وٹامن سی جِلد کو صحت مند اور وقت سے پہلے جھریاں پڑنے سے محفوظ رکھتا ہے، یہ جِلد میں جراثیم کے خلاف قوتِ مدافعت پیدا کرتا ہے، ساتھ ہی کولیجن فائبر بنانے میں بھی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔
وٹامن سی میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات پائی جاتی ہیں، جو جلد کو سورج کی الٹراوائلٹ شعاعوں کے مضر اثرات سے محفوظ رکھتا ہے، اس کی کمی سے جِلد خشک، کھردری اور بے جان ہوجاتی ہے، وٹامن سی کی روزانہ تجویز کردہ خوراک 90 ملی گرام ہے جبکہ دوسری طرف، ٹماٹر کے ایک گلاس جوس میں 70 سے 110 ملی گرام وٹامن سی شامل ہے۔
ٹماٹر کا جوس باقاعدگی سے پینے سے سینے کی جلن کا خطرہ ہوتا ہے، یہ تب ہوتا ہے جب پیٹ کے تیزاب غذائی نالی میں واپس پہنچ جاتے ہیں، ٹماٹر کا جوس پینے سے علامات مزید خراب ہو سکتی ہیں۔
نیشنل کینسر انسٹی ٹیوٹ کے 2017ء-2019ء کے اعداد و شمار کے مطابق، لائیکوپین کے استعمال سے پروسٹیٹ کینسر کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
لائیکوپین ایک اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو تربوز، امرود اور چکوترے میں بھی پایا جاتا ہے۔
ٹماٹر کا جوس پینے سے کینسر کے خطرے کو ختم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے اور پروسٹیٹ کی صحت بہتر ہو سکتی ہے۔
ٹماٹر کے رس میں سوڈیئم کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے، 8 اونس ٹماٹر کے جوس میں 630 ملی گرام سوڈیئم پایا جاتا ہے جو محفوظ سطح سے زیادہ ہے اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔
ٹماٹر میں تیزی سے چربی ختم والے امینو ایسڈز موجود ہیں۔
ماہرین کے مطابق ٹماٹر میں کارنیٹن نامی امینو ایسڈ کی موجودگی انسانی جسم میں تیزی سے چربی کو کم کرتی ہے جو موٹاپے میں کمی کا سبب بنتا ہے۔
خیال رہے کہ ٹماٹر کا پیکٹ جوس لینے سے گریز کیا جائے کیونکہ اس میں شکر کثیر مقدار میں موجود ہوتی ہے جو وزن میں کمی نہیں کرتی بلکہ صحت کے لیے نقصان دہ ہے، اسی لیے گھر میں ٹماٹر کا جوس بنا کر پینے کا مشورہ دیا گیا ہے