104

-3افسانہ
-3.1مصنف:آزات جمالدینی
چلتن اور گردش دوراں کے عنوان سے آپ جو افسانہ پڑھیں گے اس کے مصنف آزات جمالدینی ہیں جو 1918ء میں نو شکی کے قریب جمالدینی نام کی بستی میں پیدا ہوئے۔جمالدینی بلوچوں کے سردار خیل طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ میٹرک تک تعلیم حاصل کر نے کے بعد انھوں نے ملازمت شروع کر دی۔کچھ عرصے بعد ملازمت ترک کر کے انھوں نے ٹھیکہ دار کا کام شروع کیا۔ایک مدت تک اس پیشے سے وابستہ رہنے کے بعد 1955ء میں بلوچی کے نام سے کراچی سے ایک ماہنامہ جاری کیا۔کچھ مدت تک یہ رسالہ نکلتا رہا مگر بعد میں مالی مشکلات کی وجہ سے انھیں یہ رسالہ بند کر نا پڑا۔اس کے بعد کوئٹہ جاکر ہفت روز ہ نوکین دور کے ایڈیٹر ہو گئے۔چند سال تک نوکین دور چلاتے رہے۔بعد میں یہ رسال ہبیھ مالی مشکلات سے دوچار ہو کر خدم ہو گیا۔آزات جمالدینی بلوچی اور براہوی زبانوں کے ادیب اورشاعر ہیں۔اُن کا قلم جبروا ستحصالی کے خلاف لکھتا رہا۔آزات کی ساری زندگی قلمی جہاد میں گزری۔
چلتن اور گردش دوراں ایک سیدھاسادہ افسانہ ہے جو اپنے ماحول،فضااور کرداروں کے اعتبار سے بلوچستان کی زندگی کی نمائندگی کرتا ہے۔اس افسانے سے اس علاقے کے قدرتی مناظر،وہاں کی غربت اور پسما ندگی،معاشی نا انصافی اور زیادتی کا انداز ہو تا ہے۔اس افسانے میں صرف دو کردار ہیں ایک لڑکی اور ایک بوڑھا مصنف نے ان کرداروں کے نام نہیں رکھے۔ان کے درمیان جو گفتگو ہوتی ہے اس سے انداز ہ ہوتا ہے کہ لڑکی کو بوڑھے سے کیا شکا یتیں ہیں اور بوڑھا لڑکی کے الزامات کے جواب میں کس طرح اپنے آپ کو بے قصور ثابت کرتا ہے۔لڑکی بوڑھے پر یہ الزام لگا تی ہے کہ اس نے لڑکی کے علاقے پر ظلم وستم کیے ہیں اس کی بکریوں کو اُٹھا کر لے گیا اور اس کے علاقے کی شادابی چھین لی ہے۔بوڑھا ان الزماے کے جواب میں اپنے آپ کو معصوم ظاہر کرتا ہے بلکہ یہاں تک دعویٰ کرتاہے ہے کہ وہ اور انصاف ایک ہی چیز کے دوپہلوہیں۔جہاں تک علاقے کو سرسبز وشاداب بنانے کا تعلق ہے یہ لوگوں کی جدوجہد پر منحصر ہے۔ بوڑھے کو جواب میں صداقت ہو یانہ ہو لیکن لڑکی کے دل ودماغپر اس کو باتوں کا خوشگوار اثر پڑتا ہے۔ بوڑھے سے اس کی بیزاری اور نفرت ختم ہو جاتی ہے اور وہ مستقبل سے یا چھی امیدیں وابستہ کر لیتی ہے۔
-3.2افسانہ:چلتن اور گردش دوراں
کیا یہ ممکن ہے کہ گزری ہوئی مسرتوں اور شادمانیوں کا دور پھر ایک مرتبہ واپس آجائے گا؟
چلتن کا بلند وبالا سلسلہ کوہ کوئٹہ سے تقریبا سولہ میل کے فاصلہ پر مغرب کی جانب واقع ہے۔گوہ چلتن کے دامن میں ہزار گنجی کی سرسبز وشاداب چراہ گاہے۔اس کے دائیں جانب گوند کے پہاڑی دوختوں کا سلسلہ ایک دل فریب اور جاذب نظر نظارہ پیش کرتا ہے۔کوہ چلتن کی بلند چٹانوں کے درمیاں مسلسل پانچ سال کے قحط کی ماری دبلی پتلی بکریوں کا ایک ریوڑچر رہاہے اس ریوڑ کے بیج میں ایک چودہ سالہ معصوم لڑکی پھٹی پرانی قمیض پہنے اور سر پھٹا دوپٹا ڈالے مغرب کی جانب چناٹوں کے دومیاں شفق کی سرخی پر نظریں جمائے بیٹھی ہے اور یوں دیکھ رہی ہے جیسے وہ اپنے گم شدہ ماضی کا مطالبہ کر رہی ہے۔جم انگیزیادوں کے اثر سے اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں آنسوؤں کے موٹے موٹے قطرے موتی کے دانوں کی مانندنمودار ہو رہے ہیں افکارو آلام کی وجہ سے اس کے منہ پر ہوائیاں اڑرہی ہیں۔اس کے گلاب کی پنکھڑیوں جیسے نزم ونازک ہونٹوں پر خشکی سے پیڑیاں جمی ہوئی ہیں۔وہ اس کوشش میں ہے کہ سرد آہوں کے ذریعے اپنے دل کی بھڑاس نکال لے۔سورج تیزی سے ڈھلتا چلا گیا۔سائے پھیلتے چلے گئے اور تاریکی قریب سے قریب تر ہوتی چلی گئی۔اچانک ایک بوڑھا کا شتکار نمودار ہوا اور آسیب کی طرح آکر لڑکی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔اس کی کپاس کی طرح سفید اور گھنی داڑھی بہت ہی خوبصورت لگ رہی تھی لیکن اس کا چوڑاچہرہ موسم گرما کی لو اور سردیوں کی یخ بستہ ہواؤں سے جل کر خشک ہو چکا تھا۔اس کے چہرے کی جھریاں ایک ایک کر کے دور سے گنی جاسکتی تھیں اس کی ناک لمبی تھی اور بھنویں گھنی اور کمان کی مانند خمید ہ کالی اور موٹی آنکھیں دیے کی طرح روشن۔اس کے سر کے بال کاندھوں پر پھیلے ہوئے تھے۔دائیں ہاتھ میں ایک درانتی تھی۔آہستہ آہستہ لڑکی سے قریب تر ہوتا گیا۔بالکل سامنے آکر اس نے بلند آواز میں کہا چلتن شادرہو۔لڑکی کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔وہ کا نپتی ہوئی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔بھرائی ہوئی آواز میں اس نے بوڑھے سے کہا پر ے ہٹ۔مجھ سے تو کیا چاہتا ہے؟پھر اس نے اپنے ریوڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا اس ریوڑسے یہ ساری وادی بھری ہوئی تھی۔لیکن اب تو یہی چند بکریاں بچ گئی ہیں۔ شاہد تو ان کو بھی لے جانے کے لیے آگیا ہے۔یہ وہی چرا گاہ ہے جو اب تیرے منحوس سائے کی وجہ سے ویراں ہوتی جارہی ہے۔یہ سر سبز وشاداب پہاڑی اور یہ وسیع وعریض وادی ہمارے گزارے کا ذریعہ تھی۔میر ی بھیڑبکریاں یہاں ہر وقت چراکرتی تھیں اور ہمیں ان سے میٹھا میٹھا دودھ ملتا تھا۔مگر اب یہ حال ہے کہ بھوک سے نڈھال ہو کر بکریاں چلنے پھرنے سے معذور ہوتی جا رہی ہیں۔وہ دیکھ بھوک مٹانے کے لیے بکریاں خشک کانٹے اور جھاڑتک چن چن کر کھا رہی ہیں تاکہ موت سے بچ سکیں اور زندگی کے دن پورے کر سکیں۔اے گردش دوداں!خدا کے واسطے میرے راستے سے ہٹ جا تیرے ظلم و ستم نے مجھے اپنی زندگی سے بیزار کر دیاہے۔بس جا۔اب تو مجھے اکیلی ہی رہنے دے۔مجھ سے دور ہٹ جا اور اپنا رخ پھیرکر وہاخ چلا جا جہاں لوگ مسرت کی بہاروں میں زندگی بسر کر رہے ہیں مجھے تو اپنے حال پر چھوڑدے تاکہ میں اپنی بد نصیبی کا ماتم کر سکوں۔بوڑھے نے اپنی دارنتی کو بغل میں چھپاتے ہوئے روشنی کی طرف رخ کرلیا اور ایک شفیق باپ کی طرح لڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اے چلتن کی پھولوں سے لدی ہوئی سے زمین!میں نے تجھ سے قدرت کے دیے ہوئے خزانوں میں سے صرف ایک حصہ لیا ہے۔لڑکی یقین کراور اللہ پر بھروسہ کر کہ میں کسی اور کا حصہ نہیں چھینتا۔میں تو کسی اور کے ساتھ بدسلوکی پر بھی راضی نہیں۔میں اور انصاف ایک ہی شے کے دوپہلوہیں۔میری مجلس میں چاہٹ،محبت،انصاف اور برابری سے تقسیم ہوتی ہے۔چلتن کی پیاری سر زمین تو اپنے ہم سایہ علاقے کی طرف ایک نظرڈال کر دیکھ۔ان کی زمینیں اور ان کی چراگاہیں تیری ہی طرح خشک ویراں اور بے آب وگیاہ پڑی ہوئی تھیں لیکن وہاں کے لوگوں نے اپنی جدوجہد سے اپنے یہاں کی وایرنی اور بے رونقی کو دور کر لیا۔مٹی میں پانی ڈال کر پاؤں سے ملنے اور آگ اور پانی سے گزرنے کے بعد ایک خوبصورت محل تیار ہو سکتا ہے۔اسی طرح زندگی مشکلات ومصائب جھیلنے کے بعد ایک پر مسرت زندگی بن سکتی ہے۔بوڑھا اپنے آپ کو لڑکی سے نزدیک تر کرتا چلاگیا اس نے اپنے ہاتھ کو اس کی طرف بڑھاتے ہو ئے کہا۔اے گڑیا!اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے کہ میں تیرے ہاتھ کو چوم لوں اور اسے اپنی آنکھوں سے لگالوں۔لڑکی نے بوڑھے کے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر آنسو بہاتی ہوئی آنکھوں سے اسے دیکھا اور کہا مرحبا اے گردش دوراں!بوڑھے نے یہ الفاظ سن کر کہا اے چلتن کے کوہ داماں ان شاء اللہ ہم ایک دوسرے کو جلد پالیں گے۔اسی لمحے بوڑھا بجلی کی طرح چمک کر غائب ہو گیا۔لڑکی نے اپنے ریوڑکو اکٹھا کرتے ہوئے کہا۔کیا یہ ممکن ہے کہ گذشتہ مسرتوں اور شادمانیوں کا دور پھر ایک مرتبہ واپس آجائے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں