آزاد کشمیر کے نئے وزیرِ اعظم کے انتخاب کے لیے قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کچھ دیر بعد ہو گا۔
پارٹی میں بغاوت کے باعث پی ٹی آئی اب تک امیدوار کا اعلان نہ کر سکی۔
پارٹی ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے عمران خان کے حمایت یافتہ گروپ کے ساتھ حکومت بنانے کی پیشکش مسترد کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے حمایت یافتہ گروپ کے مزید 3 ارکان فارورڈ بلاک میں شامل ہو گئے، قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کی تعداد 30 تک پہنچ گئی۔
متحدہ اپوزیشن اور فاروڈ بلاک میں شراکت اقتدار کا فارمولا طے ہونے کا امکان ہے، مسلم کانفرنس، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتوں کی قومی حکومت بنانے کی تجویز ہے۔
ذرائع نے کہا ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود بدستور صدر ریاست آزاد کشمیر رہیں گے جبکہ خواتین اور مہاجرین اراکین اسمبلی کو بھی وزارتیں دیے جانے کا امکان ہے۔
وزیرِ اعظم کے انتخاب کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قائد ایوان کے انتخاب میں تاخیر پر اپوزیشن کا عدالت سے رجوع کرنے کا امکان ہے۔
واضح رہے کہ قائد ایوان کے انتخاب کے لیے 52 میں سے 27 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔
82