153

قانون کے احترام کی عادت – تحریر: ڈاکٹر صغرا صدف

میں جب بھی برطانیہ جاتی ہوں ، ان کے ٹیکس کے نظام اور قانون کے احترام کی عادت سے شدید متاثر ہوتی ہوں۔ ایک مہینہ پہلے کارڈف ویلز میں اپنی بھتیجی کے ساتھ دو ہفتے گزارنے کا موقع ملا تو میں روز ٹیکس ادائیگی کے شفاف نظام کو نوٹ کرتی رہی، ہم ،، چھوٹے بڑے امیر غریب سب برابر ہیں ، کا ورد کر کے یا تقریروں اور مضامین میں بیان کر کے خوش ہو جاتے ہیں جبکہ انگریزوں نے اس کا عملی مظاہرہ کر کے دکھایا ہے، مختلف تفریحی مقامات پر میل ڈیرھ میل دور پارکنگ میسر آتی ہے اور ہر جگہ گھنٹوں کے حساب سے مشین میں پارکنگ فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔ کہیں کوئی پولیس اہلکار کھڑا نظر نہیں آتا ، لیکن ذرا سی کوتاہی سرزد ہو جائے تو پانچ منٹ کے اندر جرمانہ عائد ہو جاتا ہے۔ ، ایک دن میری بھتیجی نے ساڑھے پانچ بجے گاڑی پارک کی ،ایک گھنٹے کی پارکنگ فیس بھی ادا کی مگر فیس والی رسید گاڑی کے شیشے پر چسپاں کرنا بھول گئی، چھ بجے سے پہلے ہی اُس پر پچیس پونڈ کا جرمانہ عائد ہو چکا تھا،اسے جرمانہ عائد کرنے والے پر بالکل غصہ نہیں آیا بلکہ اپنی کوتاہی پر رنج ہوا کہ وہ ٹوکن فرنٹ شیشے پر چسپاں کرنا کیوں بھول گئی۔
ہم پنجابی فلم دیکھنے گئے تو میں نوٹ کیا جتنے کا ایک ٹکٹ تھا اتنی ہی گاڑی کی پارکنگ فیس تھی، اسی طرح آپ کسی ریسٹورینٹ پر کھانا کھانا جائیں ، چائے کافی پینے جائیں یا کسی مقام پر سیر وتفریح کے لئے جائیں آپ کو ہر جگہ سرکار کو پارکنگ کی صورت ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے جس سے نظام چلتا نہیں دوڑتا ہے۔
پاکستان میں حالات بالکل مختلف ہیں ، لوگ قانون کے احترام کو بالکل ملحوظ خاطر نہیں رکھتے بلکہ پولیس کے ٹوکنے کو بے عزتی سمجھتے ہیں۔ حتی کہ باہر قانون کی ڈٹ کر پابندی کرنے والے بھی پاکستان آکر لاقانونیت کو انجوائے کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ھمارے تعلیمی اداروں اور گھروں میں قانون کے احترام کی اہمیت پر زور دے کر قانون کا احترام بچوں کی عادت نہیں بنایا گیا ، انگریز کوئی دیگر اقوام سے زیادہ ذہین اور عقلمند نہیں ، ان کی کامیابی ایک مربوط نظام کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد ہے۔ پنجاب حکومت نے ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کا آغاز کرکے بہت اچھا فیصلہ کیا ہے ۔ اس کی ستائش اور حمایت کی بجائےبہت سے سمجھ دار لوگوں کو طلبا کے لئے رعایتوں اور نرمی کا تقاضا کرتے دیکھ کر حیرانی ہوئی۔ انھیں نوجوانوں کو سمجھانا چاہیے کہ وہ ضابطے کا خیال کریں نہ کہ حکومت اور پولیس کو، والدین، اساتذہ اور سماج کو بچوں کی تربیت میں نظام کی افادیت اور قانون کے احترام کا جذبہ راسخ کرنے کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے ۔ میں جب بھی اپنے کسی اٹھارہ سال سے کم رشتے دار بچے کو گلی محلے میں بھی موٹر سائیکل چلاتے دیکھوں تو بچے سمیت والدین سے بھی گلہ کرتی ہوں۔ کیونکہ یہ اُن کی اور دیگر لوگوں کی بقا کا سوال ہے۔
پاکستان میں ٹریفک قوانین پر مؤثر عمل درآمد اور عوام کو قانون کی پابندی کی طرف مائل کرنے کےلئے اسکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر ٹریفک قوانین کے بارے میں تربیتی سیشنز اور ورکشاپس کروائی جائیں۔ نصاب میں ٹریفک تعلیم کا باب شامل کیا جائے تاکہ بچوں میں آغاز سے ہی قانون کا شعور پیدا ،الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا پر موثر اور مسلسل آگاہی مہم چلائی جائے۔ حادثات، جرمانوں اور قانون شکنی کے نتائج پر مبنی ڈاکومنٹریز اور اشتہارات نشر کیے جائیں ، بغیر ہیلمٹ، غلط پارکنگ، اوور اسپیڈنگ اور کم عمر ڈرائیونگ پر سخت اور فوری جرمانے کیے جائیں۔ خلاف ورزی کی صورت میں ڈرائیونگ لائسنس معطل کرنے یا گاڑی ضبط کرنے جیسے اقدامات کیے جائیں،اہم شاہراہوں پر سی سی ٹی وی کیمرے اور ای چالان سسٹم کو فعال اور مربوط بنایا جائے۔ خلاف ورزی پر فوری آن لائن چالان بھیجا جائے. کم عمر یا بغیر لائسنس موٹر سائیکل سواروں کے والدین کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
ٹریفک پولیس کے عملے کو بھی رعب اور دھونس کی بجائے نرمی اور شائستگی کا مظاہرہ کرنے کا عادی بنانے کیلئے تربیت دی جائے۔
رشوت کا کلچر ختم کرنے کے لیے مانیٹرنگ سخت کی جائے۔مصروف سڑکوں پر گھنٹوں کے حساب سے پارکنگ فیس کو رواج دینے کی ضرورت ہے ،
قانون پر عمل صرف حکومت کی نہیں، معاشرے کی مجموعی ذمہ داری ہے۔ جب تک ہر فرد اپنی جگہ نظم، اصول اور احترام کو نہیں اپنائے گا ہم ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل نہیں ہو سکتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں