اتوار کو ہونے والے سندھ کےدوسرے مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی کے نتائج میں تاخیراس وقت دیکھنے میں آئی، رات ڈھائی بجے تک بیشتر حلقوں کے نتائج نہ آسکے اور صورتحال مبہم رہی۔ جبکہ حیدرآباد، بدین، ٹھٹھہ، میٹاری، سجاول، گھارواور میہڑ کے الیکشن نتائج رات دس بجے تک آگئے تھے،کراچی کے نتائج بھی رات دس بجے تک معمول پر آتے رہے تاہم اچانک نتائج آنے کا سلسلہ رک گیا، امیدوار رات گئے تک منتظرتھے، سیاسی جماعتوں نے نتائج میں تاخیر پر تشویش اظہار کرتے ہوئے دھاندلی کے الزامات لگائے گئے ہیں، دوسری جانب ڈی آر اوز کا کہنا ہے کہ،رزلٹ جمع کررہے ہیں، الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان کا کہنا ہے کہ نتائج جمع کرنے کا عمل پیچیدہ ہےاس وقت لگ رہا ہے، الیکشن کمشنر سندھ کا کہنا ہے کہ شکایات کے بعد کے بعد فارم 11 اور 12 پولنگ ایجنٹ کو فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے، دوسری جانب جماعت اسلامی نے کراچی سے 100 یوسیز پیپلزپارٹی نے 85یوسیز اور تحریک انصاف نے 48یوسیز پر کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق حافظ نعیم، شمیم نقوی، نجمی عالم، جیت گئے، جبکہ خرم شیر زمان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق گلشن اقبال اور نارتھ ناظم آباد ٹائون میں جماعت اسلامی آگے ہے جبکہ، لیاری، بلدیہ، ابراہیم حیدری میں میں پی پی کو سبقت حاصل ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج تاخیر کا شکار ہوگئے ہیں۔الیکشن کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نتائج کی تیاری پر کام جاری ہے۔نتائج کے اجراء پر تاخیر پر پیپلز پارٹی نے تشیویش کا اظہار جبکہ جماعت اسلامی، تحریک انصاف نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔دونوں جماعتوں نے کہا ہے کہ نتائج میں مبینہ دھاندلی اورتاخیر کو قبول نہیں کیا جائے گا۔اس کیخلاف بھرپور احتجاج کیا جائیگا۔تینوں جماعتیں اکثریت کادعویٰ کررہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ میئر کراچی انکا ہوگا۔ ان جماعتوں کے ترجمان کے دعویٰ کے مطابق پیپلز پارٹی 80 سے زائد، جماعت اسلامی 100سے زائد تحریک انصاف کو 48 یوسیز پر کامیابی حاصل ہورہی ہے۔تاہم یہ غیر حتمی اور غیر سرکاری دعویٰ ہے حتمی نتاِئج الیکشن کمیشن جاری کرے گا۔پیپلزپارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے پر اپنے بیان میں کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پیپلز پارٹی نےسوئپ کرلیا ہے۔جیت کا نشان ۔۔تیر کا نشان۔۔۔پیپلزپارٹی کے رہنماء مرتضی وہاب نے دعویٰ کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی کی اکثریت یوسیز میں سبقت حاصل ہے۔پیپلز پارٹی میڈیا سیل نے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے حوالے سے بتایا کہ کیماڑی ۔ملیر میں پیپلز پارٹی کو سبقت حاصل ہے۔ان میں اکثر یوسیز جیت لی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پی پی کو لیاری کی یوسیز میں کامیابی ملی یے جبکہ جنوبی، شرقی، کورنگی کے ساتھ وسطی میں بھی بیشتر یوسی جیت لی ہیں۔میڈیا سیل کو دعویٰ ہے کہ پیپلز پارٹی کے امیدوار نجمی عالم نے خرم شیرزمان کو ہرا دیا ہے۔پی ٹی آئی کے اشرف قریشی اور فردوس شمیم نقوی کو ہرانے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔میڈیا سیل کا دعویٰ ہے کہ اطلاعات ہیں کہ 80 سے زائد یوسیز پر ان کو فتح مل رہی ہے۔پی ٹی آئی کراچی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ تحریک انصاف کو 50 سے زائدیوسیز پر فتح حاصل ہورہی یے ۔خرم شیر زمان اور فردوس شمیم نقوی کو فتح حاصل ہورہی ہے۔اشرف قریشی کو اطلاعات کے مطابق کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ترجمان نے کہا کہ دھاندلی کے خلاف احتجاج اور عدالت سے رجوع کرینگے۔جماعت اسلامی اسلامی میڈیا سیل کے مطابق حافظ نعیم الرحمن کامیاب ہوگئے ہیں۔ جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرجمن نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک ہم سو یوسیز جیت چکے ہیں۔میئر جماعت اسلامی کا ہوگا۔واضح رہے کہ حافظ نعیم الرحمن میئر کے امیدوار ہیں۔ ترجمان جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کو وسطی اور شرقی کی اکثر یوسیز پر سبقت حاصل ہے۔ ٹی ایل پی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تین یوسیز ہم جیت چکے ہیں۔15 سے زائد یوسیز میں برتری حاصل ہے۔رات گئے نتائج کی تیاری جاری تھی آر او کے دفاترکے باہر امیدوار نتائج کےمنتظر تھے۔ دریں اثناء صوبائی الیکشن کمشنر سندھ اعجاز انور چوہان نے رات دو بجکر 40 منٹ پر میڈیا کو بھیجے گئے اپنے ایک مراسلے میں کہا ہے کہ تمام پولنگ اسٹیشنز سے نتائج آر اوز کے دفاتر پہنچ رہے ہیں یہ گھبیر عمل ہوتا ہے، ایک یوسی کا رزلٹ بنانے میں وقت لگتا ہے ہر یوسی کے چار وارڈ ہیں اور اوسطاً 20 پولنگ اسٹیشنز ہیں ایک بھی پولنگ اسٹیشن کا نتیجہ نہ آئے تو ایک یوسی کا نتیجہ مکمل نہیں ہوتا ہر آر او کے پاس تقریباً پانچ یوسیز ہیں اس لیے نتائج آنے میں وقت لگ رہا ہے، کمپیوٹر ایکسل پر رزلٹ بن رہا ہے ان انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم نہیں ہے۔ غیر سرکاری غیر حتمی نتائج کے مطابق بلدیاتی انتخاب کے دوسرے مرحلے کی گنتی جاری تھی تاہم کوئی بھی جماعت حتمی اکثریت حاصل نہیں کر پائی جماعت اسلامی پی پی پی اور ٹحریک انصاف نے اکثریتی نشست حاصل کرنے کا دعوی کیا ہے ضلع کیماڑی میںتوار 15 جنوری کوکو ہونے والے انتخاب میں پولنگ صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہی کراچی کے نتاٗج رات دس بجے کے بعد آنا بند ہو گئے جماعت اسلامی کراچی کے امیر نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انکے پولنگ ایجنٹوں کو فارم 11 اور 12 نہیں دئے جا رہے اگر ایک گھنٹے میں مزکورہ فارم جاری نا کئے گئے تو ہم وزیر اعلی ہاوس کے سامنے دھرنا دینگے یا پھر شہر کے مختلف علاقوں مین دھرنے دئے جائینگے پی پی لے مرتضی وہاب نے جماعت اسلامی کے الزمات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کی سیاست کا محور دھرنا ہے اب یہ دھاندلی کے الزمات لگائے گے کراچی کے 246یوسیز کے نتائج میں گیر معمولی تاخیر ہوئی اس ضمن میں کوئی ذمہ دار افسران جواب دینے سے اجتناب برتے رہے کرکراچی ڈویژن کے 7 اضلاع میں 4990 پولنگ اسٹیشنزقائم کردیے گئے،84 لاکھ 5 ہزار 475 ووٹرزاپنا حق رائے دہی استعمالکرنا تھاکراچی ڈویژن میں چیئرمین، وائس چیئرمین اور جنرل ممبر کی نشست کیلئے 9 ہزار 58 امیدوار میدان میں تھے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں بے یقینی کے باعث سیاسی جماعتیں مؤثر انتخابی مہم نہ چلاسکیں۔کراچی ڈویژن کے 7 اضلاع میں 4990 پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کردیے گئے ہیں۔نے بلدیاتی انتخابات کی پولنگ کے لیے کراچی میں 4990 پولنگ اسٹیشنز بنائےتھے جن میں سے 3415 کو حساس، 1496 کو انتہائی حساس اور 79 کو نارمل قرار دیا گیا تھا۔کراچی ڈویژن میں چیئرمین، وائس چیئرمین اور جنرل ممبر کی نشست کیلئے 9 ہزار 58 امیدوار میدان میں تھے۔کراچی سے چیئرمین اور وائس چیئرمین کے پینل اور جنرل ممبر کی نشست پر مختلف یونین کمیٹیوں سے 7 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوچکے ہیں۔کراچی ڈویژن کی جنرل ممبرز اور چیئرمین اور وائس چیئرمین کی 22 نشستوں پر امیدواروں کے انتقال کے باعث انتخابات 15 جنوری کو نہیں ہوں گے۔انتقال کرنے والے امیدواروں میں مختلف یونین کمیٹیوں کے 9 چیئرمین اور وائس چیئرمین جبکہ 13 جنرل ممبرز کے امیدوار بھی شامل ہیں۔جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن بھاری اکثریت سے ضلع سینٹرل سے کامیاب ہوئے جبکہ پی ٹی آئی کے رکن سندھ اسمبلی فردوس شمیم نقوی نے بھی کامیابی سمیٹی سابو ایم پی اے یمایو محمد خان ماڑی پور ٹان سے بھاری اکچریت سے کامیاب ہو گئے رات گئے تک کسی بھی جماعت کی برتری واضح نہیں تھی، الیکشن میں شریک تین جماعتوں پی پی، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی نے اپنی اپنی سبقت کے دعوے کئے ہیں،غیر سرکاری ابتدائی نتائج کے مطابق جماعت اسلامی کے حافظ نعیم الرحمان، پی پی کے نجمی عالم نے کام یابی حاصل کرلی ہے، پی ٹی آئی جس نے2018کے عام انتخاب میں کراچی سے بڑی کامیابی حاصل کی تھی اس کے کئی اہم امیدواروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، اشرف جبار قریشی، خرم شیر زمان ہا ر گئے،ضؒع سینٹرل میں جماعت اسلامی کو کورنگی میں ٹھیک لبیک ۔جماعت اسلامی پی پی پی کو ملیر میں پی ٹی آئی پی پی پی اور جماعت اسلامی کو ضلع غربی میں تحریک لبیک ،جماعت اسلامی اور پی پی پی کو ضلع کیماڑی میں پی پی پی کو جلع جنوبی میں پی پی پی اور ٹحریک انصاف کو جلؑ شرقی میں جماعت اسلامی اور پی پی پی کو سبقت حاسل ہے کیماڑی کی 32یو سیز میں سے پی پی پی 16 تحریک لبیک جماعت اسلامی 2 شرقی کی 43یو سیز میں سے جماعت اسلامی 16 پی پی پی 6 ضلع جنوبی میں 26 میں سے8پی ٹی آئی ک جماعت اسلامی کو 4 پی پی پی کو8 پر سبقت حاسل ہے ضلع غربی میں جماعت اسلامی کو 33 سے10پی پی پی کو 4پی ٹی آئی کو 4جے یو آئی کو ایک ٹھریک لبیک کو 4 سبقت حاسل ہے ملیر کی30 یو سیز میں سے پی پی پی کو10 جماعت اسلامی کو 4تحریک انصاف کو 2 پر سبقت ھاصل تھی ضلع کورنگی میں 37 یو سیز میں سے 4 پر پی ٹی آئی کو 4 ،4 پر پی پی پی اور تحریک لبیک کو 2 پر پی ٹی آئی کو 3پر جماعت اسلامی کو سبقت حاسل ہے جلؑ وسطی کی45 میں سے جماعت اسلامی کو 8 پی پی پی اور پی ٹی آئی کو 4,4 نشستوں پر برتری حاسل ہے رات گئے تک ووٹون کی گنتی جاری تھی تاہم سیاسی حلقوں نے یو سیز کے نتائض پر غیر معمولی تاخیر پر حیرت کا اظہار کیا ہے۔
72