گورنر کی جانب سے وزیراعلیٰ پرویزالٰہی کی سمری پر دستخط نہ کرنے کے باوجود 48 گھنٹے پورے ہونے پر پنجاب اسمبلی آئینی طور پر ازخود تحلیل ہو گئی ، گورنر بلیغ الرحمان نےنگران وزیراعلیٰ کیلئےپرویزالٰہی اور حمزہ شہبازکومراسلہ جاری کردیا،12 جنوری کو پرویز الٰہی کی جانب سے گورنر پنجاب کو اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری بھیجی گئی تھی جسے 2 روز اپنے پاس رکھنے کے بعد گورنر بلیغ الرحمان نے دستخط کرنے سے انکار کر دیاتھا،پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد پرویز الٰہی کی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی ، نگران حکومت کے قیام تک پرویز الٰہی 7 روز کیلئے نگران وزیر اعلیٰ کے طور پر کام کریں گے۔گورنرپنجاب بلیغ الرحمان نےکہ اسمبلی کی تحلیل کے عمل کا حصہ نہ بننےکافیصلہ کیا، ایسا کرنے سے آئینی عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ کا کوئی اندیشہ نہیں کیونکہ آئین اور قانون میں صراحت کے ساتھ تمام معاملات کے آگے بڑھنے کا راستہ موجود ہے۔پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے بعد ایک متفقہ نگران وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی اور قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو مراسلے جاری کر دیئےہیں،پنجاب اسمبلی کی تحلیل کےبعدنگران سیٹ اپ کیلئے کام شروع کردیاگیا ہے اور گورنر پنجاب بلیغ الرحمن نے وزیراعلیٰ پرویز الٰہی اور اپوزیشن لیڈر حمزہ شہبازکو مراسلات بھجوادیئے۔ دونوں شخصیات سے تین تین نام مانگے گئے ہیں۔ مراسلے میں کہاگیا ہے کہ تین روز تک نام گورنر ہاؤس کو فراہم کردیئے جائیں۔ آئین کے مطابق دونوں جانب سے ملنے والے ناموں میں مماثلت نہ ہوئی اور اختلاف سامنے آیا تو گورنر پنجاب نگران سیٹ اپ کیلئے سپیکر صوبائی اسمبلی محمد سبطین خان کو مراسلہ بھیجیں گے جس کی روشنی میں سپیکر اسمبلی حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے تین تین اراکین پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے گی جو اِس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کرے گی۔ یہاں سے ناکامی ہونے کی صورت میں معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلاجائے گا اور حتمی نام الیکشن کمیشن کی جانب سے دیا جائے گا جو نگران سیٹ اپ چلائے گا۔ ذرائع کے لیے پنجاب میں نگران سیٹ اپ کیلئے عمران خان اور اتحادی وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کے دوران آج زمان پارک میں ملاقات متوقع ہے جس میں نگران سیٹ اپ کے لیے ناموں پر مشاورت ہوگی۔ نگران سیٹ اپ قائم ہونے تک چودھری پرویز الٰہی بطور وزیراعلیٰ پنجاب اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے،الیکشن کمیشن امیدواروں کے کاغذات نامزدگی وصول کرنے سے انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ تک کا کام بائیس روز میں مکمل کرے گا اِس کے بعد کا عرصہ انتخابی مہم چلانے کے لیے امیدواروں کودیا جائے گا اور الیکشن کمیشن کے افسران پولنگ کے دن کیلئے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دیں گے۔ اعدادوشمار اورآئین کو مدنظر رکھتے ہوئے قوی امکان ہے کہ صوبے میں عام انتخابات یکم مارچ اور 10 اپریل کے درمیان ہوں گے تاہم حتمی تاریخ الیکشن کمیشن اورنگران وزیراعلیٰ پنجاب مشاورت سے طے کریں گے،واضح رہے کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں، ووٹرز کی فہرست اور پولنگ سٹیشنوں کی نشاندہی سمیت کئی اہم کام پہلے ہی نمٹاچکا ہے اور حالیہ دنوںمیں بھی اِسی معاملے پر الیکشن کمیشن کے افسران بالخصوص ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرز شب و روز کام کررہے ہیں۔ مزید برآں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ جس دن عمران خان کی طرف سے اشارہ ملے گا، اس وقت خیبرپختونخوا کی اسمبلی توڑدونگا،پشاور پریس کلب میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان نےکہا کہ جس دن عمران خان کی طرف سے اشارہ ملے گا، اس وقت خیبرپختونخوا کی اسمبلی تحلیل ہو جائے گی، جب وقت آئے گا اور ہم اسمبلی تحلیل کرنے کی طرف بڑھیں گے، جب اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری بھیجوں گا، اس وقت میڈیا کو بتا دوں گا، سب کو پتا چل جائے گا لیکن ابھی تک ایسی کوئی بات نہیں ہے،میں پارٹی کا ادنی کارکن ہوں، میری کیا حیثیت کہ عمران خان اشارہ کریں گے، اور میں کہوں گا نہیں میں نے یہ نہیں کرنا۔ آج میرا اس دور حکومت میں بطور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا آخری خطاب ہو، اس کے بعد ہم دوبارہ الیکشن میں جائیں گے اور خیبر پختونخوا میں ہماری پرفارمنس اور عمران خان کے موجودہ امیج کو دیکھتے ہوئے ہمیں امید ہے کہ ہم پورے پاکستان میں دو تہائی اکثریت کے ساتھ واپس آئیں گے۔
81