109

سپریم کورٹ نے پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد کردیں

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیخلاف درخواستیں مسترد کرتے ہوئے ایکٹ کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ نافذ ہوگیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس اور آرٹیکل 184 تھری سے متعلق اپیلوں پر فیصلہ سنایا، ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کردی گئیں، ازخود نوٹس کا فیصلہ تین سینئر ججز کی کمیٹی کرے گی، سزا کے خلاف اپیل کی جا سکے گی، لیکن ایکٹ کا اطلاق ماضی کے کیسز سے نہيں ہوگا،9 کےمقابلے میں 6 کے تناسب سے اپیل کے حق کی شق کو برقرار رکھا گیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا۔ 10 ججوں نے ایکٹ کے حق میں فیصلہ دیا، 5 نے مخالفت کی۔

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے حق میں فل کورٹ کا اکثریتی فیصلہ سنایا گیا، فیصلے میں کہا گیا کہ 5-10 کے تناسب سے ایکٹ کو برقرار رکھا جاتا ہے، 7-8 کے تناسب پر اپیل کے حق کے ماضی کے اطلاق کی مخالفت کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں