76

نیب نوٹسز کیخلاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی نیب نوٹسز کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں ڈویژن بینچ سماعت کی۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نوٹس میں نہیں بتایا گیا کس حیثیت میں انفارمیشن مانگی جا رہی ہے، عدالتی فیصلے آ چکے، نوٹس کی مکمل معلومات دینا ضروری ہے۔
وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ نیب پر لازم ہے وہ مکمل معلومات فراہم کرے، نیب کے پرانے قانون کے ہوتے یہ فیصلے آ چکے تھے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سوال کیاکہ ابھی جو نیب قانون میں ترامیم آئی ہیں ان میں نوٹس کا کیا طریقہ ہے؟
وکیل خواجہ حارث نے کہاکہ ترمیمی قانون کہتا ہے کہ بتانا لازم ہے آپ کسی کو کیوں بلا رہے ہیں، ترمیمی قانون میں بتانا ہو گا کسی کو بطور ملزم بلایا یا کسی دوسری وجہ پر بلایا۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے پھر سوال کیا کہ کیا عمران خان کو طلبی کے نوٹس آ گئے ہیں؟
عمران خان اور بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جی کال اپ نوٹس آگئے ہوئے ہیں۔
خواجہ حارث نے نیب کے نوٹس عدالت میں پیش کر دیے۔
وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ان نوٹسز میں نیب نے ہمیں معلومات فراہم نہیں کیں، نوٹس میں صرف لکھا گیا پبلک آفس ہولڈرز کے خلاف انکوائری ہے، تحائف کے معاملے میں کابینہ ڈویژن، ایف بی آر بھی شامل ہیں، کابینہ ڈویژن اور ایف بی آر بھی پبلک آفس ہولڈر میں آتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں