107

شاہد عباسی، مفتاح اور مصطفیٰ کھوکھر کا نئی سیاسی جماعت کے قیام پر غور

شاہد خاقان عباسی، مفتاح اسمٰعیل اور مصطفیٰ کھوکھر نئی سیاسی جماعت قائم کرنے کیلئے سنجیدگی سے حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ انہی تین سیاسی رہنماؤں نے پہلے ’’ ری امیجننگ پاکستان‘‘ کے نام سے سیمینارز کا خیال پیش کیا تھا۔ مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ الحال کوئی فیصلہ نہیں ہوا لیکن اس معاملے پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ رواں سال جولائی میں انہوں نے ایک عوامی رائے کے حصول کیلئے ایک سروے کرایا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مقبولیت میں عمران خان سب سے اوپر ہیں۔ جو کچھ شاہد عباسی نے نون لیگ میں اپنے سیاسی مستقبل اور ایک نئی سیاسی جماعت کی ضرورت کے حوالے سے کہا وہ ان تین لوگوں کی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ حالات کا جائزہ لیتے ہوئے حتمی فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔

شاہد، مفتاح اور مصطفیٰ مختلف لوگوں کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرنے پر بحث و مباحثہ کر رہے ہیں اور ساتھ ہی میڈیا اور سوشل میڈیا پر بحث و مباحثے کی حوصلہ افزائی بھی کر رہے ہیں تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جا سکے کہ کیا نئی جماعت قائم کی جا سکتی ہے یا نہیں۔

تینوں میں سے مصطفیٰ کھوکھر نئی پارٹی لانے کیلئے زیادہ آرزو مند ہیں جبکہ باقی دو لوگ ابھی واضح طور پر فیصلہ نہیں کر پائے کہ پارٹی قائم کی جائے یا نہیں۔

اس حوالے سے مفتاح اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ انہوں نے مختلف سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کی مقبولیت جانچنے کیلئے سروے کرایا تھا اور سروے رپورٹ کے نتائج پڑھ کر ہی وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ نئی سیاسی جماعت کے قیام کی ضرورت ہے۔

شاہد عباسی، مفتاح اسمٰعیل اور مصطفیٰ کھوکھر کا خیال ہے کہ ووٹروں کی ایک بڑی تعداد، جو فی الوقت نون لیگ کو مسترد کرنے کی وجہ سے عمران خان کی طرف مائل نظر آتی ہے، کو نئی سیاسی جماعت کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے کیونکہ عمران خان کے کٹر حامی اور نواز شریف کے کٹر حامی کسی دوسری سیاسی جماعت کو ووٹ نہیں دیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں