108

نیب ترامیم کالعدم قرار ، عوامی عہدوں پرموجودشخصیات کیخلاف کیسز بحال

سابق وزیر اعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی نیب ترامیم کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کئی شقیں کالعدم قرار دے دیں۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نے چیئرمین تحریک انصاف کی درخواست پر فیصلہ سنایا ، سپریم کورٹ نے 2 ایک کی اکثریت سے فیصلہ جاری کیا ہے، چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن درخواست کو منظور کیا جب کہ فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ بھی شامل ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں عوامی عہدوں پر موجود شخصیات کے خلاف کیسز بحال کردیے جبکہ نیب کو 50 کروڑ روپے سے کم مالیت کے کرپشن کیسز کی تحقیقات کی اجازت دے دی گئی ہے۔

سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کی کچھ شقیں کالعدم قرار دی ہیں ، عدالت نے نیب کو 7 دن میں تمام ریکارڈ متعلقہ عدالتوں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ پلی بارگین کے حوالے سے کی گئی نیب ترمیم کالعدم قرار دی جاتی ہیں، احتساب عدالتوں کے نیب ترامیم کی روشنی میں دیے گئے احکامات کالعدم قرار دیے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے نیب ترامیم کے خلاف درخواست دائر کی تھی، سپریم کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر 53 سماعتیں کیں۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے 5 ستمبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا اور اس حوالے سے جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا ریٹائرمنٹ سے پہلے اس اہم کیس کا فیصلہ کر کے جاؤں گا۔

عدالت عظمیٰ کے تین رکن بنچ میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کے ساتھ جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔

واضح رہے کہ جون 2022 میں چیئرمین پی ٹی آئی نے قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس میں نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو (سیکنڈ امینڈمنٹ) ایکٹ 2022 کے تحت کی گئی ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں