
تحریر: رانا عامر
تاندلیانوالہ ایک ایسا علاقہ ہے جس کی تاریخ اور تقدیر میں سب سے نمایاں کردار رہا ہے 1993 کے الیکشن میں میاں منظور وٹو نے یہاں سے الیکشن لڑا اور جیتنے کے بعد وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے منصب پر فائز ہوئے میاں منظور احمد وٹو کا ایک ایسے راجہ کی طرح جس نے اپنی عوام اور اولاد کے لیے ہر لمحہ سوچا اور ہر قدم پر خدمت کو نصب العین بنایا وہ نہ صرف سیاسی رہنما تھے بلکہ علاقے کے حقیقی معمار اور لوگوں کے لیے ستون تھے انہوں نے اپنے دور میں تاندلیانوالہ کی تقدیر بدل دی اور اسے ایک چھوٹے گاؤں سے ترقی یافتہ تحصیل کی صورت دی میاں منظور احمد وٹو نے علاقے میں تعلیم کی بنیاد رکھی انہوں نے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ اسکول قائم کرائے تاکہ ہر بچہ بغیر رکاوٹ تعلیم حاصل کر سکے انہوں نے بینکوں کی سہولتیں لائی تاکہ مقامی لوگ فیصل آباد یا لاہور نہ جائیں اور اپنے کاروبار اور مالی معاملات خود چلائیں انہوں نے سڑکوں کی تعمیر اور مرمت پر توجہ دی جس سے نقل و حمل آسان ہوئی اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی انہوں نے تقریباً تیس سال پہلے ماڈل بازار قائم کرایا جو علاقے کی تجارتی زندگی میں انقلاب ثابت ہوامیاں منظور احمد وٹو نے تاندلیانوالہ کو تحصیل کا درجہ دلوانے میں کلیدی کردار ادا کیا اس کے بعد یہاں حکومت کی تمام سہولیات پہنچ سکیں اور علاقے کے لوگ فیصل آباد کے رُخ کیے بغیر اپنے کام انجام دے سکیں ان کی قیادت میں صحت اور تعلیمی اداروں کی تعداد بڑھی سڑکوں کی مرمت اور پلوں کی تعمیر سے نقل و حمل بہتر ہوئی اور بینکوں کے قیام سے کاروبار میں وسعت آئی انہوں نے ہر شخص کی رائے کو اہمیت دی اور عوام کی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبے مکمل کرائے میاں منظور احمد وٹو کی دوراندیشی کی وجہ سے علاقے میں نہ صرف بنیادی ڈھانچے کی بہتری ہوئی بلکہ تعلیمی، مالی اور تجارتی شعبے مضبوط ہوئے ان کے جانے کے بعد تاندلیانوالہ کے لوگ ایک عظیم رہنما کو کھو بیٹھے لیکن ان کی میراث آج بھی زندہ ہے تاندلیانوالہ کی موجودہ آبادی تقریباً 500000 افراد ہے جو علاقے کی ترقی اور سہولیات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے
یہ مشن اب ان کی بیٹی عائشہ منظور وٹو کے کندھوں پر منتقل ہو چکا ہے عائشہ منظور وٹو جو اس وقت ڈائریکٹر جنرل PEMRA ہیں نے اہل تاندلیانوالہ کی چاہت توقعات اور عزت کا احترام کرتے ہوئے اپنے والد کے مشن کو آگے بڑھایا عائشہ منظور وٹو اپنے خاندان کی سب سے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سیاسی شعور اور بصیرت رکھنے والی خاتون ہیں میاں منظو وٹو اُنکی زیرک اور مدبرانہ سوچ کو جانتے تھے وہ جانتے تھے کے میری یہ بیٹی مسائل کے حل نکالنے والی ، سب کو ساتھ مِلا کر چلنے والی بہادر اور نڈر بیٹی ہے وہ جانتے تھے کے میری یہ بیٹی جتنی بےخوف ہے اتنی ثابت قدم اور پُر خلوص بھی ہے لوگوں کا درد رکھنے والی ہے اس بات کا اعتراف خود میاں منظور وٹو نے عائشہ منظور وٹو کی کتاب کی تقریب رونمائی میں کیا ۔ وہ جانتے تھے کے میری یہ بیٹی عوام کی خدمت ویسے ہی کرے گی جیسے انھوں نے کی ۔
عائشہ منظور وٹو کی سیاسی صلاحیتوں کی بنیاد ان کی اسٹریٹجک سوچ اور فیصلہ سازی پر ہے۔ ایک بڑے سیاسی خاندان کی بیٹی ہونے کی حیثیت سے انہوں نے خود کو عوامی سطح پر ثابت کیا۔ تاندلیانوالہ اور فیصل آباد جیسے علاقوں میں ان کے حالیہ دوروں سے یہ واضح ہے کہ وہ صرف تقریریں نہیں کرتیں بلکہ زمینی مسائل سنتی ہیں، ان کا تجزیہ کرتی ہیں اور عملی حل پیش کرتی ہیں۔ چک 614 جی بی میں عوامی اجتماعات، مقامی نمائندوں سے براہ راست ملاقاتیں اور عوام کے مسائل کا نوٹس لینا — یہ سب ان کی گراؤنڈ لیڈرشپ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو عوام کے درمیان رہے، ان کی آواز بنے اور مشکلات کو اپنی ذمہ داری سمجھے۔ عائشہ صاحبہ اسی طرز کی لیڈر ہیں۔
انہوں نے دو بار تاندلیانوالہ کا دورہ کیا عوامی مسائل کا جائزہ لیا اور عملی منصوبہ بندی کے ساتھ میدان میں قدم رکھاعائشہ منظور وٹو نے واضح کیا کہ وہ نہ صرف سرکاری اور سیاسی محاذ پر مضبوط ہیں بلکہ علاقے کی حقیقی فلاح اور ترقی کے لیے بھی سرگرم ہیں ان کا مقصد صرف عہدہ یا اقتدار حاصل کرنا نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں حقیقی تبدیلی لانا ہے وہ والد کی میراث کو آگے بڑھاتے ہوئے علاقے میں تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچہ کاروباری مواقع اور معاشرتی فلاح کے تمام پہلوؤں پر کام کر رہی ہیں وہ اہل تاندلیانوالہ کی توقعات پر پورا اترنے اور علاقے کو ایک ماڈل تحصیل بنانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں
تاندلیانوالہ کے لوگ میاں منظور احمد وٹو کی خدمات کو آج بھی یاد کرتے ہیں ان کی قربانیوں اور اقدامات کی بدولت علاقے میں تعلیم صحت سڑکیں بینک اور ماڈل بازار جیسی سہولیات قائم ہوئیں جو آج یہاں کے عوام کی زندگیوں کو آسان بنا رہی ہیں ان کی فلاح کے لیے کیے گئے کام آج بھی مشعل راہ ہیں اور اب عائشہ منظور وٹو اس میراث کو لے کر ایک نئے عہد کا آغاز کر رہی ہیں تاکہ علاقے کی ترقی اور خدمت کے جذبے کو برقرار رکھیں اور اہل تاندلیانوالہ کی عزت اور چاہت کا احترام کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری پوری کریںاہل تاندلیانوالہ کی چاہت اور ان کی توقعات کا احترام عائشہ منظور وٹو کی اولین ترجیح ہے وہ عوام کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہتی ہیں مسائل سنتی ہیں اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرتی ہیں ان کا عزم ہے کہ میاں منظور احمد وٹو کی خدمات اور مشن کو ہر لحاظ سے آگے بڑھایا جائے تاکہ تاندلیانوالہ ایک روشن مثال بنےآخر میں تاندلیانوالہ کے لوگ ہمیشہ میاں منظور احمد وٹو کی قربانیوں اور خدمت کو یاد رکھیں گے اور امید کرتے ہیں کہ عائشہ منظور وٹو اسی مشن کو آگے بڑھائیں گی
تاندلیانوالہ کے سیاسی ماحول میں کافی گرمی آ چکی ہے حلقہ مکمل متحرک ہو چکا ہے کیونکہ وہاں سب جانتے ہیں کے یہ ایک لڑکی سب اور بھاری پڑ جائے گ
25