163

ترکیہ اور پاکستان بمقابلہ بھارت اور قبرص ( تکلم برطرف: مشتاق اے سرور )

بنتے بگڑتے عالمی تعلقات کے کینوس پر اس وقت بہت الٹ پلٹ جاری ہے، یہ صورت حال بسا اوقات دلچسپ شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ایک ایسی ہی دلچسپ صورت حال اس وقت دیکھنے میں آئی جب حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران ترکیہ نے پاکستان کی بھرپور حمایت کی اور پاکستان کے ساتھ دوستی کا دم بھرا تو جواباً کینیڈامیں منعقد ہونے والی جی سیون کانفرنس میں شرکت کے لئے جاتے ہوئے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے ترکیہ کی حریف ریاست قبرص میں دو دن گزار کر کچھ ایسے تانے بانے بنے کہ ترکیہ کو پاکستان کی کھل کر حمایت کا مزا چکھایا جائے۔ 20 برس بعد کسی بھارتی وزیر اعظم نے قبر ص کا دورہ کیاہے جس پر قبرص کے صدر نیکوس کرسٹوڈولیڈس نے بڑی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سٹریٹجک تعلقات کا ایک نیا باب ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ قبرص کے صدر نے کہا کہ ہم ایک ساتھ مل کر آگے بڑھنے اور مزید ترقی کا اعادہ کرتے ہیں۔
یہاں پر عالمی تعلقات کی دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت آپس میں دشمن ہیں، اور ترکیہ اور قبرص آپس میں دشمن ہیں، دوسری طرف پاکستان کی وجہ سے ترکیہ بھارت کا حریف ہے جبکہ بھارت قبرص کا دوست ہے۔ تیسری سمت میں اسرائیل کو پاکستان تسلیم نہیں کرتا جبکہ قبرص اور بھارت اسرائیل کے قریبی دوست ہیں۔ بس اسی پیچیدہ دشمنی اور دوستی کی پگڈنڈیوں پر بھارت ترکیہ کی مخالفت میں قبرص کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینا چاہتا ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک خاص عادت یہ ہے کہ وہ دشمن کے دوست اور دشمن کے دشمن پر بہت دلجمعی اور ثابت قدمی کے ساتھ محنت کرتے ہیں اور ہر دو صورت میں معاملات اپنے حق میں کرنے کی تگ و دو کرتے رہتے ہیں۔ اس کی ایک مثال پاکستان کے برادر اسلامی دوست ممالک سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہیں۔ پاکستان کے ان دو دوستوں پر سخت محنت کر کے وہ پاکستان اور ان ریاستوں کی باہمی دوستی ختم تو نہ کر سکے مگرحالات ایسے پیدا کر دیے کہ پاکستان کے ساتھ کسی بھی وقت بھارت کی محاذ آرائی کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کھل کر پاکستان کی مدد نہ کر سکیں۔ اسی طرح پاکستان کے خلاف بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ اور افغانستان اور ایران میں بھارتی سرمایہ کاری اور حربی چالیں اب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ تو بس ترکیہ کی مخالفت اور قبرص کو تھپکی بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کی دنیا شطرنج کی بساط کی مانند ہے جہاں ہر چال ایک نئے اتحاد، ایک نئی دشمنی، یا کسی پرانی رنجش کی یاد بن کر ابھرتی ہے۔ آج اگر ہم اس بساط پر نظر ڈالیں تو ترکیہ اور پاکستان ایک طرف کھڑے ہیں، جبکہ بھارت اور قبرص دوسری طرف۔ یہ صرف دوستیوں یا دشمنیوں کی بات نہیں، بلکہ ایک بڑی عالمی صف بندی کا حصہ ہے جس میں مفادات، نظریات، اور جغرافیائی حقائق سب ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو چکے ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان کی دوستی کوئی نئی بات نہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات تاریخی ہیں جن کی جڑیں اسلامی اخوت، ثقافتی مماثلت اور مشترکہ عالمی نظریات میں پیوست ہیں۔ ترکیہ نے ہمیشہ ہر فورم پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے، اور پاکستان نے بھی ہر نازک لمحے میں ترکی کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں جب بھارت نے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کوشش کی، تب ترکیہ نے کھل کر پاکستان کا ساتھ دیا۔ صدر رجب طیب اردوان نے نہ صرف کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی بلکہ اقوام متحدہ میں اس مسئلے کو انسانی حقوق کے تناظر میں اجاگر بھی کیا۔ اس جرات مندانہ اقدام نے بھارت کو چراغ پا کر دیا۔
ادھر بھارت نے جوابی چال چلی، اور اس نے ترکی کے دیرینہ مخالف ملک قبرص سے تعلقات کو نئی جان بخش دی۔ قبرص کا مسئلہ دراصل دو نسلی اکائیوں کے درمیان تقسیم شدہ جزیرہ ہے۔ ایک طرف ترک قبرصی ہیں جنہوں نے 1983 میں ”ترک جمہوریہ شمالی قبرص” کا اعلان کیا، اور دوسری طرف یونانی قبرصی ہیں۔ ترکی اور قبرص کے تعلقات ہمیشہ تلخ رہے ہیں، خاص طور پر اس وقت سے جب ترکی نے 1974 میں یونانی نسل کشی کے خطرے سے بچنے کے لیے شمالی قبرص میں فوجی مداخلت کی۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں بھارت کو ترکیہ کے خلاف ایک کمزور پہلو مل گیا۔ بھارت نے نہایت خاموشی مگر چالاکی سے قبرص کے ساتھ معاشی، سفارتی اور عسکری تعلقات بڑھانے شروع کر دیے۔ حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا قبرص کا دورہ اس سلسلے کی اہم کڑی تھا۔ اس دورے میں بھارت نے قبرص کو ٹیکنالوجی، دفاع، اور تعلیم کے میدان میں معاونت کی پیشکش کی، اور یونانی قبرص نے بدلے میں بھارت کی عالمی سطح پر حمایت کا وعدہ کیا۔ یہ بظاہر معمولی سفارتی تعلق لگتا ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک بڑی اسٹریٹیجی چھپی ہے۔
ترکیہ کو جہاں شام، آرمینیا، یونان اور کردوں کے محاذ پر مسلسل دباؤ کا سامنا ہے، وہیں بھارت قبرص کی حمایت سے ترکیہ کے لیے مشرقی بحیرہ روم میں ایک اور محاذ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر بھارت قبرص کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دیتا ہے، تو یہ ترکیہ کے لیے بحری حدود، گیس کے ذخائر، اوردیگر معاملات میں خطرناک چیلنج بن سکتا ہے۔ یونانی قبرص پہلے ہی ترکیہ کو یورپی یونین میں شمولیت سے روکنے کے لیے کوشاں ہے، اور اب اگر بھارت اس کھیل میں شامل ہو گیا تو یہ ترکیہ کے لیے ایک بڑی سفارتی مشکل بن سکتی ہے۔ یاد رہے کہ قبرص یکم جنوری 2026 ء کو یورپی یونین کی صدارت سنبھالے گا اور یورپی یونین میں قبرص بھارت کا اچھا دوست ہے۔دوسری طرف بھارت اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لئے کام جاری ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ بھارت قبرص کی مدد کر کے ترکیہ کو کس حد تک نقصان پہنچا سکتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ بھارت ترکیہ کے اس عالمی وژن کو متاثر کر سکتا ہے جو وہ ”ترک دنیا” (Turkic World) کے ذریعے وسطی ایشیا تک پھیلانا چاہتا ہے۔ اگر بھارت قبرص کے ذریعے یورپی یونین میں ترکیہ کے داخلے کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے، تو یہ ترکیہ کی اقتصادی اور جغرافیائی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان اور ترکیہ اس بدلتی ہوئی صورتحال میں مزید قریب آ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے دفاعی شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی ایک دلچسپ پہلو ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کی یہ قربت صرف بھارت کو ہی نہیں کھٹک رہی، بلکہ بعض مغربی طاقتیں بھی اسے ایک نیا ”اسلامی بلاک” بنتا دیکھ کر محتاط ہو گئی ہیں۔ بھارت اس صورت حال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قبرص کو ایک جیوپولیٹیکل مہرہ بنا کر ترکیہ پر دباؤ ڈالنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ قبرص کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات بھارت کو یورپ میں ایک نیا مقام دلا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب یورپی یونین ترکی سے نالاں ہے۔
دنیا میں تعلقات ہمیشہ مفادات کے گرد گھومتے ہیں۔ بھارت کی قبرص سے دوستی کا اصل مقصد ترکیہ کو سزا دینا ہے، کیونکہ اس نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ مگر اس کھیل میں بھارت یہ بھول گیا ہے کہ ترکیہ ایک علاقائی طاقت ہے، اور پاکستان اس کا قدرتی حلیف۔ اگر بھارت قبرص کو مہرہ بنا کر ترکیہ کو تنہا کرنے کی کوشش کرے گا، تو ممکن ہے کہ اس چال کا نتیجہ الٹا پڑے اور ترکیہ، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک مزید متحد ہو جائیں۔ ترکیہ اور پاکستان کی دوستی کسی سیاسی چال کا نتیجہ نہیں بلکہ دلوں کا رشتہ ہے، جبکہ بھارت اور قبرص کا گٹھ جوڑ وقتی مفاد پر مبنی ہے۔ وقت بتائے گا کہ اس عالمی شطرنج کی بساط پر اصل بادشاہ کون بنتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں