223

خوبصورتی کی غلامی اور فٹنس سے بے اعتنائی تحریر: رخسانہ سحر

ہمارے معاشرے میں عورت کو عقلی طور پر اس قدر مفلوج کر دیا گیا ہے کہ اُس کا دھیان فٹنس اور صحت کی طرف تقریباً زیرو ہو چکا ہے، اور رنگ گورا کرنے کی کوششوں کی طرف سو فیصد۔ یہ صرف ایک رویہ نہیں، ایک اجتماعی بیماری ہے جس نے نسلوں کی ذہنیت کو جکڑ رکھا ہے۔

عورت کی خوبصورتی کا پیمانہ صدیوں سے اس کی رنگت، چہرہ، بال اور نرم لہجے تک محدود کر دیا گیا ہے۔ بچپن سے لڑکی کو سکھایا جاتا ہے کہ دھوپ سے بچنا، گورا ہونا، نازک رہنا اور دبلا پتلا نظر آنا تمہاری کامیابی کی شرط ہے۔ کوئی نہیں بتاتا کہ تمہاری اصل طاقت تمہاری صحت، تمہارا خود پر اختیار اور تمہاری جسمانی چستی ہے۔

المیہ یہ ہے کہ لڑکیوں کو جب بھی آئینے کے سامنے کھڑا کیا جاتا ہے، تو ان کی آنکھوں میں خود احتسابی نہیں بلکہ خود نفرت انڈیلی جاتی ہے۔ انہیں بتایا جاتا ہے کہ تم اتنی گوری نہیں ہو، ناک پتلی نہیں، کمر اتنی سلم نہیں، اور اسی لیے تم قابلِ قبول نہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لڑکیاں جم جانے کے بجائے بیوٹی پارلر چلی جاتی ہیں، پانی پینے کی بجائے “فئیرنس کریم” پر وقت اور پیسہ لگاتی ہیں، اور صحت مند غذا کی بجائے فیس پیک اور گورے رنگ والے فلٹرز میں اپنی ذات کو گم کر دیتی ہیں۔

یہ جسمانی ظلم کا آغاز ذہنی غلامی سے ہوتا ہے۔ ہماری ثقافت، میڈیا، ڈرامے، اشتہارات اور بعض اوقات ہمارے گھر کے بزرگ بھی اس ذہنیت کو پروان چڑھاتے ہیں کہ عورت کو صحت مند نہیں، صرف حسین ہونا چاہیے — اور “حسن” کی تعریف صرف گوری رنگت سے مشروط ہے۔
عورتیں خود بھی اس چال میں آ کر اپنے جسم کے ساتھ ظلم کرتی ہیں۔ نہ وہ چہل قدمی کو اہمیت دیتی ہیں، نہ ورزش کو، نہ ہی متوازن غذا کو۔ تھائیرائڈ، شوگر، پولی سسٹک اووری سنڈروم، اور ہارمونل مسائل روز بروز بڑھ رہے ہیں، مگر بحث گورے پن پر ہو رہی ہے۔

اسلامی تعلیمات اور نبی اکرم ﷺ کی سنت ہمیں سادگی، صفائی، صحت اور تندرستی کی طرف بلاتی ہے۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا:
“طاقتور مومن، کمزور مومن سے بہتر ہے۔”
یہ طاقت صرف روحانی نہیں، جسمانی بھی ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ عورت اپنے آپ سے یہ سوال کرے:
کیا مجھے صرف خوبصورت نظر آنا ہے؟ یا صحت مند اور خود مختار بھی بننا ہے؟
کیا میرے لیے دوسروں کی نظر میں قبولیت اہم ہے؟ یا میرے اپنے جسم اور ذہن کی خیرخواہی؟

فٹنس کا مطلب صرف وزن گھٹانا نہیں، یہ خود اعتمادی بڑھانے، ذہنی سکون پانے اور جسم کے ساتھ تعلق بحال کرنے کا نام ہے۔
عورت جب خود سے سچی ہوتی ہے تو وہ صرف گوری نہیں، مضبوط، روشن اور مکمل ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اگر چند باتیں ذہن نشین کر لی جائیں تو ذہن سازی میں کافی مدد ملے گی
اہم نکات:
1. معاشرتی ذہن سازی:
کس طرح میڈیا، اشتہارات، اور سسرالی مطالبات نے عورت کو رنگت کی غلامی میں مبتلا کر دیا ہے۔

2. صحت کی نظراندازی:
جسمانی صحت، فٹنس، ذہنی سکون، متوازن غذا کی طرف عورتوں کی عدم توجہ اور اس کے نقصانات۔

3. گورا رنگ بطور کامیابی کی ضمانت؟
رنگ گورا ہونا لڑکی کے لیے “قبولیت” کی شرط کیوں بن گیا ہے؟ اس سوچ کے پیچھے استعماری، مردانہ اور سرمایہ دارانہ ذہنیت کی تشریح۔

4. روحانی و جسمانی توازن کی ضرورت:
اسلامی، سائنسی اور اخلاقی حوالوں سے یہ واضح کرنا کہ ایک صحت مند جسم و ذہن عورت کی اصل خوبصورتی ہے۔

5. تبدیلی کا پیغام:
عورتوں کو خود اعتمادی، جسمانی مضبوطی، اور ذہنی تندرستی کی طرف راغب کرنے کی دعوت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں