پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف چار سال بعد وطن واپس پہنچ گئے۔ لاہور ایئرپورٹ پر سابق وزیراعظم شہباز شریف اور ن لیگی رہنماؤں نے نواز شریف کااستقبال کیا۔ کارکنان نے بھی اپنے قائد کا تاریخی استقبال کیا اور خوشی سے نہال ہوگئے۔مینار پاکستان پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میں انتقام لینا نہیں چاہتا بلکہ ملک کی خدمت کرنا چاہتا ہوں ۔آئین پرعمل درآمد کرنےوالےریاستی ادارے ، جماعتیں، سیاستدانوں اور ریاست کے ستونوں کومل کرکام کرناہوگا،کھوئے مقام کو پانے کے لیے ڈبل اسپیڈ سے دوڑنا ہوگا۔ترقی کیلئے کشکول توڑنا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہمسایوں سے لڑائی نہیں کشمیر کیلئے وقار سے آگے بڑھنا ہوگا،لیگی قائد نے کہا کہ آئندہ کسی کو یہ اجازت نہ دینا کہ آپ کے ملک کے ساتھ یہ کھلواڑ کرسکے، میں نے آج بڑے صبر سے کام لیا ہے،میں نے کوئی ایسی بات نہیں کی جو سمجھتا ہوں نہیں کرنی چاہیے، پاکستان کو نئے سفر کی ضرورت ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے زخموں کو نہ چھیڑو ورنہ آنسوؤں کا طوفان آجائیگا۔قائد مسلم لیگ ن نے کہا بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر میری چھٹی کرائی گئی، آپ کو پتا ہے دھرنے کون کروا رہا تھا، اس بنیادی مرض کو دور کرنا ہوگا جس کی وجہ سے ملک بار بار حادثے کا شکار ہوتا ہے،نوز شریف نے کہا تسبیح میرے پاس بھی ہے ، اس وقت پڑھتا ہوں جب مجھے کوئی نہ دیکھ رہاہو، بغل میں چھری منہ میں رام رام یہ مجھے نہیں آتا،فلسطینیوں کیساتھ زیادتی قبول نہیں، دنیا تنازع کا باعزت حل نکالے۔مشرقی پاکستان علیحدہ نہ ہوتا تو دونوں پاکستانوں میں اقتصادی راہداری بن چکی ہوتی، بھارت بھی معترض نہ ہوتا۔ان کا کہنا تھا کہ میں جیلوں میں ٹھونسا گیا ،ساتھیوں پر سزائے موت کے مقدمے بنائے گئے ۔ہم پاکستان کو ا یشین ٹائیگر بنا رہے تھے ،بجلی پٹرول روٹی سستی تھی مگر مجھے نکال دیا گیا ،آج لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں ۔۔نوازشریف نے اپنی تقریر میں شعر بھی پڑھے، اپنےخطاب کے آغاز میں انہوں نے شعر پڑھا ”کہاں سے چھیڑوں فسانہ کہاں تمام کروں، وہ میری طرف دیکھیں تو میں سلام کروں“انہوں نے مرزاغالب کا شعر سنایا ’غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوش اشک سے بیٹھے ہیں ہم تہیہ طوفاں کیے ہوئے‘۔اس کے علاوہ افتخار عارف کا شعربھی پڑھا ’مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے،، وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے۔اس سے قبل نواز شریف دبئی سے خصوصی طیارے کے ذریعے براستہ اسلام آباد لاہور پہنچے۔نواز شریف کے استقبال کے لیے مینار پاکستان میں پارٹی پرچموں کے ساتھ کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی، نواز شریف جب اسٹیج پر پہنچے تو قومی ترانہ بجایا گیا اور شہباز شریف نے وزیراعظم نواز شریف کے نعرے لگوائے اور کارکنوں نے بھرپور جواب دیا، جس کے بعد تلاوت کلام پاک اور نعت پڑھی گئی۔نواز شریف نے تقریر شروع کرنے سے قبل امن کی علامت فاختہ کو فضا میں چھوڑا۔اپنے خطاب میں مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ میرے دل میں انتقام کی تمنا نہیں، میری تمنا ہے میری قوم خوشحال ہو، میں اس قوم کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کون ہیں جو نواز شریف کو ہر چند سال بعد قوم سے جدا کر دیتے ہیں، ہم نے تو ملک کی تعمیر کی، ایٹم بم بنایا، لوڈ شیڈنگ ختم کی ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ یہ پوری لائن ہے، ہم سب لوگوں کے خلاف کیسز بنائے گئے مگر کسی نے ن لیگ کا جھنڈا نہیں چھوڑا، بجلی میں نے تو مہنگی نہیں کی، نواز شریف نے بجلی مہنگی نہیں کی۔ نواز شریف نے کہا کہ مجھے پتہ ہے آپ کیا سننا چاہتے ہیں، آئی لو یو ٹو، کچھ دکھ درد ایسے ہوتے ہیں جو انسان بھلا تو نہیں سکتا مگر کچھ دیر کے لیے ایک طرف رکھ سکتا ہے۔سابق وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کا نام لینا نہیں چاہتا وہ فرق برقرار رکھنا چاہتا ہوں جو میری تربیت ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ دنیا کے طاقتور ترین صدر نے کہا دھماکے نہ کرنا مگر ہم نے دھماکے کیے، میری جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ امریکا کے صدر کے آگے بول سکتا تھا؟ کیا اسی بات کی سزا ملتی ہے، کیا اسی لیے ہماری حکومتیں توڑ دی جاتی ہیں؟انہوں نے مزید کہا کہن کا کہنا تھاکہ یہ ہماراملک ہے، یہاں پیدا ہوا ہوں، پاکستان کی محبت میرے دل میں ہے، اینٹ کا جواب پتھر سے دوں، میں ایسا نہیں کرتا، مجھے 5 ارب ڈالر کی پیش کش تھی، وزارت خارجہ میں اس کا ریکارڈ موجود ہوگا، پچھلی حکومت کے لوگ ایک، ایک ارب ڈالر کی بھیک مانگ رہے تھے، دنیا کا طاقتور صدر مجھے کہہ رہا تھا دھماکے نہ کرنا لیکن ہم نے دھماکے کیے، میری جگہ کوئی اور ہوتا تو کیا وہ امریکی صدر کے خلاف بول سکتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہمیرے دور میں روٹی 4 روپےکی تھی، آج 20 روپے کی ہے، اس لیے مجھے نکالا، اس لیے میری چھٹی کرائی؟ اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی، اس لیے وزارت عظمیٰ سے نکالا، میرے دور میں پیٹرول 60 روپے لیٹر ملتا تھا، میرے دور میں ڈالر104 روپے کا تھا، مجھےاس لیےنکالاتھا کہ اس نے ڈالر کو ہلنے نہیں دیا، 1990 میں جو کام ہم نے شروع کیے تھے اگر جاری رہتے تو آج ملک میں کوئی بیروزگار نہ ہوتا۔ان کا کہنا تھاکہ غریب کے پاس اتنا پیسہ ہوتا کہ وہ اپنا علاج کراسکتا، آج ادھار لےکربجلی کابل دینا پڑتا ہے،لوگ خودکشیاں کررہے ہیں، ہمارے زمانے میں چینی 50 روپے کلو تھی، ہمارے دور میں دھرنے ہو رہے تھے لیکن ہم اپنا کام کرتے جارہے تھے، اسکردو موٹروے اور لواری ٹنل بھی ہم نے بنائی، ملتان سے سکھر موٹروے ہم نے بنائی۔ہمارا بیانیہ پوچھنا ہے تو ہماری اخلاقیات سے پوچھو، ریاست کے ستونوں کو آئین کےمطابق مل کرکام کرنا ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ 40 سال کا نچوڑ بتا رہا ہوں، مل کرکام کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، سب کو اکھٹا ہونا پڑےگا، بنیادی مرض دور کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے ملک باربار حادثے کا شکار ہوجاتا ہے، 4 سال بعد بھی میرا جوش و جذبہ مانند نہیں پڑا، ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کس طرح کھویا ہوا مقام حاصل کرنا ہے، ڈبل اسپیڈ کے ساتھ دوڑنا ہوگا اور کس طرح ہاتھوں میں پکڑا کشکول توڑنا ہوگا اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہوگا۔ان کا کہنا تھاکہ ہم اپنے ہمسائیوں کے ساتھ لڑائی کرکے ترقی نہیں کرسکتے، کشمیر کے حل کےلیے ہمیں باوقار طریقے سے تدبیر کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا، میرے دل میں رتی برابر بھی بدلے اور انتقام کی خواہش نہیں۔لیگی قائد نے کہا کہ آئندہ کسی کو یہ اجازت نہ دینا کہ آپ کے ملک کے ساتھ یہ کھلواڑ کرسکے، میں نے آج بڑے صبر سے کام لیا ہے، ایسی کوئی بات نہیں کی جو مجھے نہیں کرنی چاہیے تھی۔سابق وزیراعظم نے فلسطین کا پرچم لہرایا اور کہا کہ فلسطین پرظلم کی مذمت کرتے ہیں، اللہ فلسطین کی مدد کرے، دنیا سے مطالبہ کرتے ہیں فلسطین کا حل نکالو۔ان کا کہنا تھاکہ ہم نے گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، راستہ کھٹن ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، برآمدات بڑھانا ہے، زراعت کی انقلابی اصلاحات کرنی ہیں، ہم نے پاکستان کو آئی ٹی پاور بنانا ہے، ہم نے پہلے بھی کیا ہے اب بھی کرکے دکھائیں گے۔نواز شریف کا کہنا تھاکہ تسبیح میرے پاس بھی ہے لیکن میں اس وقت پڑھتا ہوں جب مجھے کوئی نہ دیکھ رہاہو، بغل میں چھری منہ میں رام رام یہ مجھے نہیں آتا، اللہ سے لو لگا کر آپ جو مانگیں گے وہ آپ کوعطا کرے گا، ندامت کا ایک آنسو سارے گناہ دھو دیتا ہے۔نواز شریف نے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے کبھی گالی کا جواب گالی سے نہیں دینا، آپ ملت کے مقدر کا ستارہ ہیں، راستہ کٹھن ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں ہے، ہم مل کر پاکستان کی دوبارہ تعمیر نو کریں گے۔ بجلی کےنرخ اور ڈالر کی قدر کم کریں گے، بے روزگاری کا خاتمہ کریں گے، موٹرویز بنائیں گے، پاکستان کو آئی ٹی پاور بنائیں گے، درآمدات بڑھائیں گے۔آخر میں انہوں نے عوام کو کچھ روحانی نصیحتیں کیں اور عوام کیلئے دعائیں کرتے ہوئے اپنی تقریر کا اختتام ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے سے کیا۔دریں اثنا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم 9 مئی والے نہیں، ہم 28 مئی والے ہیں۔ اللہ تعالی کے فضل و کرم سے سرخرو ہو کر چار سال بعد وطن واپس آیا ہوں۔ انتخابات سے متعلق بہتر فیصلہ الیکشن کمیشن ہی کر سکتا ہے، انتخابات سے متعلق میری ترجیح وہی ہے جو الیکشن کمیشن ٹھیک سمجھتا ہے۔ پاکستان میں اضطراب والے حالات ہیں جو پریشان کن ہیں، حالات ہم نے بگاڑے بھی خود ہی ہیں ٹھیک بھی خود ہی کرنے ہیں۔ بہت ہی اچھا ہوتا کہ آج 2017ء کے مقابلے میں حالات بہتر ہوتے، دکھ کی بات ہے کہ ملک آگے جانے کے بجائے پیچھے چلا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جو ملک آئی ایم ایف کو بھی خدا حافظ کہہ چکا تھا وہ مسائل کا شکار ہے، وہ پاکستان جہاں لوڈشیڈنگ ختم ہو گئی تھی اور علاج کی سہولت موجود تھی کیا وہ پاکستان آج نظر آتا ہے؟۔نواز شریف نے کہا کہ 2017ء میں پاکستان میں روزگار مل رہا تھا اور علاج کی سہولت تھی، نوبت یہاں تک کیوں آئی، ہم اس قابل ہیں کہ ملک کے مسائل حل کر سکیں۔ نواز شریف نے کہا کہ میری بیٹی کو بھی بلآخر کلین چٹ ملی اور وہ ملنی ہی تھی، مریم نواز کے پاس کوئی سرکاری آفس نہیں تھا اس کو تو ویسے ہی دھر لیا گیا تھا، میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ سب کچھ اللّٰہ پر چھوڑتا ہوں۔اس سے قبل نواز شریف گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ مینار پاکستان پر ہونے والے جلسہ گاہ میں پہنچے تھے۔مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف، اسحاق ڈار اور دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ موجود تھے، جلسہ گاہ میں نواز شریف کی آمد پر آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔حمزہ شہباز گاڑی ڈرائیو کرکے نواز شریف کو جلسہ گاہ لائے۔نواز شریف اسٹیج پر پہنچے تو بھائی شہباز شریف کو گلے لگایا اور دیگر رہنماؤں سے بھی گلے ملے۔سابق وزیراعظم نے اسٹیج پر بیٹی مریم کو گلے لگایا اور آبدیدہ ہوگئے، اس دوران مریم بھی روتی رہیں۔جلسہ گاہ میں فلسطین کے حوالے سے قرار داد بھی منظور کی گئی۔خواجہ سعد رفیق نے تقاریر شروع ہونے سے قبل قرارداد پیش کی کہ فلسطین پر اسرائیل کا ناجائز قبضہ فوری طور پر ختم کیا جائے، کشمیر پر بھارت کا غیرقانونی تسلط ختم کردیا جائے اور کارکنوں نے قرارداد کے حق میں نعرے بلند کیے۔
89