114

غربت ایک جرم ؟ تحریر : میاں عصمت رمضان

غربت ایک جرم ؟
پاکستان میں غریب ہونا سب سے بڑا جرم ہے اور اس جرم کی سزا ایک غریب آدمی پیدا ہونے سے لیکر موت کی آغوش میں جانے تک ہر لمحہ اور ہر روز سسک سسک کر سہتا ہے اسکی سب سے بڑی سزا یہی ہے کہ وہ ایک غریب گھر میں پیدا کیوں ہوا – جو اسکے اپنے بس میں نہ تھا-.پیدا ہونے کے سب سے پہلے دودھ کیلیے ترستا رہا پھر اچھا کھانے کیلیے اسکے بعد اچھی پڑھائی کیلیے اور اللہ نہ کرے وہ کسی طرح محنت مزدوری کر کے اچھا پڑھ لکھ لے تو پھر ظالم معاشرے کی در در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہے اچھی نوکری کی تلاش میں .کبھی اسکو اپنی اپنا ماں کا زیور بیچ کر اور کبھی اسکو اپنے بوڑھے باپ کی جمع پونجی دے کر ایک معمولی نوکری حاصل کرنی پڑتی ہے اور بدقسمتی سے وہ ایک سرکاری نوکری حاصل کر بھی لے تو ساری عمر اسکو کسے بڑے افسر کی جی حضوری یا کسی وڈیرے کی چاپلوسی میں اپنی بقیہ ماندہ زندگی گزارنا ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی وقت اسکو اس پر کوئی آفت یا اسکو یا اسکے خاندان کے کسی فرد پر ظلم کے پہاڑ ٹوٹ جائے تو انصاف کبھی بھی ایک غریب آدمی کےحصے میں نہیں ایا کیونکہ اول تو اسکو ڈرا دھمکا کر اسکی زبان بند کر دی جاتی ہے یا پیار کے دو جھوٹے بول یا چند کاغذ کے ٹکڑے دے کر اسکی فائل بند کر دی جاتی ہے.
ایسا ہی ایک اور واقعہ لاہور میں رونما ہوا جب نہ زمین پھٹی نہ اسمان گرا جب ایک دیوانے شخص پر ظلم کی انتہا کر دی گئی اور اس بیچارے شخص کو جان سے مار کر لاوارث پھنیک دیا گیا.
سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ظالموں کواگر سزا مل جاتی تو 8مارچ 2023 کا سانحہ پیش نہ آتا، 8 مارچ کو بھی وہی پرانا ماڈل اپنایا گیا، اسی طرح گاڑیوں کو توڑا گیا، اسی طرح عورتوں، بچوں اور بزرگوں کا تقدس پامال کیا گیا زہر آلود آنسو گیس استعمال کی گئی اسی تشدد کی نذر ہو کر علی بلال المعروف ظل شاہ موت کی بانہوں میں چلا گیا،تحریک انصاف کے کارکن علی بلال (جو ظلِ شاہ کی عرفی نام سے زیادہ معروف تھے) بہت سیدھا سادہ اور بھولا بھالا تھا۔ شاید وہ پوری دنیا میں عمران خان کا سب سے بڑا فین تھا۔ تحریک انصاف اس کا جنون تھی۔ ایسا جنون شائد کبھی نہیں دیکھا گیا تھا.
ان کی ہلاکت کے بارے میں تحریک انصاف کا دعویٰ ہے کہ وہ پنجاب پولیس کے تشدد سے مارے گئے۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے مطابق علی بلال کو پنجاب پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کے کیس میں زمان پارک کے باہر سے گرفتار کیا تھا۔
تاہم پنجاب پولیس ان دعوؤں کو مسترد کرتی ہے اور انھوں نے اس واقعے کا مقدمہ پی ٹی آئی قیادت کے خلاف درج کر لیا ہے۔اور دوسری جانب پنجاب کی نگران حکومت نے علی بلال کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے-ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹرز پنجاب نے 2رکنی کمیٹی کی تشکیل کا نوٹیفیکیشن جاری کردیا ہے ، ڈی آئی جی ایلیٹ فورس صادق علی ڈوگر اور ایس ایس پی آئی اے بی، کیپیٹل سٹی پولیس لاہور ،عمران کشور پر مشتمل 2 رکنی کمیٹی واقعہ کے تمام پہلوئوں کا تفصیلی جائزہ لے کر 3روز کے اندر رپورٹ جمع کروائے گی اسکا فیصلہ کیا ہونا ہے یہ میں بھی جانتا ہوں اور اسکا مطلب پاکستانی عوام کا ایک ایک بچہ جانتا ہو اور سمجھتا ہے کہ ہزاروں ایسی خصوصی کمیٹیاں قائم ہوئی اور ایسی دفن ہوئی کہ اسکا سراغ اجتک نہ ملا-
علی بلال المعروف ظل شاہ موت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ اسے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا جب کہ اس کی کھوپڑی میں فریکچر اور اس کے نتیجے میں خون بہنے کو موت کی وجہ قرار دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق اس کے جگر، تلی اور اعضائے مخصوصہ کو بھی نقصان پہنچا، جس کی وجہ سے بہت زیادہ خون بہا۔
علی بلال کے والد نے بتایا کہ ’جب بھی عمران خان کی کال آتی تو وہ شاید پہلا بندہ ہوتا جو سب سے پہلے نکلتا تھا۔’آج کل تو وہ زیادہ وقت زمان پارک کیمپ میں ہی ہوتا تھا۔ رات کو دیر سے (گھر) آتا اور صبح جلدی چلا جاتا تھا۔ اس کی والدہ اس کے لیے رات کو دیر تک جاگتی رہتی تھیں اور صبح جلدی اٹھتیں تاکہ اپنے بیٹے کو رات کا کھانا اور صبح کا ناشتہ دے سکیں۔لیاقت علی کہتے ہیں کہ ’بیٹے کو بھول نہیں سکتا ہوں۔ اپنی ساری زندگی اپنے بیٹے کو یاد رکھوں گا اور اس کے لیے انصاف حاصل کرنے کی جدوجہد کرتا رہوں گا۔‘
آخر میں میرا ایک سوال کرنا تو بنتا ہے کہ کب تک ایے ہزاروں علی بلال المعروف ظل شاہ ایسے اپنی جانیں دیتے رہیں گے کب تک ایسی کہانیان جنم لیتی رہیں گی کب تک صرف غریب ہی موت کی چکی مین پستا رہیں گا اور کب تک پھر انصاف کیلیے در بدر کی ٹھوکریں کھاتا رہیں گا،کیا کبھی ایک عام اور غریب آدمی کے لیے بھی رات کو عدالتیں کھلے گی کیا کبھی غریب کی فریاد پر بھی از خود نوٹس لیا جائے گا.کب تک یہ انصاف کا دہرا معیار قائم رہیں گا- اسکا جواب تو کسی کو دینا ہوگا
سنا ہے کہ ظلم پر خاموش رہنے والوں کا شمار بھی ظالموں میں ہوتا ہے اس لئے میں یہ سطور لکھ رہا ہوں کہ کم از کم میرا ضمیر مجھے ملامت نہ کرے اور میرا شمار ظالموں کی صف میں نہ ہو۔ہماری تو بس آخر میں اللہ سے ایک ہی دعا ہے کہ اللہ تعالی علی بلال المعروف ظلِ شاہ کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں