انصاف سڑکوں پہ
تحریر: میاں وقارالاسلام
جب جج ہار جائیں، وکیل ہار جائیں، ملزم اور مجرم دونوں کا حساب ایک جیسا ہو جائے، جب عدالتیں غیر فعال ہو جائیں۔ جب فیصلے اوپر سے ہوتے ہیں، تو انجام سڑکوں پر نظر آتا ہے۔
بھٹو کے بارے میں لوگ تقسیم تھے کہ یہ جوڈیشل مرڈر ہے یا پھر عدالتوں نے ٹھیک فیصلہ کیا تھا۔ مگر تاریخ اپنی روش دہراتی رہتی ہے اور اداروں کا احترام جاتا رہتا ہے۔ جب فیصلہ کر لیے جاتے ہیں تو عدالتوں کو بے معانی کر دیا جاتا ہے۔ سارے کے سارے نظام کو بے معانی کر دیا جاتا ہے۔ کو برجمان ہو جاتا ہے کوئی ملک بدر ہو جاتا ہے۔
میں اس حق میں کبھی نہیں تھا کہ نواز شریف کو سڑکوں پر ذلیل کیا جائے یا الطاف کو سڑکوں پر ذلیل کیا جائے یا کسی کو بھی سڑکوں پر انصاف لئے مارا مار پھرنا پڑے۔ اگر فیصلے سڑکوں پر ہی کرنے ہیں تو عدالتوں کا کیا فائدہ ہے۔
لوگ عدالتوں میں انصاف کے لیے جاتے ہیں، کوئی مہنگا وکیل بھی نہیں کر سکتا اور کوئی مہنگا جج بھی کر لیتا ہے تو جس کے پاس پیسہ ہے وہ انصاف خرید لیتا ہے یا جس کے پاس طاقت اور اختیار ہے وہ فیصلے اپنے حق میں کروا لیتا ہے۔
لوگ ایسے شخص کو جاہل کہتے ہیں جو اپنا مقدمہ کئی سالوں تک عدالتوں میں لڑتا رہتا ہے اور فیصلہ کچھ بھی نہیں ہوتاہے۔ بجائے کئی سال ذلیل ہونے کے چند سالوں کی مان لینی چاہیے۔ ایک نقصان کو پورا کرنے عدالت جاتے ہیں دس نقصان اور کروا کر واپس آ جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں نظام میں چور راستے ہیں ہیں، بلکہ چوری کی شاراہیں ہیں، جس میں کرپشن کے بڑے بڑے ٹرک گذر سکتے ہیں۔ ہمار لوگ ہمارے نظام پر اعتماد نہیں کرتے تو باہر کے لوگ ہم پر کیوں اعتماد کریں گے اور کیوں پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔ جب یہاں کے اپنے لوگ سب چھوڑ چھاڑ کر باہر جا رہے ہیں توپھر پارائے کیوں آئیں گے۔ اپنی کمپنیاں بند ہو رہی ہیں تو باہر کی کیوں کام کریں گے۔ بہت سی کمپنیاں پاکستان میں اپنے بزنس آپریشنز بند کر کے واپس جا چکی ہیں، کیا ہمیں کسی بھی چیز سے فرق نہیں پڑتا۔
آخر ہم نے تاریخ سے کوئی سبق لینا ہے یا نہیں لینا۔ جو ہم کرتے آئے ہیں وہی ہم کرتے جا رہے ہیں، بلنڈر پر بلنڈر، غلطی پر غلطی ، آخر کتنی نسلوں نے برباد ہونا ہے آخر کب تک ہم نے یونہی رسوا ہوتے رہنا ہے۔
ہمیں بحثیت قوم ذلیل اور رسوا کیا جا رہا ہے، سوچی سمجھی بربادی کی طرف ہمیں دھکیلا جا رہا ہے۔ وہ کیا جا رہا ہے جو دشمن بھی نہیں کرتا۔ ہمیں آپس میں تقسیم کر دیا گیا ہے ، کون کوشش کرے گا ہمیں پھر سے ایک کرنے کی۔ جو کوشش کرتا ہے یہاں کچھ اچھا ہو اسے ہی عبرت کا نشان بنا دیا جاتا ہے ۔
پہلے ہی لوگوں کا سسٹم پر اعتبار بہت کم ہے ، ایسے حالات پیدا کیے جا رہے ہیں کہ کسی کو خود پر بھی کوئی بھروسہ نہ رہے۔ مثال دی جاتی ہے کہ جنگل کا قانون جنگل کا قانون، آخر جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے۔ ہم نے تو جنگل کے جانوروں کو بھی سڑکوں پر آ کر لڑتے نہیں دیکھا۔ ہم کیسی مخلوق ہیں جو سڑکوں پر اپنے بنیادی حقوق کے لیے مارے مارے پھرتے ہیں۔ ہم کیسے آزاد ہیں کہ ہمیں اپنی آزادی محسوس ہی نہیں ہو رہی۔
بس سر جھکائیں اور اس گلے سڑے نظام کی محکومیت کو تسلیم کر لیں جسے کوئی بھی مہذب معاشرہ کبھی بھی قبول نہیں کرتا، مگر ہمیں یہ سب غیر مہذب روایات کو قبول کر لینا چاہے ہم کون سے مہذب ہیں جو ہمیں تکلیف ہونی چاہیے۔
یہ پڑا ہے انصاف سڑکوں پر ، اسے اُٹھائیں اور اس کی تاثر کو محسوس کریں اور بے حسوں کی طرح سو جائیں۔