87

صحت اللہ کی عظیم نعمت ہسپتالوں میں کر پشن کا خاتمہ نگران حکومت کا طرہ امتیاز -تحریر۔۔ناظم الدین ڈائریکٹر تعلقات عامہ پنجاب

صحت اللہ کی عظیم نعمت
ہسپتالوں میں کر پشن کا خاتمہ نگران حکومت کا طرہ امتیاز

تحریر۔۔ناظم الدین
ڈائریکٹر تعلقات عامہ پنجاب
صحت اللہ پاک کی ایک انمول نعمت ہے۔صحت کی سہولیات کی فراہمی ہرانسان کا بنیادی حق ہے۔ایک صحت مندانسان ہی صحت مندزندگی گزارسکتاہے۔ عوام کو صحت کی بنیادی سہولیات کی فراہمی کے دعوے نہیں حقیقی معنوں میں یقینی بناناہوگا۔پاکستان آبادی کے لحاظ سے اگلے بیس سال بعد دنیاکاتیسرابڑاملک ہوگا۔پاکستان کی عوام کو آبادی کے لحاظ سے صحت کی بہترسہولیات فراہم کرنی ہوں گی۔ سیلف میڈیکیشن انتہائی خطرناک عمل ہے۔تحقیق کے مطابق پاکستان کی 29فیصدآبادی شوگرکی بیماری کا شکارہے۔ عوام کو صحت کی بہترسہولیات فراہم کرنے کیلئے ہمیں اپنے

انفراسٹرکچرکوبہترکرناہوگا۔ہمیں صحت مند معاشرہ کی بنیاد رکھنے کیلئے صحت مندلائف سٹائل اپناناہوگا۔اللہ پاک نے رمضا ن المبارک کا مہینہ ہمیں اپنالائف سٹائل تبدیل کرنے کیلئے تحفہ دیاہے۔ہماری نوجوان نسل میں دل کی بیماریاں،کینسراور دوسری مہلک بیماریاں بہت جلدجنم لے رہی ہیں۔ حکومت ہر سرکاری میڈیکل یونیورسٹی کے ہرطالب علم کی تعلیم پر ایک کروڑروپے سے زائد کی رقم خرچ کررہی ہے۔بیماریوں سے لڑنے کی بجائے بیماریوں کی روک تھام پرکام کرنازیادہ اہم ہے۔ عوام کو صحت کی بہترسہولیات فراہم کرنا اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہت بڑی ذمہ داری ہے۔حکومت عوام کو صحت کی بہترسہولیات فراہم کرنے کیلئے دن رات محنت کررہے ہیں۔ محکمہ پرائمری اینڈسیکنڈری ہیلتھ کئیرعوام کو خطرناک بیماریوں سے بچانے کیلئے تمام تروسائل بروئے کارلارہاہے۔ محکمہ صحت میں میرٹ پربھرتیوں کویقینی بنانے کیلئے میکنزم بنایاجارہاہے۔عام آدمی تک صحت کی بہترسہولیات کی فراہمی میں صرف ایک انسان کی نیک نیتی ہی کافی ہوتی ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کی لیبز کے معیار پر عوام کا اعتماد نہیں رہا۔انکا اعتماد بحال کرنے کے لئے سرکاری پتھالوجی لیبز کو اپگریڈ کیا جائے گا۔ سرکاری ہسپتالوں کے برن یونٹ اور قیدیوں کے وارڈز کو اصلی حالت میں بحال کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ پنجاب نے ہدایت کی کہ بائیو میڈیکل اور نان بائیو میڈیکل ایکوپمنٹس کو ہر حال میں مرمت کرکے فعال کیا جائے۔

فنڈز کی دستیابی کے باوجود طبی آلات ٹھیک نہ کروانا بد نیتی کا مظہر ہے۔ایم ایس حضرات اپنے رویے بہتر بنائیں اور انسانی خدمت کو شعار بنائیں۔ ہسپتالوں کے شمسی توانائی پر منتقلی سے بجلی بلوں کی مد میں کروڑوں روپوں کی بچت ہورہی ہے۔وزیر اعلیٰ نے تنبیہ کی کہ مریضوں کو ایمرجنسی اور اوپی ڈی میں مفت طبی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ اانہوں نے کہا کہ ایم ایس حضرات ہسپتالوں کا صبح کے وقت وزٹ کرکے رپورٹ روزانہ ڈیش بورڈ پر اپلوڈ کی جائے۔ ڈی ایچ کیو ہسپتالوں میں FCPS ڈاکٹرز کی سپروائزر کی ٹریننگ جلد کروائی گی۔ ہر چھ ماہ بعد ہیلتھ ویک جبکہ ہر تین ماہ بعد قیدیوں کی سکریننگ کی جائے گی۔ جیلوں میں قائم ہسپتالوں میں مطلوبہ سہولیات فراہم کی جائے گی۔ وزیراعلی پنجاب محسن نقوی کی ہدایت پر تمام سرکاری ہسپتالوں میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی جلد تکمیل کو یقینی بنایا جائیگا۔اس سلسلہ میں وسائل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ پنجاب کے 30 ہسپتالوں میں سی ٹی سکین مشینیں اور ڈی ایچ کیو ہسپتال بہاولنگر میں ایم آر آئی کی سہولت جلد فراہم کردی جائے گی۔ پنجاب کے تمام ہسپتالوں میں فرنیچر کی تبدیلی اور ایمرجنسی میں ڈسپوزیبل بیڈ شیٹوں کی فراہمی کے منصوبہ پر بھی کام تیزی سے جاری ہے۔ جنوبی پنجاب کے تمام ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی کو ترجیح بنیادوں پر پورا کیا جا رہا ہے۔ جنوبی پنجاب کے تمام ہسپتالوں اور مراکز صحت پر 24 گھنٹے گائنی، ایمرجنسی سروسز کی فراہم کرنے کے لیے بھی عملی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔
تین سال سے سٹوروں میں پڑا بائیو میڈیکل ایکوپمنٹس اور 1500 بیڈز دو ہفتوں کے اندر ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو ہسپتالوں کے حوالہ کردیا گیا تاکہ مریضوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ 300 الٹراساؤنڈ مشینیں اور 200 نئی ایمبولینس بھی ہیلتھ فیسلیٹیز میں تقسیم کی گئیں ہیں۔ گزشتہ دور حکومت میں ترقیاتی منصوبے سیاست کا شکار رہے اور انہیں مکمل کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا۔ ڈاکٹرز، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف مریضوں سے اپنا رویہ بہتر بنائیں، ان کے ساتھ شائستگی سے پیش آئیں۔ 125 ہسپتالوں کی ریویمپنگ کا کام تیزی سے جاری ہے جبکہ 41 ہسپتالوں کی ریویمپنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ گزشتہ مالی سال میں ایک ارب روپے کے ترقیاتی منصوبے مکمل کئے گئے۔
نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن محسن نقوی کی ہدایت پر ”میرا پیارا“ایپ کے لئے ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم تیار کر لیا گیا ہے۔ محسن نقوی نے ”میرا پیارا“ایپ کو فوری طورپر لانچ کرنے کے لئے ا قدامات کاحکم دیا اور ہدایت کی کہ’’میرا پیارا“ایپ کو فول پروف اورممکنہ حد تک مستند بنا یا جائے۔ ”میرا پیارا“ایپ پر سپیشل بچے یا فرد کو بھی گمشدگی کے خدشے کے پیش نظر رجسٹرڈ کیاجاسکے گا۔ ”میرا پیارا“ایپ پر گمشدہ اور باز یاب بچے یا فرد کی رپورٹ بھی کی جاسکے گی اور گمشدہ اور باز یاب بچوں کی تلاش ممکن ہوسکے گی۔ پنجاب میں 2629گمشدہ بچے رجسٹرڈہیں جبکہ259بچے باز یاب ہوچکے ہیں اور 25گمشدہ بچوں کو کامیابی کے ساتھ خاندان سے ملا دیا گیا ہے۔ ”میرا پیارا“ایپ پر شہری بھی بچے کی گمشد گی کی رپورٹ کرسکیں گے۔ناخواندہ لوگ پولیس فرنٹ ڈیسک، تحفظ مرکز اور پولیس خدمت مرکز پر بھی رپورٹ کراسکتے ہیں۔ چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور شیلٹر ہومز پر ”میرا پیارا“ایپ کے ذریعے تلاش او رباز یابی کی رپورٹ ممکن ہوگی۔گمشدہ بچوں یا افراد کی تصویر، رنگ و نسل اور فنگر پرنٹس کے ذریعے فیملی سے ملایا جاسکے گا۔آخری مرحلے میں گمشدہ بچوں وافراد کے والدین او رباز یاب بچوں و افراد کے والدین کا ڈی این اے ہوگا۔
حکومت ہسپتالوں میں ایمرجنسی میں ادویات کی مفت فراہمی کو یقینی بنانا چاہتی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات کی فراہمی میں واضح فرق ہونا چاہیے۔ الائیڈ ہسپتال میں مخیر حضرات کو فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ میں شامل کرنے کی تجویز پر اتفاق کیا گیا۔فرینڈز آف الائیڈ ہسپتال فیصل آباد کے قیام کا اصولی فیصلہ کیا گیا تاکہ وہاں نیا ایمرجنسی بلاک بنایا جا سکے۔ وزیراعلیٰ نے اس منصوبے پر بلا تاخیر کام شروع کرنے کے لیے زمین کا ایک حصہ مختص کرنے کا حکم دیا اور الائیڈ ہسپتال کی پارکنگ میں اوور چارجنگ پر ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارکنگ لاٹ کا انتظام فیصل آباد پارکنگ کمپنی کے حوالے کیا جائے۔ الائیڈ ہسپتال کے چار ماڈیولر آپریشن تھیٹرز فروری کے وسط تک فعال ہو جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ دیگر آپریشن تھیٹرز کو بھی جلد از جلد فعال کیا جائے۔ انہوں نے فیصل آباد میں علاقائی بلڈ سینٹر کا انتظام انڈس فاؤنڈیشن کے حوالے کرنے پر اتفاق کیا۔
نگران وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے سینٹرل جیل کوٹ لکھپت کا غیر اعلانیہ دورہ کیا جہاں سہولیات کا معائنہ کیا اور قیدیوں کی شکایات سنیں۔ اپنے دو گھنٹے کے دورے کے دوران، انہوں نے متعدد مسائل کا مشاہدہ کیا، جیسے کہ تین خواتین قیدی ایک پلنگ میں شریک ہیں اور قیدی اپنی سزا پوری کرنے یا 10 سال تک کی اپیلوں میں تاخیر کے باوجود قید ہیں۔وزیراعلیٰ نے خواتین قیدیوں کے لیے بیرک، کچن، اسپتال، ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر اور ڈے کیئر سینٹر کا معائنہ کیا۔ انہوں نے جیل انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ ہر قیدی کی اپنی چارپائی ہو اور خاتون قیدی، جس کے والد کا انتقال ہو گیا ہے، کو پیرول پر رہا کیا جائے۔ مزید برآں، انہوں نے حکم دیا کہ گردے اور جگر کے امراض میں مبتلا مریضوں کا علاج پاکستان کڈنی اینڈ لیور ٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ میں کیا جائے اور جیل انتظامیہ علاج کے لیے رابطہ کاری کے لیے فوکل پرسن مقرر کرے۔ انہوں نے جیل انتظامیہ کو خواتین قیدیوں کے بچوں کی دیکھ بھال کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ نے اس یقین کا اظہار کیا کہ قیدیوں کو بطور انسان ضروری سہولیات ملنی چاہئیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ حکومت اپنی سزائیں پوری کرنے والے قیدیوں کی رہائی کے لیے اقدامات کرے گی اور سزا مکمل کرنے والے قیدیوں کی رہائی کے لیے عدلیہ سے رابطہ کیا جائے گا۔
نگراں وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے رات گئے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اور میاں منشی ہسپتال کا اچانک دورہ کیا‘ صوبائی وزیر اطلاعات عامر میر اور سی سی پی او لاہور بلال صدیق کامیانہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔نگران وزیراعلیٰ نے میاں منشی ہسپتال کی حالت زار پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈیوٹی سے غیر حاضر تھے اور گھر میں سو رہے تھے۔محسن نقوی نے غیر حاضر ڈی ایم ایس کو فوری طور پر ٹرانسفر کرنے کا حکم دیا۔محسن نقوی نے مریضوں سے ہسپتال میں فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کے بارے میں دریافت کیا اور ہسپتال میں صفائی کے انتظامات کا بھی جائزہ لیا۔محسن نقوی سے ملاقات کی۔ پی آئی سی میں پرائمری انجیوگرافی کروانے والے مریضوں نے ڈاکٹروں سے پرائمری انجیوگرافی کے طریقہ کار کے بارے میں دریافت کیا۔نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے ہسپتال میں دل کا دورہ پڑنے کے بعد پرائمری انجیو گرافی کے عمل کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کی ہدایت کی۔محسن نقوی نے پرائمری انجیوگرافی کا مستقل نظام برقرار رکھنے پر زور دیا۔ اسپتالوں میں تاکہ مریضوں کو کسی سے سفارش لینے کی ضرورت نہ پڑے۔ پرائمری انجیو گرافی کے طریقہ کار کا مطلب ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کی صورت میں مریض کی جلد از جلد انجیو گرافی کی جائے تاکہ اس کی جان بچائی جاسکے۔نگران وزیراعلیٰ نے پی آئی سی کے بعد میاں منشی اسپتال کا دورہ کیا اور ہدایت کی ہسپتال میں صفائی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے۔محسن نقوی نے تاکید کی کہ ڈاکٹرز اور متعلقہ ہیلتھ سٹاف ایمانداری سے اپنے فرائض سرانجام دیں۔محسن نقوی نے میاں منشی ہسپتال کی خراب حالت دیکھ کر افسوس اور برہمی کا اظہار کیا۔ایک اجلاس میں رجب طیب اردگان ہسپتال ٹرسٹ کے زیر انتظام انڈس ہسپتال جوبلی ٹاؤن کو فعال بنانے کی تجویز پر غور کیا گیا۔ لاہور، گوجرانوالہ، فیصل آباد اور رام یار خان میں پولیس لائنز کی ڈسپنسریوں کا انتظام رجب طیب اردگان ہسپتال ٹرسٹ کے ذریعے کرنے کی تجویز بھی زیر بحث آئی۔
وزیراعلیٰ نے قابل عمل پلان پر زور دیا اور ہدایت کی کہ انڈس کے زیر انتظام ہسپتالوں کی طرز پر پولیس لائنز میں ڈسپنسریاں چلانے کے بارے میں قابل عمل سفارشات پیش کی جائیں۔ انہوں نے ملتان انسٹی ٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں لیور ٹرانسپلانٹ کے امکانات کا جائزہ لینے کا بھی حکم دیا۔ انڈس فاؤنڈیشن کے زیر انتظام پانچ ہسپتالوں میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سی ٹی سکین مشینیں لگانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کا دورہ کیا۔ انہوں نے مختلف وارڈز کا چکر لگایا اور مریضوں سے ملاقات کی اور ان کی خیریت دریافت کی۔انہوں نے مریضوں سے مصافحہ کیا اور فراہم کی جا رہی سہولیات کے بارے میں پوچھا۔نگراں وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ ہسپتال کی ایمرجنسی میں سینئر رجسٹرار (کنسلٹنٹس) کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو بہتر بنانا حکومت کی ترجیح ہے اور معیاری طبی سہولیات کی فراہمی میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کا شعبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں کی تربیت، نئے کورسز متعارف کرانے اور اسپیشلائزیشن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جدید طبی علاج. انہوں نے مزید کہا کہ سی پی ایس پی کی سفارشات کے بارے میں اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جائے گی اور آگے بڑھنے کے لیے قابل عمل سفارشات پر فیصلے کیے جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں