سین” اور “آن لائن” نے پیدا کر دی ہیں۔ اب رشتے جذبات سے زیادہ اسٹیٹس اور ڈی پی کے محتاج ہو چکے ہیں۔ پہلے ناراضی میں بھی احترام ہوتا تھا، اب ایک “بلاک” پورا تعلق ختم کر دیتا ہے۔ ہماری نسل شاید اس لیے زیادہ مطمئن رہی کہ اس نے رشتے “ٹائپ” نہیں کیے، نبھائے تھے۔
اور چوتھا، شاید سب سے دلچسپ کام یہ ہوا کہ AI آنے سے پہلے ہم ریٹائر ہو گئے۔
ورنہ آج تو مشینیں انسان کے لہجے میں بات کر رہی ہیں، تصویریں بنا رہی ہیں، مضمون لکھ رہی ہیں، حساب کر رہی ہیں، مشورے دے رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ انسان نے سہولت کے سفر میں خود کو ہی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آنے والے وقت میں شاید انسان کو اپنی ہی اہمیت ثابت کرنا پڑے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے وہ دور بھی دیکھا جب قلم انسان کے ہاتھ میں تھا، اور یہ دور بھی دیکھ لیا جب انسان خود مشینوں کے ہاتھ میں جاتا دکھائی دیتا ہے۔
یہ کالم ترقی کے خلاف نہیں، صرف احساس کے حق میں ہے۔
وقت بدلنا فطرت ہے، مگر انسان کا اندر خالی ہو جانا المیہ ہے۔ ہم نے وہ زمانہ دیکھا ہے جہاں کم وسائل میں زیادہ سکون تھا، اور آج وہ دور بھی دیکھ رہے ہیں جہاں ہر سہولت کے باوجود انسان بے چین ہے۔
اس لیے کبھی کبھی دل مسکرا کر کہتا ہے:
واقعی، ہمارے چار کام بہت اچھے وقت پر ہو گئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں