ماں وہ ہستی جس کے بغیر انسان ادھورا ہے-دنیا میں بہت سے دن منائے جاتے ہیں۔ کہیں محبت کے نام پر تقریبات سجتی ہیں، کہیں دوستی کے چرچے ہوتے ہیں اور کہیں کامیابیوں کے جشن۔ مگر ایک دن ایسا بھی آتا ہے جو کسی رسم، کسی کاروبار یا کسی نمائش کا محتاج نہیں ہوتا۔ یہ دن “مدر ڈے” کہلاتا ہے، مگر حقیقت میں ماں کا احترام کسی ایک دن کا محتاج نہیں۔ ماں تو وہ ہستی ہے جس کی دعا انسان کی تقدیر بدل دیتی ہے اور جس کی گود دنیا کی سب سے محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہے۔
انسان جب دنیا میں آتا ہے تو سب سے پہلے جس آواز کو پہچانتا ہے وہ ماں کی ہوتی ہے۔ وہ راتوں کو جاگتی ہے مگر بچے کو سونے دیتی ہے، خود بھوکی رہتی ہے مگر اولاد کا پیٹ بھرتی ہے۔ ماں اپنی خواہشات کو خاموشی سے دفن کر دیتی ہے تاکہ اس کے بچوں کے خواب زندہ رہ سکیں۔ شاید اسی لیے دنیا کی ہر زبان میں “ماں” کا لفظ محبت، سکون اور قربانی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
دنیا میں اگر کسی رشتے کو بے لوث محبت، قربانی اور ایثار کی علامت کہا جائے تو وہ صرف ماں کا رشتہ ہے۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جو اپنی اولاد کی خوشیوں کے لیے اپنی زندگی کے آرام، خواہشات اور خواب تک قربان کر دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مئی کے دوسرے اتوار کو “مدر ڈے” منایا جاتا ہے تاکہ ماؤں کی عظمت، محبت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔
ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ ایک بچہ بولنا، چلنا، اخلاق، محبت اور انسانیت کا درس سب سے پہلے اپنی ماں سے سیکھتا ہے۔ معاشرے کی تعمیر میں ماں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اچھی مائیں ہی اچھے انسان اور مضبوط قومیں تشکیل دیتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے عظیم رہنماؤں، سائنس دانوں، مفکروں اور سپہ سالاروں کی کامیابی کے پیچھے ایک عظیم ماں کی تربیت موجود تھی۔
اسلام نے بھی ماں کے مقام کو انتہائی بلند رکھا ہے۔ قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں ماں کے احترام، خدمت اور فرمانبرداری پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ “جنت ماں کے قدموں تلے ہے۔” یہ الفاظ ماں کی عظمت بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اسلام میں ماں کی خدمت کو عبادت قرار دیا گیا ہے اور اولاد پر لازم ہے کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
آج کے جدید دور میں جہاں مصروفیات بڑھتی جا رہی ہیں، وہاں خاندانی رشتوں میں فاصلے بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی ماؤں کے لیے وقت نکالنے سے قاصر ہیں، حالانکہ ماں کو سب سے زیادہ اپنی اولاد کی توجہ، محبت اور عزت کی ضرورت ہوتی ہے۔ مدر ڈے صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ احساس اجاگر کرنے کا دن ہے کہ ہمیں سال کے ہر دن اپنی ماؤں کی قدر کرنی چاہیے۔
مدر ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ماں صرف ایک رشتہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔ اگر ہم اپنی ماؤں کی عزت، خدمت اور محبت کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں تو نہ صرف ہمارے گھر بلکہ پورا معاشرہ محبت اور سکون کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ آج اس دن عہد کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم اپنی ماؤں کی خوشیوں کا خیال رکھیں گے اور ان کے چہروں کی مسکراہٹ کو اپنی کامیابی سمجھیں گے
بدقسمتی سے جدید دور کی تیز رفتار زندگی نے انسان کو بہت کچھ دیا، مگر رشتوں سے دور بھی کر دیا۔ آج سوشل میڈیا پر ہزاروں لوگ “ہیپی مدرز ڈے” لکھ دیتے ہیں مگر ان میں سے کتنے لوگ اپنی ماں کے ساتھ بیٹھ کر چند لمحے گزارتے ہیں؟ کتنے لوگ ان کے ہاتھ دباتے ہیں؟ کتنے لوگ ان کی خاموشیوں کو سمجھتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ماں کو مہنگے تحفوں سے زیادہ اولاد کی توجہ اور محبت کی ضرورت ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں ایک افسوسناک تبدیلی یہ بھی دیکھی جا رہی ہے کہ بزرگ مائیں تنہائی کا شکار ہو رہی ہیں۔ اولاد بڑی ہو کر اپنے اپنے معاملات میں مصروف ہو جاتی ہے اور وہ ماں، جس نے پوری زندگی بچوں کے گرد گھومتے ہوئے گزار دی، آخر عمر میں تنہا رہ جاتی ہے۔ یہ صرف ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ ہماری اخلاقی اقدار کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔
اسلام نے ماں کے مقام کو سب سے بلند رکھا ہے۔ قرآنِ پاک میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا جبکہ نبی کریم ﷺ نے ماں کو باپ پر تین درجے فوقیت دی۔ یہ اس عظیم رشتے کی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔ ماں صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک مکمل درسگاہ، ایک سایہ دار درخت اور ایک ایسی دعا ہے جو انسان کے ساتھ ہر مشکل میں کھڑی رہتی ہے۔
مدر ڈے منانے کا اصل مقصد صرف تقریبات یا پیغامات نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی اپنی ماؤں کے حقوق ادا کر رہے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی ان کی تھکن محسوس کی؟ کیا ہم نے کبھی ان کے چہرے کی اداسی کو پڑھنے کی کوشش کی؟ اگر نہیں، تو شاید ہمیں صرف مدر ڈے منانے کے بجائے “ماں کو سمجھنے” کی ضرورت ہے۔
ماں دنیا کی وہ واحد ہستی ہے جو اولاد کی ہر تکلیف اپنے حصے میں لینے کے لیے تیار رہتی ہے۔ اگر معاشرے میں ماں کا احترام ختم ہو جائے تو انسانیت کا حسن بھی ماند پڑ جاتا ہے۔
آخر میں صرف ایک سوال کرنا تو بنتا ہےکہ ہم اپنی ماؤں کو صرف ایک دن نہیں بلکہ زندگی کے ہر دن محبت، عزت اور وقت دیں۔ کیونکہ جب ماں چلی جاتی ہے تو پھر دنیا کی کوئی دولت، کوئی کامیابی اور کوئی رشتہ اس کمی کو پورا نہیں کر سکتا- کیا ہم اولاد مل کر ایک ماں کو خوش نہیں رکھ سکتے وہ ہماری خوشی کیلیے بتا نہیں کیا کیا جتن کرتی ہے اور ہم صرف اسکا ایک احسان ہی واپس اتار دے کی اسنے ہمیں جنم دیا تو وہ ہی کافی ہے،باقی احسانات تو سارے الگ ہیں-
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایسے واقعات بھی سامنے آتے ہیں جہاں بوڑھی ماؤں کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ہے یا اولاد ان کی خدمت سے غفلت برتتی ہے۔ یہ رویے نہ صرف اخلاقی زوال کی نشانی ہیں بلکہ ہماری سماجی اقدار کے بھی منافی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی ماؤں کے ساتھ محبت، احترام اور شفقت کا برتاؤ کریں اور ان کی دعاؤں کو اپنی زندگی کا سرمایہ سمجھیں۔
108