95

علم علم علم، آخر کتنا علم تحریر: میاں وقارالاسلام

علم علم علم، آخر کتنا علم
تحریر: میاں وقارالاسلام

اپنے من میں ڈوب کر پاجاسراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بَنتا نہ بَن اپنا تو بَن
عَلامہ محمد اِقبال

علم علم علم، آخر کتنا علم، تباہ حال معاشروں پر دنیا کے بڑے بڑے معلم گزر گئے یہاں تک اللہ کے پیغمبر بھی آئے مگر بہت سارے بدحالوں کی بدحالی پر فرق نہیں پڑا، فرق تو صرف انہیں پڑا جو ہدایت یاب ہوئے، جنہوں نے اللہ کا فضل مانگا اور جن پر اللہ کا فضل ہوا۔

شاید اسی لیے کہا گیا کہ دل مردہ ہوتے ہیں اور مردو دلوں پر کچھ اثر ہی نہیں ہوتا، یہ پتھر ہو جاتے ہیں یا اس سے بھی سخت۔ عذابِ الہیٰ یوں ہی تو نہیں آ جاتا، یقینا وہاں کے رہنے والوں کا بوجھ زمین اٹھانے کے قابل ہی نہیں رہتی۔ یقینا اللہ کی پکڑ سخت ہے اللہ جب چاہتا ہے جہاں چاہا ہے جس کی چاہتا ہے پکڑ کر لیتا ہے اور وہ پکڑ کرنے پر قادر ہے۔

بہت سی قومیں ہدایت پا لینے کے بعد گمراہ ہو گئیں، کیوں کہ وہ پھر راستے سے بھٹک جاتی تھیں۔ اور ایک ہم ہیں جو کبھی راستے پر آئے ہی نہیں ہیں، اور ہمیں فکر بھی نہیں ہے کہ ہم نے کبھی راستے پر آنا بھی ہے یا نہیں۔

شاید ہمارا حال بھی ان بستیوں والا ہی ہے جہاں سنانے والے تو بہت آتے تھے مگر عمل نہ کرنے والے تمسخر ہی اڑاتے تھے، اور پھر ان کا تمسخر ہی بنا اور تو کچھ نہیں بنا۔ اللہ نے ہمیں صرف اختیار ہی نہیں دیا ٹھیک ٹھاک اختیار دیا ہے، اور سب سے بڑھ کر ایک دماغ بھی دیا ہے جو بیٹھ رہنے والے کبھی استعمال ہی نہیں کرتے۔

جانے ہم کب ایسی قوم بنیں گے جو اپنا احتساب کر سکے، ہمیں تو بس دوسروں کا حساب کرتے جانا ہے اور دوسرے بھی وہ جو ہمیشہ ہمارا حساب کتاب لے کر بھاگ جاتے ہیں۔ ہمیں حساب بھی نہیں دیتے اور ہمیں کتاب بھی نہیں دیتے، خود بھی جاہل ہیں اور قوم کو بھی جاہل رکھنا چاہتے ہیں۔

دنیا کہاں کی کہاں چلی گئی، نئے علوم نے پرانے علوم کو ردی کر دیا ہے، اور ہم خوابِ غفلت سے ہی نہیں جاگ رہے۔ ہمارے لیے کوئی کچھ نہیں کر رہا، ہم خود تو اپنے لیے کچھ کر سکتے ہیں۔ لازمی نہیں کہ تعلیمی ادارے اپ کو پرانا علم دیں اور آپ اُسی پرانے علم پر انحصار کئے رہیں۔ بہت کچھ نیا ہے جو ایسا ہے کہ کئی سال بعد یونیورسٹیوں کے تعلیمی نصاب میں شامل ہو گا۔ مگر آپ اسے آج سیکھ سکتے ہیں۔ اپنے بل بوتے پر سیکھ سکتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ ہیں جو سیکھ رہے ہیں اور اپنی زندگیاں آسان کر رہے ہیں۔

کہتے ہیں کہ علم باٹنے سے بڑھتا ہے، جانے ہمیں کون سیکھا گیا کہ علم کاٹنے سے بڑھتا ہے اور ہم علم کا توڑ ڈھونڈنے میں زندگیاں ضائع کر دیتے ہیں۔ ہمیں فلمیں اور ڈرامے چاہیں اور ڈرامے بھی ساس بہو والے جو کبھی ختم ہی نہ ہوں۔ جبکہ نہ ایسی ساس اب کہیں ملتی ہے اور نہ ہی ایسی بہو کہیں ملتی ہے مگر ہمیں ڈراموں میں ایسی مخلوق دیکھانی ہے۔ غریب مخلوق کو عجیب و غریب مخلوق دیکھنی ہے۔

