75

شہباز شریف اپوزیشن سے مذاکرات کریں، آصف زرداری

پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شہباز شریف اپوزیشن سے مذاکرات کریں لیکن اپوزیشن کو مذاکرات کے لئے شہبازشریف کے پاس آنا ہوگا کیونکہ یہ وزیراعظم ہیں۔
آصف علی زرداری نے آئین پاکستان کی گولڈن جوبلی کے حوالے سے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس سے اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کو پیغام دیا ہے۔
سابق صدر آصف علی رزداری کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں آنے سے پہلے شرائط نہ رکھی جائیں، ہم نے تو نہیں کہا تھا کہ بائیکاٹ کرو یا استعفے دو۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ سوموٹو میرے خلاف ہوئے میں نے دیکھے ہیں، چیف جسٹس صاحب کہتے ہیں اس افسر کا نام نہیں لوں گا جس نے مجھے رپورٹ دی ہے، آپ کو حق نہیں پہنچتا کہ پرائیویٹ انفارمیشن لیں، ہمارے ہاتھ صاف تھے جو گواہ بنایا وہ تحویل میں فوت ہوا۔
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے باتھ رومز سے ان کے کیمرے پکڑے اور میں گارڈ کو پکڑ کر باہر لایا، میری بہن کو رات کے 12 بجے اسپتال سے اٹھایا گیا، تب سوموٹو نہیں لیا گیا، میں کہاں کہاں بتاؤں کہ میں اس تاریخ کا شاہد ہوں لیکن بات سنی ان سنی ہو گئی۔
سابق صدر نے کہا کہ ہم نے جمہوریت بحال کی تھی، میرے رب نے چاہا تو آئین کو کچھ نہیں ہو گا اور نہ اس کے ساتھ کھلواڑ کرنے دیں گے۔
آصف زرداری کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان بنائیں گے، آج چین، روس اور ملائشیا اپنا آئی ایم ایف بنا رہے ہیں، بھارت تو روس سے تیل لیتا ہے اور ریفائن کرتا ہے، ایسی کوئی چیز نہیں کہ پاکستان نہیں کر سکتا، ہمیں وقت چاہیے۔
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ وزیرِ اعظم ہی واحد اتھارٹی ہے ڈائیلاگ کرنے کے لیے، یہ پہلی دفعہ نہیں کہ کورٹ نے نوٹس دیا، مسعود شریف کو بھی نوٹس دیا گیا، پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ایک ہی نعرہ مارا پاکستان کھپے، آج کا صدر خود مانتا ہے اگر میں کوئی دوسرا نعرہ لگاتا تو پاکستان نہ بچتا۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئین کو بچاتے رہیں گے، جب تک دم میں دم ہے آئین اور ملک کو سنواریں گے، پاکستان اٹھے گا اور ہم اس کو اٹھائیں گے، این ایف سی ایوارڈ سب نے مل کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں