165

منیبہ مزاری وہیل چیئر تک محدودایک مصورہ، مقررہ اور ایک سماجی کارکن

3 مارچ 1987 میں رحیم یار خان میں پیدا ہونے والی منیبہ مزاری نےتعلیم آرمی پبلک اسکول سے حاصل کی اورفائن آرٹس میں ڈگری لی۔

27 فروری 2008 کو کوئٹہ سے رحیم یار خان آتے ہوئے گاڑی کا شدید حادثہ ہوا، جس کے نتیجے میں 21 سالہ منیبہ دو سال تک بستر مرگ پر رہیں۔ ان کے شوہر پاکستان ائیر فورس میں تھے۔اس مشکل وقت میں شوہر نے طلاق دے دی۔
وہیل چیئر تک محدودایک مصورہ، مقررہ اور ایک سماجی کارکن بھی ہیں۔ اس حادثے کے بعد وہ اپنی دونوں ٹانگوں کے استعمال کی قوت کھو بیٹھی تھیں۔ ریڑھ کی ہڈی میں لگنے والی چوٹ نے ان کی زندگی اور شخصیت کا رخ ہی تبدیل کر دیا۔ منیبہ ایک گلوکارہ اور سماجی کارکن بھی ہے، منیبہ مزاری کا نام فوربز میگزین کی سن 2016 کی 30 سال سے کم عمر اہم ترین شخصیات کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ منیبہ نے ٹریفک حادثے کے بعد دوران میں علاج اس حادثے کے اثرات اور تکلیف سے اپنی توجہ ہٹانے کے لیے مصوری کا آغاز کیا۔ پولیو مہم کے ایک اشتہار نے ان کی توجہ اپنے جانب مبذول کرا لی۔ منیبہ کے مطابق اس دن انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ لوگوں میں اس شعور کو بیدار کرنے کے لیے کام کریں گی کہ معذوری کا مطلب یہ نہیں کہ آپ قابل رحم ہیں۔ آپ معذوری کے باوجود دنیا کا کوئی بھی کام کر سکتے ہیں۔ اسی سوچ پر عمل کرتے ہوئے منیبہ نے وہ سب کچھ حاصل کیا جو معذوری کے شکار کسی بھی شخص کے لیے ایک مثال ہے۔
منیبہ نہ صرف پاکستان کی پہلی وہیل چیئر تک محدود ماڈل ہیں بلکہ معروف برانڈ باڈی شاپ کی برانڈ ایمبیسیڈر بھی ہیں۔ وہ گلوکاری بھی کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ ایک ایسے اسکول کے ساتھ بھی کام کر رہی ہیں، جو ضرورت مند بچوں کو تعلیم دیتا ہے۔ منیبہ کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عطیہ کرنے والے افراد کی توجہ اس اسکول کی جانب دلائیں تاکہ یہاں زیادہ سے زیادہ بچے داخلہ لے سکیں اور مفت تعلیم حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ بھی منیبہ کئی سماجی کاموں میں حصہ لیتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خواتین نے گذشتہ برس دسمبر میں منیبہ کو خیر سگالی کی سفیر مقرر کیا۔ وہ پہلی پاکستان خاتون ہیں، جنہیں یہ اعزاز حاصل ہوا۔ اقوام متحدہ کی خیر سگالی سفیر کی حیثیت سے اپنے کردار کے حوالے سے منیبہ کہتی ہیں، ’’اگر صنفی عدم مساوات کا خاتمہ کرنا ہے تو اس کے لیے مردوں اور عورتوں، دونوں کو آگاہی دینا ہو گی اور اس کے لیے ہمیں مل کر کام کرنا ہو گا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو با اختیار بنایا جائے کیونکہ ایک عورت کو با اختیار بنانے کا مطلب ہے، ایک پوری نسل کو با اختیار بنانا۔‘‘ بطور خیر سگالی کی سفیر، منیبہ پاکستان میں خواتین اور لڑکیوں کو خود مختار بنانے اور یو این ویمن کی مہم کے علاوہ خواتین کی دیگر مہمات کے لیے کام کریں گی۔
یہ ہیں پاکستان کی آئرن لیڈی منیبہ مزاری وہ بہادر خاتون جن کی دونوں ٹانگیں حادثے میں چلی گئیں، شوہر نے طلاق دے دی، مگر اس نہتی لڑکی نے اپنی محرومی کو طاقت بنا لیا اور آج ساؤتھ ایشیا کی پہلی وہیل چیئر ماڈل، انفلوئنسر اور کامیاب بزنس وومن ہیں!
وہیل چیئر پر زندگی شروع کی، مگر حوصلہ نہ ٹوٹا-Tony & Guy نے ایشیا کی پہلی وہیل چیئر ماڈل بنایا، The Body Shop نے برانڈ ایمبیسیڈر۔ وہ ماڈل ہیں، گلوکارہ، اینکر، اقوام متحدہ کی خواتین کے لیے نیشنل گڈویل ایمبیسیڈر اور اپنی خوبصورت پینٹنگز دنیا بھر میں نمائش کرتی ہیں۔
شادی ناکام ہوئی، مگر منیبہ کی کامیابی کی داستان پوری دنیا سن رہی ہے – جبکہ سابق شوہر کا نام تک کوئی نہیں جانتا!
حقیقی ہمت اور انسپائریشن کی زندہ مثال منیبہ مزاری جیسے لوگ ثابت کرتے ہیں کہ مشکلات انسان کو توڑ نہیں سکتیں، بلکہ نئی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہیں!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں