89

سپریم کورٹ نے انتخابات التواء کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا

سپریم کورٹ آف پاکستان نے خیبر پختون خوا اور پنجاب کے انتخابات کے التواء کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا، فیصلہ سنانے کے وقت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

چیف جسٹس پاکستان عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر بینچ میں شامل ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہے کہ ہم نے کہا تھا کہ فل کورٹ کو بعد میں دیکھ لیں گے استدعا مسترد نہیں کی تھی، ضمنی انتخابات کا موازنہ عام انتخابات سے مت کریں، حکومت معاشی بہتری کے لیے اچھے اقدامات کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ کا حکومتی اتحاد کے وکلاء کو سننے سے انکار
سماعت شروع ہوئی تو پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل فاروق ایچ نائیک روسٹرم پر آ گئے تاہم عدالت نے حکومتی اتحاد کے وکلاء کو سننے سے انکار کر دیا۔

فاروق ایچ نائیک نے روسٹرم پر آ کر کہا کہ کچھ کہنا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے سوال کیا کہ کیا آپ کیس کا حصہ بن رہے ہیں؟ کیا آپ بائیکاٹ نہیں کر رہے تھے؟

فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ ہم نے بائیکاٹ نہیں کیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ آپ مشاورت کر کے ہمیں بتائیں، ہمیں تحریری طور پر بتائیں، اگر بائیکاٹ نہیں کیا تو بھی بتائیں۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو بینچ پر تحفظات ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اخبارات میں لگا ہے کہ پیپلز پارٹی نے بھی بائیکاٹ کیا ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے جواب دیا کہ ہمیں صرف بینچ پر اعتراض ہے، ہم نے بائیکاٹ نہیں کیا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ بائیکاٹ کر کے دلائل دینے آ گئے، اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بینچ پر اعتماد نہیں ہے۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اس پر لارجر بینچ بننا چاہیے۔

ن لیگ کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ ہم نے وکالت نامے واپس نہیں لیے، ہمیں بینچ پر تحفظات ہیں، عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں، سیاسی جماعتوں نے عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ نہیں کیا تو تحریری طور پر بتائیں۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یکم مارچ کا فیصلہ چار تین کے تناسب سے ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم اس نکتے پر پہلے بات کر چکے ہیں۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کا اجلاس منعقد ہوا ہے، 48 گھنٹوں سے قومی پریس میں بائیکاٹ کا اعلان چل رہا ہے، اگر آپ کو ہم پر اعتماد نہیں تو ہمیں بتائیں، آپ کو ہم پر اعتماد ہی نہیں تو آپ دلائل کیسے دے سکتے ہیں؟

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ بینچ کے دائرہ اختیار پر بھی تحفظات ہیں۔

جسٹس منیب نے کہا کہ 48 گھنٹے سے میڈیا کہہ رہا ہے کہ اعلامیے کے مطابق سیاسی جماعتیں بینچ پر عدم اعتماد کر رہی ہیں، ہم پر اعتماد نہیں ہے تو دلائل کیسے دے سکتے ہیں؟ اگر اعلامیہ واپس لیا ہے تو آپ کو سن لیتے ہیں۔

چیف جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ بائیکاٹ ہی کرنا ہے تو عدالتی کارروائی کا حصہ نہ بنیں۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ وکلالت نامہ دینے والوں نے ہی اس بینچ پر عدم اعتماد کیا ہے۔

ن لیگ کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ وکیلوں کا عدالت آنا ہی اعتماد ظاہر کرتا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! آپ کو کیا ہدایات ملی ہیں؟ حکومت عدالت کا بائیکاٹ نہیں کر سکتی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ وہ انتخابات کی تاریخ آگے بڑھا سکتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ سنجیدہ اٹارنی جنرل سے اسی بات کی توقع ہے۔

اٹارنی جنرل منصور عثمان نے کہا کہ حکومت آئین کے مطابق چلتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سپریم کورٹ فیصلہ سنا چکی تھی، فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کیسے تاریخ آگے بڑھا سکتا ہے؟ سپریم کورٹ کا حکم ایگزیکٹیو سمیت سب اداروں پر لاگو ہوتا ہے۔

اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یکم مارچ کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کا ہی تھا، 9 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس میں سے 4 ججز نے درخواستیں مسترد کیں، 4 ججز نے تفصیلی فیصلے جاری کر دیے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جسٹس یحییٰ آفریدی نے درخواستوں کو مسترد کیا، جسٹس اطہر من اللّٰہ نے درخواستوں کو مسترد نہیں کیا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے جسٹس یحییٰ آفریدی کے فیصلے سے اتفاق کیا تھا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ یہ آرٹیکل 218، 17، 294 اور 254 کا معاملہ ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ 9 رکنی لارجر بینچ نے 2 دن کیس کی سماعت کی تھی۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آپ بہت جلدی کر رہے ہیں، آرام سے دلائل دیں۔

الیکشن کمیشن کے وکیل عرفان قادر روسٹرم پر آ گئے۔

جس پر جسٹس منیب نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ عرفان قادر آپ کو ریسکیو کرنے آ گئے ہیں۔

وکیل عرفان قادر نے کہا کہ میں ان کے بعد بات کروں گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ججز نے 27 فروری کے آرڈر میں بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ مجھے بھجوایا، ہمیں کوئی فیصلہ بتائیں جس میں چیف جسٹس کو نیا بینچ بنانے سے روکا گیا ہو؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ پشاور کا کیس ہے جس میں چیف جسٹس کو مرضی کے بینچ سے روکا گیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ پشاور کیس کا حکم آرڈر آف دی کورٹ نہیں ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ یکم مارچ کا آرڈر آف دی کورٹ اب تک جاری نہیں ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں