امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا ہے کہ عوام کا سوال ہے کہ رینجرز کے اختیارات کیا ہیں؟ اگراسٹریٹ کرائم ہورہا ہو تو کیا رینجرز اس میں مداخلت کرسکتی ہے؟
حافظ نعیم الرحمٰن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جماعت اسلامی کے منتخب کونسلر علاقہ مکینوں کیساتھ کنڈا مافیا کے خلاف کام کررہے تھے، ان کو شہید کردیا گیا اور 8 روز بعد بھی کونسلر کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کیا گیا۔
اُنہوں نے بتایا کہ صرف سرجانی میں30 غیر قانونی پی ایم ٹیز کام کر رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ جب لوگوں کو انصاف نہیں ملتا تو وہ احتجاج کرتے ہیں، عوام کو ریلیف دیں ملک میں انتشار نہ پھیلائیں۔
اُنہوں نے کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ رپورٹ کے بعد پولیس زیادہ پریشان کرتی ہے جو مجرم پکڑے جائیں ان کے سہولت کاروں کو بھی پکڑا جائے، کرائے پر اسلحہ ملتا ہے، ایک منظم مافیا چل رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کئی سوالات اُٹھاتے ہوئے کہا کہ کچے اور پکے کے ڈاکو موجود ہیں، یہ دہشتگرد کہاں رہتے ہیں، کہاں سے آتے ہیں؟ کچےکے ڈاکوؤں کے خلاف کارروائی کرنے سے آپ کو کس نے روکا تھا؟ جو یہ معاملہ کچے کے ڈاکوؤں سے پکے کے ڈاکوؤں تک منتقل کردیا۔
اُنہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم، پیپلزپارٹی کے ساتھ اتحاد میں رہی ہے، ایم کیو ایم نے اعتراف جرم کیا ہے، یہ قتل ، بھتے اور اغوا برائے تاوان کو اپنا سگنیچر کہتے ہیں۔