کل ایک سٹوڈینٹ نے بات کی کہ میں تو اپنے ٹیچر سے آگے نہیں بڑھ سکتی ، تو میں نے کہا اس کا مطلب ہے کہ ٹیچر آپ کو اچھے سے نہیں پڑھا رہیں، تو وہ کہتی ہے کہ نہیں نہیں ٹیچر تو بہت اچھے سے پڑھا رہی ہے تو میں نے کہا پھر آپ میں اعتماد کیوں نہیں ہے کہ آپ نے اپنے ٹیچر سے بہت آگے جانا ہے۔ ٹیچر کے پاس اپنی زندگی کا تجربہ ہے مگر نوجوانوں کے پاس ایک جوان ذہن ہے جو بڑی تبدیلی لا سکتا ہے۔ اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے پاس دورِ حاضر کا بہت سا علم ہے اور موجودہ ٹرنڈز کو بھی یوتھ سمجھتی ہے، اگر یوتھ میں سپارک ہے تو یقینا وہ طاقت رکھتے ہے کہ اپنے دور کو پرانے دور سے یکسر بدل دے۔ اور پڑھانے کا بنیادی مقصد ہی یہی ہوتا ہے کہ جو کمی ایک دور میں رہ گئی ہے وہ آنے والے دور میں نہ رہے۔
ایک اور سٹوڈینٹ نے بات کی کہا کے ہم نے کمپوٹر لیب بنا لی ہے، ویڈیو پراجیکٹر بھی لے لیا ہے اور اور اب ہم بچوں کو کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم دیں گے۔ میں نے کہا کہہ آپ کیوں انہیں آئی ٹی کے آثارِ قدیمہ میں لے کر جانا چاہتے ہیں۔ جب کہ آپ جانتے ہیں دنیا ٹیکنالوجی کے میدان میں کتنا آگے جا چکی ہے۔ بنیادی چیزوں پر وقت ضائع کرنے کی بجائے آپ انہیں فیوچر ٹرینڈز پڑھائیں، بجائے اندھیروں کے انہیں روشنیوں کے سفر پر لے کر چلیں۔ اب جانے ان کو کتنی بات سمجھ آئی ہے یا نہیں یہ تو میں کچھ کہ نہیں سکتا۔

ٹیچرز کا کردار گیٹ وے کا ہوتا ہے، ہمیں آج بھی یاد ہیں وہ استاد جنہیں نے ہمارے ساتھ استادی نہیں کی۔ جو آپ کا خیر خواہ ہو گا وہ کبھی آپ کو آدھا رستہ نہیں دیکھائے گا، وہ ہمیشہ آپ کو منزل کا سیدھا پتہ دے گا۔ اور ایسے ہی ٹیچرز کے سٹوڈینٹس اپنی منزلوں تک پہنچتے ہیں۔ آدھا راستہ بتانے والے ٹیچریز بھی فلاپ ہوتے ہیں اور ان کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے والے سٹوڈینٹس بھی کبھی منزل تک نہیں پہنچتے۔

بے شک سارا قصور استادوں کا بھی نہیں ہوتا، بعض دفعہ استاد پوری محنت کرتا ہے مگر طالب علم اپنے ساتھ ہی مخلص نہیں ہوتا تو ہم اکثر کہتے ہیں، تو ہمارا بن نہ بن، مگر اپنا تو بن۔ ہمیں اپنے ساتھ مخلص ہونا ضرور آنا چاہے۔ اگر ہم اپنے ساتھ ہی مخلص نہیں تو ہم کسی کے ساتھ مخلص کیسے ہو سکتے ہیں۔ عمر بھر کی ریاضت اگر ہمیں نہیں بدل سکی تو پھر ہمارے طالب علموں کو کیا بدلے گی۔ یا پھر ہمارے اردگرد کے لوگوں پر کیا اثر لائے گی۔

علم علم علم، آخر کتنا علم، کم سے کم اتنا علم تو ضروری ہے کہ ہماری ذات سے کسی کو نقصان نہ ہو، کم سے کم اتنا علم تو ضروری ہے کہ ہم حق کے ساتھ کھڑے ہو سکے اور جھوٹ کی کھل کر مخالفت کریں۔ ویسے تو ہم بہت پڑھے لکھے لوگ ہیں، مگر کیا ہمارے علم نے ہمارے نفاق کا مرض دور کیا، کیا ہماری جہالت کے اندھیرے ختم ہوئے۔ کہا ہم غفلت کی نیند سے جاگے۔ اگر جاگے ہی نہیں تو پھر ہمیں اپنے آپ کو جگانے کے لیے آخر کتنا علم چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں