5

پاکستان اور آذربائیجان کی گہری دوستی لائق تحسین ہے، عبدالعلیم خان کا خطاب

جمہوریہ آذربائیجان کے 108 ویں یومِ آزادی پرمنعقدہ شاندار تقریب میں آذربائیجان کے سفیر عزت مآب خضر فرہادوف میزبان تھے جبکہ وفاقی وزیر مواصلات اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان مہمان خصوصی تھے۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، مصدق ملک، شیزہ فاطمہ خواجہ اور فاروق ستار سمیت مختلف برادر ممالک کے سفیروں اور نمایاں سیاسی و سفارتی شخصیات موجود تھیں۔
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اپنے خطاب میں حکومت پاکستان کی جانب سے دلی مبارکباد پیش کی اور 1918 میں آذربائیجان ڈیموکریٹک ریپبلک کے تاریخی قیام کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا کی پہلی پارلیمانی جمہوریہ مملکت ہونا آذربائیجان کے لئے اعزاز کی بات ہے ۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سنگ میل جمہوریت اور انسانی حقوق پر مبنی قوم کے ناقابلِ تسخیر جذبے کا ثبوت ہے۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے آذربائیجان کی شاندار معاشی ترقی اور مختلف ٹرانسپورٹ راہداریوں کے ذریعے عالمی رابطوں کو فروغ دینے میں کلیدی کردار کی تعریف کی اور بالخصوص ٹرانس کیسپین انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ روٹ کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ 1991 میں پاکستان،آذربائیجان کی آزادی کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے دوطرفہ تعلقات کی بنیاد رکھنے پر آذربائیجان کے بابائے قوم حیدر علیوف کو خصوصی خراجِ عقیدت پیش کیا اور صدر الہام علیوف کی بصیرت افروز قیادت کی تعریف کی جنہوں نے اس دوستی کو 21 ویں صدی کے مضبوط تزویراتی اتحاد میں بدل دیا ہے۔عملی تعاون پر روشنی ڈالتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات اور صدر استحکام پاکستان پارٹی عبدالعلیم خان نے ترجیحی تجارتی معاہدے اور ٹرانزٹ ٹریڈ ایگریمنٹ کی تکمیل کو علاقائی انضمام کے حوالے سے ایک دور اندیشانہ نقطہ نظر قرار دیا۔ انہوں نے خاص طور پر پاکستانی چاول کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کرنے کے صدر الہام علیوف کے فیصلے کو سراہا اور اسے گہرے اعتماد کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ براہِ راست فضائی رابطوں میں اضافے نے اسلام آباد اور باکو کے درمیان فاصلوں کو کم کر دیا ہے اور صرف گزشتہ ایک سال میں تقریباً 90,000 پاکستانیوں نے آذربائیجان کی مہمان نوازی کا تجربہ کرنے کے لیے وہاں کا سفر کیا۔اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے خودمختاری کے اہم مسائل پر دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حقوق کے لیے آذربائیجان کی مستقل اور اصولی حمایت پر اظہارِ تشکر کیا جبکہ نگورنو کاراباخ کے مسئلے پر آذربائیجان کی خودمختاری کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا ذکر کیا۔ انہوں نے تنازعات کے دوران، بالخصوص مسئلہ کشمیر اور معرکہ حق کے موقع پر باکو حکومت کی جانب سے دکھائی گئی اخلاقی اور برادرانہ یکجہتی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ دونوں قوموں کا ناقابلِ تسخیر جذبہ آنے والے برسوں میں ایک پھلتے پھولتے رشتے کی ضمانت ہے۔اس پروقار تقریب میں آذربائیجان اور پاکستان دونوں کے قومی ترانے اور ملی نغمے بجائے گئے، جبکہ مختلف خاکوں میں آذربائجان کی سیاحت، ثقافت اور تاریخ کو بھی نمایاں کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں