لیول پلینگ فیلڈ
تحریر: میاں وقارالاسلام
ٹائرون ڈیلی ہیرالڈایک امریکی اخبار ہے ، اس کی اشاعت ٹائرون، پنسلوانیا، اور خطے ، شمالی بلیئر کاؤنٹی ، سینٹر اور ہنٹنگڈن کاؤنٹیز کے قریبی علاقوں میں ہوتی ہے۔ یہ اخبار تقریبا 154 سال پرانا ہے۔” لیول پلینگ فیلڈ” یہ جملہ سال 1900 سے ٹائرون ڈیلی ہیرالڈ نامی اخبار میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ علامتی طور پر یہ جملہ میدانی کھیلوں میں درکار انصاف پسندی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ناانصافی یہ ہوتی تھی کہ ڈھلوان واضح طور پر ایک طرف رکھی جاتی تھی، مثال کے طور پر، فٹ بال اور رگبی کے لیے جو کسی ایک ٹیم کے لیے فائدہ مند ہو۔
پاکستانی سیاسی میں اگر دیکھا جائے تو لیول پلینگ فیلڈ کبھی بن ہی نہیں پائی، بلکہ یہا ں ہمیشہ این آراو پلینگ فیلڈ ہی مانگی جاتی رہی ہے۔ لیول پلینگ فیلڈ کی ڈیمانڈ کرنے والوں کو تھوڑی سی تاریخ پڑھ لینی چاہیے کہ ان کے بڑے یہاں مطالبہ کس چیز کا کرتے رہے ہیں۔ اور اگر موجودہ امپورٹیڈ سرکار کی بات کی جائے تو یہ تو آئی ہی این آراو پلینگ فیلڈ سے ہے۔ اور جب یہ سارے پی ڈی ایم والے ننگے ہو گئے ہیں تو یہ کس منہ سے لیول پلننگ فیلڈ کی بات کر سکتے ہیں۔
سر پر درجنوں کیسز ہوں اور میدان چھوڑ کی ہی رفوچکر ہونے میں عافیت سمجھ جائے تو ایسے بھگوڑوں کا تو لیول پلینگ فیلڈ میں آنا ہی نہیں بنتا ۔ یہ تو نظریں جمائے باہر تشریف رکھتے ہیں جب تک ان کے لیے این آراو پلینگ فیلڈ تیار نہ ہو جائے۔
وہ کہتے ہیں ناں کہ دُوْدْھ کا جَلا چھاچْھ بھی پُھونْک پُھونْک کر پیتا ہے، یہی حال ہے میاں نواز شریف کا بھی، باوجود اس کے کہ انہیں این آراو پلینگ فیلڈ بھی مل چکی ہے مگر ایسے ڈرے بیٹھے ہیں کہ صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں۔
مریم صاحبہ کو چاہیے کہ لفظوں کے انتخاب میں احتیاط کیا کریں، سب کچھ تو ڈبو چکی ہیں اور کتنا ڈبوئیں گی، انشاءاللہ اگر یہاں این آراو پلینگ فیلڈ کا خاتمہ ہو گیا اور لیول پلینگ فیلڈ تیار ہو گئی تو وہی وہ گا جس کا رانا ثنا اللہ اقرار کر چکا ہے کہ ہماری نفی ہو رہی ہے۔ جناب آپ کی نفی ہو نہیں رہی 24 مارچ کے جلسے نے آپ کو بتا دیا ہے کہ آپ منفی ہو چکے ہیں۔
سال بھر کا وقت آپ کو ناجائز طور پر مل چکا ہے اور آپ نے ایک بھی جائز کام نہیں کیا جس سے آپ کی عزت میں کچھ تو اضافہ ہوتا، بلکہ آپ مذید دلدل میں پھنستے ہی چلے جا رہے ہیں۔ یہی نتیجہ ہوتا ہے چور رستوں سے آنے جانے کا۔ تو اپنا لیول اپنے جیسے پی ڈی ایم کے چوروں کے مربے میں تلاش کیجئے جہاں کم یا زیادہ سب نے این آر او کے مزے حاصل کئے ہوئے ہیں۔
پھر بھی اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپ لیول پلینگ فیلڈ میں آ کر کھیلیں تو پہلے اپنے جرائم کا اعتراف کریں، جو مقدمات آپ پر ہیں ان کا سنجیدگی سے سامنا کریں ، اور جیسے رانا ثنا اللہ کہتا ہے کہ ہم خود کو بچانے کے لیے کچھ بھی غلط کر گزریں گے تو پھر ایسے تو اس میں آپ ہی کی خرابی ہے۔ اور جو بھی آپ آج اپنی جماعت میں خرابی دیکھتے ہیں وہ اسی طرح کے رویوں کی وجہ سے ہے۔