110

بلے کا انتخابی نشان بنتا ہے تو پی ٹی آئی کو ملنا چاہیے۔ چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ

بلا پی ٹی آئی کا انتخابی نشان ہوگا یا نہیں؟ سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس حوالے سے الیکشن کمیشن کی درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ اگر بلے کا انتخابی نشان بنتا ہے تو پی ٹی آئی کو ملنا چاہیے۔

ریمارکس میں چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہے کہ ہم نے پی ٹی آئی کے مقدمے کے لیے جوڈیشل کونسل کا اجلاس آگے کیا، پی ٹی آئی انتخابات کرانے آئی تو 12 دن میں انتخابات کی تاریخ دے دی، آپ الیکشن کمیشن کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست لائے تو فوری الیکشن کمیشن سے جواب مانگ لیا، آپ لاہور ہائی کورٹ گئے وہاں لارجر بینچ بنا دیا، آپ لاہور ہائی کورٹ چھوڑ کر پشاور چلے گئے ریلیف مل گیا، اب اور کیا کریں؟ فورم شاپنگ کا لفظ میں استعمال کرنا نہیں چاہ رہا تھا، یہ لفظ استعمال ہوتا ہے جب ایک جگہ سے ریلیف نہ ملا تو دوسرے جگہ بھاگو، اس طرح تو سسٹم خراب ہو جائے گا۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کرے گا۔

جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ میں شامل ہیں۔

الیکشن کمیشن کا عملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا۔

پی ٹی آئی کے وکیل حامد خان بھی سپریم کورٹ پہنچ گئے۔

تحریکِ انصاف کے وکیل حامد خان کمرۂ عدالت میں موجود ہیں جبکہ علی ظفر لاہور رجسٹری سے بذریعہ ویڈیو لنک موجود ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا پشاور ہائی کورٹ کا تفصیلی فیصلہ آ گیا ہے؟

وکیل حامد خان نے جواب دیا کہ تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا۔

مخدوم علی خان نے بلے کا نشان واپس کرنے کا فیصلہ پڑھ کر سنایا۔

وکیل حامد خان نے استدعا کی کہ مجھے تیاری کے لیے پیر تک وقت دے دیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں